مشکوک بولنگ ایکشن اور تاریخ

وہ منظر حیران کن تھا .عظیم ترین چیمپئین بیٹسمین ڈان بریڈمین کے چہرے پر خوف واضح طور پر دیکھا جا سکتا تھا .آسٹریلیا کے پہلے “ایبورجینل ” یعنی مقامی فاسٹ بولر ایڈی گلبرٹ کے ہاتھ میں گیند تھی ،وہ پچھلی گیند پر نیو ساوتھ ویلز کے اوپنر کو ٹھکانے لگا چکے تھے .اب بریڈمین کریز پر آئے تھے .کوئنز لینڈ کے گلبرٹ نے پہلی گیند اتنی طوفانی کرائی کہ بلا بریڈمین کے ہاتھ سے گر گیا .دوسری گیند اس سے بھی تیز رفتار تھی .اس شعلے جیسے باؤنسر نے بریڈمین کو اپنا سر بچانے کی کوششوں میں زمین پر گرا دیا .اگلی گیند پر گلبرٹ نے بریڈمین کو وکٹ کیپر کے ہاتھوں کیچ کرا دیا .یاد رہے کہ بریڈ مین کا صفر پر آوٹ ہونا ایک غیر معمولی حادثہ تھا .  وہ اپنے کیریئر میں تین سو اڑتیس اننگز میں صرف سولہ بار صفر پر آوٹ ہوے .بریڈمین کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ ورلڈ لیڈنگ اعداد و شمار کے ماہر چارلس ڈیوس نے انھیں دنیا کی سپورٹس کی تاریخ کا بہترین ایتھلیٹ قرار دیا ہے .انکے مطابق بریڈمین اپنے ہم عصروں سے میلوں آگے تھا . بریڈ مین کی ٹیسٹ ایورج ” 99.94″ ہے .جبکہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ایورج بیری رچرڈز کی ساٹھ کی ہے .اعداد و شمار کی زبان میں بریڈمین کی “سٹینڈرڈ ڈیو ایشن ” “4.4” ہے جو فٹب بال کے عظیم ترین کھلاڑی پیلے کی “3.7” ،بیس بال کے عظیم ترین کھلاڑی کوب کی “3.6 ” گالف کے عظیم ترین فاتح ،جیک نکولس کی “3.5” اور باسکٹ بال کے ماسٹر کھلاڑی مائکل جارڈن کی “3.4” سے بھی بہتر ہے .مگر اس کارنامے کو انجام دینے والے بولر گلبرٹ کی اصل شہرت کچھ اور ہے .
گلبرٹ وہ پہلے بولر بنے جن کے ایکشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوے انھیں ایکشن تبدیل کرانے پر مجبور کیا گیا .یہ حادثہ انیس سو تیس کے اوائل کا ہے .گلبرٹ سے قبل بھی کافی بولرز کے ایکشنز کو غیر قانونی قرار دیا جاتا رہا مگر وہ بولر کرکٹ ہی چھوڑ دیتے تھے .یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کرکٹ میں “اوور آرم ” بولنگ کی اجازت 1864میں جا کر ملی .اس سے قبل کرکٹ میں بولرز “انڈر آرم ” بولنگ کرتے تھے . اس قانون کے بعد پہلے مشہور بولر جنکی بولنگ کو “چکنگ ” یا “تھرووینگ ” قرار دیا گیا وہ آسٹریلیا کے ٹام ولس تھے.انکے متعلق مشہور تھا کہ وہ امپائر کو چکمہ دینے کے لئے بولنگ کرنے سے پہلے کہتے تھے کہ ذرا میرے پاؤں پر نظر رکھنا میں گیند کرتے وقت آگے نکل جاتا ہوں یوں امپائر کی توجہ انکے پاؤں پر رہتی اور وہ اپنا کام کر جاتے .آج جب ہم پاکستانی ،سری لنکن ،ویسٹ انڈیز کے بولرز کو دھڑا دھڑ “چکنگ” کے الزام میں ایکشن رپورٹ ہوتا دیکھتے ہیں تو عام شائقین سمجھتے ہیں کہ شاید آسٹریلیا ،انگلینڈ کے بولرز تو کبھی گیند تھرو کرتے ہی نہ ہوں گے .حالانکہ کرکٹ کی ماضی کی تاریخ کچھ اور ہی کہانی سنا رہی ہے .انگلینڈ کے معروف سپنر ٹونی لاک جنہوں نے دو ہزار آٹھ سو فرسٹ کلاس وکٹ لئے ،جی آپ نے درست پڑھا ،اتنی وکٹ لینے والے بولر کی تیز گیند کو عرف عام میں ” وٹہ ” کہا جاتا تھا .ٹونی لاک کھلے عام ہنستے کھلاتے کھلاڑیوں کے سامنے اس بات کا اعتراف بھی کرتے رہے .مگر اس وقت کیونکہ کیمرے ہی نہ تھے اس لئے وہ بچتے رہے .انگلینڈ ہی کے سپنر ہیرلڈ رہوڈز کو بھی ” چکر ” بولر کہا جاتا رہا .انکے کیریئر بھی تنازعات کی زد میں رہا انہوں نے ایک ہزار سے زائد فرسٹ کلاس وکٹ لئے . ویسٹ انڈیز کے معروف فاسٹ بولر چارلی گرفتھ کے باؤنسر کو اکثر غیر قانونی کہا جاتا رہا .ان چند مثالوں سے واضح ہے کہ کرکٹ میں ” چکنگ” یا “وٹہ ” بہت پہلے سے ہے .لیکن اب پاکستان اسکا سب سے بڑا شکار بن چکا ہے .
یہ بات کم ہی لوگوں کو معلوم ہو گی کہ پاکستان کے پہلے بولر حسیب احسن تھے جنکی بولنگ پر “تھرو” کرنے کا الزام لگا تھا .یہ واقعہ انیس سو اکسٹھ میں بمبئی میں بھارت کے خلاف پیش آیا .ممکن ہے یہ بھارتی امپائرز کی سازش ہو .بہرحال حسیب احسن کا نام سب سے پہلے اس حوالے سے نمایاں ہوا .اسکے بعد ایک طویل عرصہ پاکستان کے بولرز پر کبھی ایسا کوئی الزام نہیں لگا .ہاں اس دوران ریورس سوئنگ پر بال ٹیمپرنگ کے الزام ضرور لگتے رہے .لیکن جب شعیب اختر نے اپنی غیر معمولی رفتار سے دنیا کو حیران کیا تو لوگوں نے انکے ایکشن پر سوال اٹھا دئیے .اس وقت تو جگموہن ڈالمیا اور توقیر ضیاء کی کوششوں سے انکا ایکشن کلیر ہو گیا .یہ بات ٹھیک ہے کہ بظاہر شعیب اختر کے ایکشن میں خرابی لگتی تھی مگر وہ انکی میڈیکل کنڈیشن کی وجہ سے تھی .شعیب اختر کی سب سے بڑی سپورٹ آسٹریلیا کے عظیم فاسٹ بولر ڈینس للی اور دنیا کی تاریخ کے تیز ترین بولر تصور کئے جانے والے جیف تھامسن نے کی انہوں نے شعیب اختر کے ایکشن کو لیگل قرار دیا .اسکے بعد سے پاکستانی بولرز بلکہ ہر غیر معمولی بولر آئی سی سی کے ریڈار پر ہے .شبیر احمد،شعیب ملک،سعید اجمل،حفیظ،عدنان رئیس(چیمپئینز لیگ میں ) ،اور اب بلال آصف کے مشکوک ایکشن رپورٹ ہو چکے ہیں .جبکہ پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ میں چھبیس بولرز کے ایکشن کو مشکوک قرار دے دیا گیا ہے .وجہ یہ ہے کہ ہمارے سپنرز دوسرا کرانے کے چکر میں اپنی کہنی کو خم دے دیتے ہیں جو کہ لیگل حدود سے باہر نکل جاتا ہے .دنیا میں کوئی بھی بولر دوسرا کے موجد ثقلین کی طرح سیدھے بازو سے دوسرا نہیں کرا سکا .مرلی اپنی کلائی کی لچک کی وجہ سے بچ نکلے .یاد رہے انہوں نے تو سٹیل کی ٹیوبز میں بازو ڈال کر بھی گیند کرائی تھی اور ان ٹیوبز کے اندر سے بھی انکی کہنی اور کلائیاں گیند گھما دیتی تھیں .ثقلین چونکہ نسبتاً سلو” دوسرا “کرتے تھے اس لئے انکا ایکشن لیگل ہی رہا اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ “دوسرا” اپنے بولنگ کیریئر کے آغاز سے ہی کر رہے تھے .جبکہ دنیا کے باقی تمام بولرز نے دوسرا بعد میں جا کر سیکھا .پاکستان کرکٹ بورڈ نے سستی اور نااہلی دکھائی کیونکہ سعید اجمل کو میڈیکل گراؤنڈ پر با آسانی کلئیر کروایا جا سکتا تھا ،کیونکہ انکی کہنی میں ٹریفک حادثے کے بعد سے خم اور لچک پی جاتی ہے .لیکن پی سی بی نے آئی سی سی کا حکم چپ چاپ مان کر اپنی جان چھڑائی .یہ کرکٹ سے نا واقفیت کا نتیجہ ہے .جب فیصلہ سازوں میں ایک سفارت کار ہو اور ایک صحافی تو اسی قسم کے حادثے رونما ہوتے ہیں .
اب اس مسلے کا حل کیا ہے ؟کیا پندرہ ڈگری کی لمٹ بڑھائی جائے ؟یا اسی طرح سختی جاری رکھی جائے ؟یا سپنرز کو دوسرے کی کھلی چھوٹ دی جائے ؟میرے خیال میں رمیز راجہ کی تجویز اس حوالے سے اہم اور درست ہے .انکا کہنا ہے کہ” دوسرے” کی لمٹ پندرہ ڈگری سے اٹھارہ ڈگری تک کر دی جائے اور” آف بریک” کی لمٹ پندرہ ڈگری تک ہی رکھی جائے .یہ بری تجویز نہیں ہے .بائیو مکینیکل ماہرین بھی حتمی نتیجے میں ا یک آدھ ڈگری کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں کیونکہ ابھی تک ٹیکنالوجی اتنی بہتر نہیں کہ سو فیصد درست تجزیہ دے سکے .اس لئے سپنرز کو تھوڑی رعایت تو ملنی چاہئے .دوسرا پاکستان کرکٹ بورڈ کو پہلے سے اپنے ٹیسٹ کرا کر آئی سی سی کو بھجوا دینے چاہئے تھے تاکہ کوئی امپائر رپورٹ ہی نہ کر سکتا .آئندہ سے ایسا ہونا چاہئے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ ہر اس نسبتاً مشکوک بولنگ ایکشن کے حامل منفرد بولر کا پہلے ہی ایکشن چیک کرا کر اسکی گیندوں کے قنونی ہونے کا فیصلہ کر لے تاکہ بعد میں پاکستان کی سبکی نہ ہو .آئی سی سی کی پوری کوشش ہے کہ ہر اس دوسرا،کیرم بال کرانے والے آف سپنر کو اسکے کیریئر کے آغاز ہی میں پکڑ کرا سکا ایکشن ٹھیک کرا لیا جائے .اسی وجہ سے امپائر ذرا سے شک پر بولرز کو رپورٹ کر رہے ہیں جو کہ اب ایک مذاق سا لگنا شروع ہو گیا ہے .اس پورے قصے میں دو اہم سوال پیدا ہو رہے ہیں جو پاکستانی شائقین بار بار اٹھا رہے ہیں .نمبر ایک انڈیا کے کسی بولر اور خاص کر ایشون کا ایکشن کیوں نہیں رپورٹ ہو رہا ؟نمبر دو بگ تھری کے کسی آف سپنر کا ایکشن کیوں نہیں رپورٹ ہوا ؟پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ بھارت والے سب سے چالاک نکلے انہوں نے پہلے ہی ایشون کا ایکشن بہتر کروا لیا .اب ایشون صاف ایکشن سے گیند کر رہے ہیں .انکے صاف ایکشن کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اب وہ بہت کم کیرم بال اور ٹاپ سپنر کا استمعال کر رہے ہیں .انڈیا نے اپنے دوسرے سپنر اوجھا جو اب ٹیم سے باہر ہیں انکا ایکشن بھی خود ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں رپورٹ کرا کرکلیر کروا لیا ہے .پیچھے صرف جڈیجا بچ گئے ہیں انکا ایکشن بھی درست ہے کہ وہ کوئی دوسرا اور کیرم بال نہیں کرتے .آسٹریلیا کے آف سپنر ناتھن لائن چونکہ دوسرا نہیں کرتے اس لئے انکا ایکشن بھی صاف اور کلاسیکل ایکشن ہے .انگلینڈ کے پاس پہلے سوان تھے جن کا ایکشن اتنا بہترین تھا کہ دنیا کے تمام آف سپنرز کو کاپی کرنا چاہئے .وہ بھی دوسرا نہیں کراتے تھے .اب معین علی ہیں جنہوں نے دوسرا سعید اجمل سے سیکھا ضرور مگر رپورٹ ہونے کے ڈر سے ابھی تک انٹرنیشنل کرکٹ میں کرایا نہیں ہے .جنوبی افریقہ کے پاس تو کبھی کوئی مسٹری سپنر آیا ہی نہیں .اس لئے وہ بھی محفوظ ہیں

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s