یونس خان

دروازے پر دستک ہوتی ہے .دروازہ کھولنے والا اندر سے غصے سے ابلتا ہوا باہرنکلتا ہے .وہ طیش میں سامنے کھڑے لوگوں سے پوچھتا ہے کہ تم لوگوں کو مسلہ کیا ہے ؟.سامنے کھڑے لوگ جو اس کے فین ہوتے ہیں وہ اپنی محبت کا اظہار شروع کر دیتے ہیں .مگر اس شخص کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا وہ انھیں بے نقط سناتا ہے کہ تم لوگوں کو شرم نہیں آتی ؟بغیر وقت لئے منہ اٹھا کر دروازہ کھٹکھٹا رہے ہو /اب ایسا کیا تو تھپڑ لگا دوں گا .لوگ اس رویے پر مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں .
اب دوسرا واقعہ بھی سن لیں .ڈومیسٹک ٹی ٹوینٹی ٹورنامنٹ ہو رہا ہے .کچھ لڑکے پنڈی اسٹیڈیم کے ڈریسنگ روم کے باہر کھڑے ہوتے ہیں .ان میں سے ایک لڑکا اپنے ہیرو اور فیورٹ کھلاڑی کو جو کہ پویلین میں بیٹھا ہوتا ہے کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے .اسے خوشگوار حیرت ہوتی ہے جب جواباً اسکا فیورٹ کھلاڑی اسکی جانب مسکرا کر دکھتا ہے .یہ لڑکا اس سے ہمت پکڑتا ہے اور اپنے ہیرو کی جانب چل پڑتا ہے .اب اسکا پسندیدہ کھلاڑی ہنس کر اس سے ملتا ہے اسے آٹوگراف دیتا ہے .اسی دوران باقی لڑکے بھی آ جاتے ہیں وہ کھلاڑی انکے ساتھ بھی خوش اخلاقی سے ملتا ہے .کچھ دیر باتیں کرتا ہے پھر اندر چل پڑتا ہے .تمام لڑکوں کے چہروں پر خوشی ہوتی ہے .
ان دونوں واقعیات کا ہیرو کھلاڑی یونس خان ہے .اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یونس خان کے مزاج میں کتنا تلون اور بسا اوقات تضاد ہے .ایک چہرہ یونس خان کا ہنستا مسکراتا چہرہ ہے .خاص کر انٹرنیشنل میچز میں شاید ہی کبھی یونس خان شدید غصے میں دکھائی دئے ہوں .انکے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ ہی رہی ہے .چیونگ گم چباتے ، ہیٹ پہنے ،متحرک یونس خان کا یہ چہرہ ” آن فیلڈ ” کا چہرہ ہے .بلکہ کبھی کبھار تو احمقانہ سٹروک کھیل کر آوٹ ہو جاتے وقت بھی یونس خان اسی ہنستے مسکراتے انداز میں واپس پویلین جاتے ہیں تو کافی شائقین کو غصہ بھی آتا ہے .مگر بہر حال یونس خان ایسے ہی ہیں .لیکن ایک چہرہ یونس خان کا” آف فیلڈ” چہرہ بھی ہے .دو ہزار میں اپنے کیریئر کے آغاز سے لے کر دو ہزار پانچ میں نائب کپتان بننے تک یونس خان کا کیریئر غیر متنازعہ رہا .لیکن اسکے بعد یونس کے عجیب و غریب بیانات ہیں ،استعفے ہیں ،بورڈ سے لڑائیاں ہیں ،چیرمین سے لڑائیاں ہیں ،ٹیم کی بغاوت ہے ،ریٹائرمنٹ ہیں ،کوچز سے تلخ گفتگو ہے ،کپتان سے بے اعتنائی ہے .ایک بات تو طے ہے یونس خان مصباح الحق ،اظہر علی ،مشتاق احمد،محمد اکرم،انتخاب عالم ،ہارون الرشید کی طرح “یس مین ” نہیں ہیں . مصباح الحق نے اگر بغیر کسی مشکلات کے پانچ سال کپتانی کے گزار لئے وہ اس طرح کہ وہ کسی کے مسلے میں نہیں بولتے وہ کوئی سٹینڈ نہیں لیتے .اسکا ثبوت ابھی پچھلے سال ہی ایک بار پھر ملا جب یونس کو سنٹرل کنٹریکٹس میں سے اے کیٹگری سے حیران کن طور پر باہر نکال دیا گیا تو مصباح اور کوچ وقار سے مشورہ لے کر یہ فیصلہ لیا گیا مگر مصباح اور وقار دونوں نے چوں بھی نہیں کی .ممکن ہے یونس نے یہ بات ابھی تک نہ بھلائی ہو . یونس خان کو سمجھنا لیکن اتنا مشکل بھی نہیں ہے .
یونس خان جب سمجھتے ہیں کہ انکے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے یا انکی عزت نفس کو کچلا جا رہا ہے تو وہ وہاں پر سٹینڈ لیتے ہیں چاہئے انکے سامنے کوئی بھی ہو .یہ انکی خاصیت ہے . اب یونس کو ایسا لگ رہا ہے کہ انہیں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے .اسی لئے انہیں کہنا پڑا کہ اگر میں سری لنکا میں آخری میچ میں میچ وننگ سینچری نہ کرتا تو مجھے ٹیم سے باہر نکال دیا جاتا .مگر ہر بار یونس درست نہیں ہوتے .کچھ بار یونس کی بھی غلطی تھی .جیسے مصباح سے تقابل میں انہوں نے اتنا سخت ری ایکٹ کیا جیسے مصباح کوئی بھارت کے کھلاڑی ہوں .یہ رویہ قابل تحسین نہیں تھا .لیکن اکثر اوقات بورڈ،کپتان،کوچز اور کھلاڑی زیادہ قصور وار رہے ہیں .اب یونس کا ون ڈے ٹیم میں کھیلنے پر زور دینا بھی اچھا قدم نہیں ہے .وہ فضول کا میڈیا پریشر بلڈ کر رہے ہیں .انکی ایک روزہ ٹیم میں جگہ نہیں بنتی اور نہ ہی انہیں ون ڈے ٹیم میں ڈالنا چاہئے. اصل میں محسوس ایسے ہوتا ہے کہ وہ ایک فارمیٹ میں کھیلتے ہوے “سیف” محسوس نہیں کرتے .کیونکہ ایک فارمیٹ میں کھیلنے والے کو بسا اوقات ایک سیریز چھ ،آٹھ مہینے بعد جا کر ملتی ہے اور اس دوران اپنی فارم برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا . پچھلی اچھی کارکردگی بھی لوگوں کو بھول چکی ہوتی ہے .یہی مسلہ شاہد آفریدی کو بھی پیش آ رہا ہے ویسے تو پورے کیریئر ہی انہوں نے کبھی تسلسل سے پرفارم نہیں کیا مگر اب صرف ٹی ٹوینٹی کھیلنے کی وجہ سے انکی کارکردگی مزید خراب لگ رہی ہے .انکا لاہور قیام کا فیصلہ ٹھیک سہی مگر انھیں ڈومیسٹک کرکٹ بھی کھیلنی چاہئے ،چاہے چار روزہ میچ ہی کیوں نہ ہوں .اس طرح وہ میچ پریکٹس میں رہیں گے . یونس کی ڈومیسٹک میں پرفارمنس شاندار ہے لیکن اب نسبتاً نوجوان مڈل آرڈر بلے بازوں رضوان،صہیب مقصود،حارث سہیل،فواد عالم،بابر اعظم،افتخار احمد اور اسد شفیق وغیرہ کو چانس ملنا چاہئے . یونس خان اگلا ورلڈ کپ نہیں کھیل سکتے تو پھر انکی ون ڈے ٹیم میں شمولیت بیکار ہے .ہاں اگر انکا ارادہ ہے کہ وہ اگلا ورلڈ کپ کھیلنا چاہتے ہیں تب ان کی سلیکشن پر غور ہو سکتا ہے .مگر ایسا نا ممکنات میں سے ہی ہو گا .لیکن بورڈ اس معاملے کو ٹھیک طرح سے ہینڈل ہی نہیں کر پا رہا . اس مسلے کا ایک آسان سا حل ہے سلیکشن کمیٹی کو کہنا چاہئے اور براہ راست یونس سے بات کرنی چاہئے کہ ہم آپکو مستقبل میں ون ڈے ٹیم میں نہیں ڈالنا چاہتے .لیکن ہم آپکو انگلینڈ کے خلاف پوری “فیئر ویل” ون ڈے سیریز دیتے ہیں .آپ آئیں کھیلیں اپنی مرضی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کریں .میرا اندازہ ہے یونس صرف عزت سے اپنی مرضی سے ایک روزہ اور ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ چاہتے ہیں .ٹیسٹ میں تو فی الحال انھیں کم سے کم سال ایک تو کھیلنا چاہئے مگر ایک روزہ میں انھیں اس انداز میں اگر ریٹائرمنٹ کا موقع ملتا ہے تو ریٹرمنٹ لے لینی چاہئے .
دوسری جانب زمبابوے کے خلاف ہمارے نوجوان کھلاڑی عمدہ کھیل پیش کر رہے ہیں .بلکہ صرف نوجوان ہی عمدہ کھیل پیش کر رہے ہیں .سینئر کھلاڑی احمد شہزاد،حفیظ،آفریدی،ملک،وہاب اور عرفان کوئی خاص غیر معمولی پرفارمنس نہیں پیش کر سکے . ممکن ہے موافق پچ ملنے پر ہمارے سینئر بھی خواب غفلت سے جاگ اٹھیں .بہر حال ابھی تک کھیلے گئے میچز میں کنڈیشنز بیٹنگ اور سٹروک پلے کے لئے مشکل تھیں. احمد شہزاد کے بارے میں تو شائقین کا خدشہ تھا کہ شادی کے فورا بعد کچھ عرصہ انکی فارم خراب ہی رہے گی .آپ اس بات کو مذاق نہ سمجھیں .انگلینڈ میں باقاعدہ تحقیق ہوئی ہے کہ ایک سپورٹس پرسن پر شادی یا قریبی تعلق کی وجہ سےکیسے مثبت یا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں .حیران کن طور انکی تحقیق کا نچوڑ یہ ہے کہ شادی کے فورا بعد ایک ایتھلیٹ کی کارکردگی میں بہتری اور نکھار آتا ہے .لیکن پاکستان میں تو اسکا الٹ ہی نظر آتا ہے .ہاں شادی کے کافی عرصے بعد ہمارے کھلاڑی شاندار کھیل پیش کرتے ہیں .زمبابوے سیریز میں عماد ،رضوان،اور یاسر شاہ کا کھیل خاص طور پر نمایاں ہے .عماد کے متعلق پہلے بھی انہی صفحات میں کہا گیا تھا کہ ان میں بیٹنگ کا کافی پوٹنشیل ہے انھیں چھٹے نمبر پر کھلانا چاہئے .رضوان بھی ٹاپ فور میں زیادہ سود مند ثابت ہو سکتے ہیں .یاسر شاہ کی پرفارمنس شاندار ہے مگر انھیں یاد رکھنا چاہئے کہ انگلینڈ کے خلاف پچز بیٹنگ کے لئے زیادہ سازگار ہوں گی.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s