عمر اور علی

اگر میں حضرت عمر بن خطاب کی تعریف کروں تو کیونکہ اب مجھ پر وہابیت ،سلفیت، کٹر سنیت اور اہل تشیع کے لئے نفرت کا سایہ لہرا رہا ہے تو اسکو کاونٹر کرنے کے لئے اس بار مجھ پر نو دس محرم الحرام کو حضرت حسین کی شہادت پرتعریفی کلمات لکھنا فرض ٹھہرا ہے . پھر بھی اہل تشیع کی اکثریت مجھے کٹر سنی اور اپنا مخالف سمجھے گی اگر حضرت امام حسین پر تعریف “حدود” سے نکل گئی تو سنی مکاتب فکر لٹھ لے کر پچھے پڑ جایئں گے اور آپکو کم سے کم فکری شیعہ ضرور سمجھیں گے .کچھ تو کفر کا فتوی بھی جڑ دیں گے..یہ ہے وہ پیرا ڈاکس جو حضرت علی اور حضرت عمر دونوں سے محبت رکھنے والے کو بھگتنا پڑتا ہے .

254316_232798260078981_198199843538823_1033393_5425237_n
کیا ھر محرم الحرام میں حضرت امام حسین کی قربانی میں سیاسی اینگل تلاش کرنے کی بھونڈی کوشش درست اقدام ہے؟ قطعا غلط ہے.
کیا حضرت عمر اور حضرت علی کے یوم شہادت پر “سچائی” اور اصل میں اپنے اپنے فرقے کے تعصب میں خلافت اور دیگر تنازعات کو جان بوجھ کر چھیڑنا صائب ھے؟صریحا گھٹیا حرکت ھے.
کیا لازمی ہے کہ میں ان دو عظیم ترین شخصیات میں سے ایک کو دوسرے سے کمتر ثابت کرنے کی کوشش کروں؟
کیا ھم ان دونوں سے محبت اور فخر کا تعلق نہیں رکھ سکتے؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s