تجزیہ ثاقب ملک: : دی کامن گراؤنڈ .خالد ظہیر

پس منظر
خالد ظہیر صاحب نے یہ کالم پاکستانی سیکولرازم کے نمائندوں اور اسلام پسندوں کے درمیان جاری کشمکش کے تناظر میں لکھا ہے .
خلاصہ
خالد ظہیر کہتے ہیں کہ پاکستان میں اسلام پسندوں اور سیکولرسٹ لوگوں کے درمیان سخت اختلاف پایا جاتا ہے .اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیکولر حلقے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ پاکستان کا نظریہ اور مقصد قیام ایک سیکولر ملک کے طور پر تھا .دوسری جانب مذہبی حلقے اسلام کو پاکستان کے قیام کا مقصد جانتے ہیں .مصنف کا کہنا ہے کہ یہ بحث غیر ضروری ہے اور نہ ختم ہونے والی ہے .انکے خیال میں دونوں حلقوں کے لئے امن و شانتی کا ایک “کامن گراؤنڈ ” موجود ہے .کالم نگار لکھتے ہیں کہ سیکولر نمائندے اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں کا تو ایک اسلام پر ہی اتفاق نہیں ہے پھر یہاں پر کیسے ،اور کون سا اسلام رائج ہو گا ؟؟یوں پہلے سے ہی تفرقے میں پڑے پاکستانی مزید تفرقے کا شکار ہو جائیں گے .انکا یہ بھی کہنا ہے کہ اسلام رائج کرنے سے ہم قدیم اور تاریک دور میں چلے جائیں گے .سیکولر حلقوں کا تیسرا اہم اعتراض یہ ہے کہ اس سے غیر مسلم دوسرے درجے کے شہری بن جائیں گے .
خالد ظہیر کہتے ہیں کہ مذہبی یا اسلامیسٹ حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام ہی پاکستان کا مقصد تھا .اسی پر اتفاق ہوا تھا .اگر پاکستان کو سیکولر کیا گیا تو مسلمانوں کو اسلام اور قرآن کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی نہیں ہو گی .آگے چل کر خالد ظہیر لکھتے ہیں کہ اس بات میں اسلامیسٹ درست ہیں کہ اسلام کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگیوں سے نہیں نکالا جا سکتا .دوسری جانب وہ سیکولر حلقوں کے خدشات کو بھی مکمل رد نہیں کرتے انکا خیال ہے کہ سیکولر حلقے جب یہ کہتے ہیں کہ اگر پرانے دور کے سودی قوانین لائے گئے ،عورتوں کو گھر کی باندی بنا دیاگیا ،چوری کی اور دیگر سزائوں کا نفاد کیا گیا تو پاکستان تو دنیا سے کٹ کر رہ جائے گا .
خالد ظہیر صاحب کے خیال میں اس اختلاف کا حل ان دونوں حلقوں کی اپنے نظریات کے عین مطابق ہے .اور اسکا حل جمہوریت ،آزادی رائے ،جمہوری نمائندوں کو نمائندگی اور حکومت کے حق ،اور انصاف میں ہے .اگر سیکولر یہ چاھتے ہیں کہ پاکستان میں سیکولرازم ہو تو جمہوریت کا سہارا لیں اور اپنی اکثریت لا کر اپنی مرضی کے قوانین بنا لیں .دوسری جانب انکا اسلامیسٹس کو بھی یہی مشورہ ہے کہ اگر انہیں کوئی قانون غیر اسلامی لگتا ہے تو اپنی اکثریت حاصل کریں اور اسکو تبدیل کروا لیں .http://www.thenews.com.pk/Todays-News-9-346699-The-common-ground
تجزیہ
خالد ظہیر صاحب نے کمال سادگی اور معصومیت کا مظاہرہ کیا ہے .پہلی بات تو یہ کہ انہوں نے یہ کالم دونوں حلقوں کو خوش اور خاص کر سیکولر حلقوں کی خوشنودی کے لئے لکھا ہے .میں یہ نہیں کہتا کہ دانستہ لکھا ہے ممکن ہے وہ لا شعوری طور پر اپنے آپ کو ماڈرن ایلیٹ کے سامنے قابل قبول ظاہر کرنا چاہتے ہوں .سیکولر اور اسلام کو ایک گراؤنڈ پر لانے کا کہہ کر وہ کیا اسلام کے مقابل سیکولرا زم کو ایک مذھب سمجھتے ہیں ؟اسلام ایک الہامی دین ہے .اسکے احکامات الہامی ہیں .دوسری جانب سیکولرزم کا استدلال یہ ہے کہ اس نے انسانی شعور کی ایولوشن کے بعد جو چند مشترکہ انسانی اقدار حاصل کی ہیں یہ انکا مجموعہ ہے .دونوں کبھی بھی ایک کامن گراؤنڈ پر نہیں پہنچ سکتے .یہ کہنا سرا سر دھوکہ اور سفید جھوٹ ہے .
خالد ظہیر صاحب کا کہنا ہے کہ کامن گراؤنڈ جمہوریت ،آزادی رائے،انصاف،اور جمہوری حکمرانوں کو اقتدار دینے سے حاصل ہو جائے گا .دونوں حلقوں کو ان چار فیکٹرز کے توسط سے اپنے معاملات حل کر لینے چاہئیں .یہ چاروں نکات سیکولرسٹ ذہن کی ترجمانی کرتے ہیں .میرا یہ نہیں کہنا کہ اسلام انکی مخالف کرتا ہے .ایسا ہر گز نہیں ہے .مگر اسلام کی اپنی حدود ہیں .مثلا اسلام میں نظام کی کوئی قیود نہیں ہیں .سیکولر ازم میں نظام کم سے کم آج کل کے دور میں تو لازماً کارپوریٹ جمہوریت ہے .سیکولر جمہوریت میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہے .اسلامی جمہوریت میں لازمی الله کے حکم کی رہنمائی میں نظام چلے گا .سیکولر ازم میں آزادی رائے کی کوئی قید نہیں .کسی نبی ،کسی پیغمبر کسی مقدس چیز کی کوئی حرمت نہیں ہے .اسلام میں آزادی رائے کی حدود و قیود طے ہیں .پیغمبران ،مقدس کتب ،اہل بیت ،صحابہ کی حرمت اور توہین کی سختی سے ممانعت ہے .جہاں تک رول آف لا کی بات ہے تو اسلامی قانون مغربی قوانین سے کافی مختلف ہے .جمہوری نمائندوں کو حق اقتدار دینے پر البتہ اتفاق ہو سکتا ہے مگر اس میں بھی دو رائے ہیں .لیکن فی الحال اس پر بحث نہیں کرتے .انکا یہ کہنا حکمت عملی کے حوالے سے درست ہے کہ اسلامیسٹ اور سیکولرسٹ دونوں کو ہتھیار یا جبر کا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہئے .یہ مسلہ مذہبی اور انتہا پسند طبقے کا ہے .جو اپنی جہالت کی وجہ سے اسلام کی بد نامی کا سبب بن رہا ہے .دوسری جانب سیکولر حلقے ہتھیار تو نہیں اٹھاتے لیکن انکے اندر بھی ہمارے معاشرے کی انتہا پسندی اور شدت پسند رویوں کا اظہار ملتا ہے .
اصل میں خالد ظہیر صاحب نے سیکولر اور اسلامی دونوں اذہان کی ٹھیک طریقے سے ترجمانی ہی نہیں کی .دونوں کو خوش کرنے کے چکر میں وہ دونوں کے بنیادی مقاصد کو غلط ملط کر بیٹھے .انکا اسلامی سزائوں کا دفاع نہ کرنا یا اس میں اجتہاد کی اہمیت کو نظر انداز کرنا ،انتہا پسندوں کی سوچ کو اسلامی سوچ کا نمائندہ سمجھ کر اس پر دلیل استوار کرنا ،حیران کن ہے کیونکہ وہ جانے پہچانے اسلامی سکالر سمجھے جاتے ہیں .دوسری جانب انہوں نے پاکستانی سیکولرسٹ طبقے کو بھی انڈر ایسٹیمیٹ کیا ہے .ہمارے سیکولر تو شراب و شباب ،آزادی ،اسلام بیزاری ،مذہبی انتہا پسندی ،علماء کی ابدی جہالت ،معاشرے کی بوسیدہ ،فرسودہ روایت سے عاجز ہیں .اس سے فرار انکو سیکولر ازم میں ملتی ہے .بہت ہی قلیل اکثریت کسی قسم کا خالص سیکولر نظریہ رکھتی ہو گی .اکثر تو بس ہمارے مذہبی جاہلوں ،ہٹ دھرموں ،شدت پسندوں اور نام نہاد مجاہدین کی نفرت میں ہی سیکولر بنے ہیں .
اسکا حل حقیقی اور اصلی ،روشن خیال اسلام میں ہے .جو کہ ہے ہی روشن خیال ،صرف “مشرفی ” روشن خیال نہیں .یہ اے گا بھی معاشرے کے اندر سے باہر سے نہیں .
کوٹ ایبل
کچھ بھی کوٹ کرنے کے قابل نہیں ہے
سوال
کیا خالد ظہیر صاحب بتائیں گے اسلام اور سیکولر ایک دوسرے کے حریف کیسے ہیں ؟کیا دونوں نظریات ہیں ؟کیا دونوں کی بنیاد اور تاریخ ایک ہے ؟؟* کیا اسلام کی درست نمائندگی فکر کو اس کالم میں خالد صاحب نے جگہ دی ہے ؟ * کیا مصنف پاکستانی سیکولر کا بھی درست تجزیہ کر سکے ہیں ؟
ریٹنگ
اس کالم کو کمتر درجے یعنی چار نمبر ہی دے سکوں گا

.

Advertisements

9 thoughts on “تجزیہ ثاقب ملک: : دی کامن گراؤنڈ .خالد ظہیر

  1. ثاقب صاحب آپ خود بھی کوئی غیر جانب دارانہ بات نہیں کرسکتے کیونکہ آپکی تحریر سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ آپ کٹر مذہبی ذہن کے مالک ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ورنہ اسلامی سزائوں کی اور اجتہاد کی بات نہ کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دین کا ماخذ صرف اور صرف قرآن ہے چناچہ کسی روایت کی بنیاد پر اسلامی قوانین بنا نا بذات خود غلط ہے۔

    Like

  2. اور نہن ہی تمام سیکولر لوگ اس طرح کے ہوتے ہیں جیسا آپ نے اپنی انتہا پسندی میں انہین ڈسکرائب کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Like

  3. دیکھیں میں سب سیکولر ز کو بد کردار یا غلط نہیں سمجھتا ..لیکن پاکستان میں اکثریت ایسی ہی ہے .میں نے اسی لئے اکثریت کا ذکر کیا ہے .دوسرا میں نے تو مذہبی علماء کو بھی جاہل اور ہٹ دھرم کہا ہے پھر آپ مجھے کیسے کٹر مذہبی کہہ سکتی ہیں ؟ میں ہر گز کٹر مذہبی نہیں .بلکہ حقیقت میں تو مجھے مذہبی بھی نہیں کہا جا سکتا .میں نے درست اسلام کی ترویج کی بات کی ہے .مجھے آپ کی اس بات سے اتفاق ہے کہ سنی سنائی اور گھڑی ہوئی جھوٹی روایات پر سزائیں نہیں ملنی چاہیں .

    Like

  4. درست اسلام تو صرف اور صرف قرآن ہے ،یہ بتائیں کون مانتا ہے قرآن کو ؟
    سب ان ہی روایات پر فرقے بنائے بیٹھے ہیں،پھر کس فرقے کے اسلام کو فالو کرنا ہے آپکو؟

    Like

    • میں اپنے آپ کو صرف مسلمان کہتا اور مانتا ہوں. میں کسی مسلک کا مستقل پیر و کار نہیں ہوں. صرف قرآن نہیں سنت کی درست روایات کا ساتھ بھی ضروری ہے.

      Like

  5. عمدہ تجزیہ ہے، تینوں‌تجزیوں‌میں سب سے بہتر۔ شائد میرے ہم خیال ہے اس لئے ایسا لگا۔ بہرحال یہ بتائیے کہ ان تجزیوں‌کو اگر شئیر کرنا ہو تو کیا طریقہ کار ہے؟

    Liked by 1 person

  6. All the sharing options are at the end of each analysis .You can share on FB,Twitter,G+,You can save the analysis for the reference in the Pocket as well.If you don’t see the social media Icons plz notify me.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s