عامر خاکوانی کی نصیحتیں

اصل میں کالموں‌پر تبصرے کے لئے جس قدر متوازن رائےہونا ضروری ہے ، وہ آپ کے ہاں‌مفقود ہے۔ انجناب قلم سے کم اور کلہاڑے سے زیادہ لکھتے ہیں، نہایت جارحانہ، تیکھے اور کاٹ دار انداز کے ساتھ بہت سخت اور گاہے غیر پارلیمانی زبان بھی برت ڈالتے ہیں، احمقانہ، شرمناک،بے غیرتی ، بے شرمی وغیرہ توآپ کی لغت کےنرم ترین الفاظ ہیں۔ اسی پس منظر میں میں نے کہا کہ پہلے خود لکھنے کی مشق کریں، دوسروں کی تنقید سہنا شروع کریں ، اس کی عادت ڈالیں، پھر نقاد بنیں تو بہتر ہوگا۔ موجودہ صورت میں آپ کا جارحانہ تنقید کا اسلوب زیادہ پختہ ہوجائے گا۔ اس لئے کہہ رہا ہوں‌کہ جب آپ نے کالم نگاروں کا محاکمہ شروع کیا تو چند ایک کالم نگاروں، جن کے بارے میں‌مجھے ابھی سے اندازہ ہے، آپ نے جارحانہ تنقید کی اور ان کے پرخچے اڑائے تو اس پر آپ کو اپنے دوستوں کی طرف سے داد وتحسین ہی ملے گی کہ فیس بک پر پرخچے اڑانے ، دھجیاں بکھیرنے جیسی تحریریں زیادہ پسند کی جاتی ہیں۔ آپ کو مگر اس سے نقصان زیادہ ہوگا، نفع کم۔( یہ واضح رہے کہ مجھے اپنی کوئی فکر نہیں، میں تنقید سے قطعی نہیں‌گھبراتا اور جہاں ضرورت سمجھتا ہوں جواب دے لیتا ہوں اور جسے غیر ضروری تنقید تصور کرتا ہوں، اسے آسانی سے نظرانداز کر دیتا ہوں)۔
آپ اپنی فیس بک پر تو لکھتے ہیں، مگر یہاں چند ایک دوست ہی پڑھ پاتے ہیں، ان میں سے بھی کرامت بھٹی اور عمیر سعود قریشی جیسے آپ کو چاہنے والے دوست ہیں، جو آپ کی ہر تحریر پر صاد کرتے ہیں اور کبھی جائز تنقید بھی نہیں کرتے۔ لے دے کر مجھے ہی یہ مشکل اور ناپسندیدہ فرض‌انجام دینا پڑتا ہے۔ آپ اپنی پوسٹ اپنی وال کے علاوہ مختلف گروپوں میں‌لگائیں، سوچ بچار سمیت کئی ایسے گروپ ہیں، جہاں‌ ایکٹو یوزر موجود ہیں، وہ پوسٹوں پر کمنٹس بھی کرتے ہیں اور تنقید کرتے بھی نہیں‌گھبراتے۔ اس طرح‌آپ کو زیادہ بہتر فیڈ بیک مل سکتا ہے۔
بائی دا وے میں نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر اخلاص پر مبنی یہ کمنٹ کر تو دیا ہے، لیکن مجھے اندازہ ہے کہ اس کا فائدہ کوئی نہیں۔ کرنا آپ نے وہی ہے، جو من میں‌ٹھان رکھا ہے۔ بہرحال یہ لکھ دیا تاکہ سند رہوے اور بوقت ضرور کام آوے۔

اگر یہ کام کرنے کا ٹھان لیا ہے تو کم از کم اس بات کی کمٹمنٹ کریں کہ اسلوب شائستہ ہوگا، تنقید ذاتی نہیں ہوگی، دلیل کے ساتھ اعتراض کیا جائے گا اور پرخچے اڑانے کے بجائے اپنا نقطہ نظر بیان کرنے تک معاملہ رکھا جائے۔ ویسی علمی شائستگی جو ماضی کے بزرگوں جیسے مولانا علی میاں اور حال کے غامدی صاحب وغیرہ میں نظر آتی ہے یا پھر عمار ناصر خان وغیرہ کرتے ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s