دی آرٹ اینڈ سائنس آف” آف سپن

پچھلے پندرہ سولہ برسوں میں آف سپن بولنگ نے خوب ترقی پائی ہے .خاص کر دوسرا اور کیرم بال کی دریافت کے بعد ،آف سپنرز کسی بھی بولنگ اٹیک کا اہم ترین مہرہ بن گئے ہیں ثقلین مشتاق کے سر دوسرا کی ایجاد کا سہرا بندھتا ہے تو کیرم بال کے موجد اجنتھا مینڈس ہیں ..کچھ آف سپن کی مختلف گیندوں کو ذرا ڈسکس کر لیتے ہیں .
آف بریک
کسی بھی آف سپنر کی سب سے زیادہ پھینکے جانے والی گیند ، یعنی “سٹاک” بال آف بریک ہو گی .یہ گیند دائیں ہاتھ کے بلے باز کی آف سٹمپ سے اندر وکٹوں کی جانب سپن ہوتی ہے .مرلی کی لمبی آف بریک شائقین کو ضرور یاد ہو گی .سوان کی خوب صورت سپن ہوتی گیند بھی دیکھنے لائق ہوتی تھی .اکثر انکی گیند کی گھومنے کی آواز آتی تھی .ویٹوری کی شاندار فلایٹڈ آف بریک بھی دلکش نظارہ ہوتا تھا .آف بریک کو کرانے کے لئے یا درست اور موثر انداز میں آف بریک کرانے کے لئے بولر کا” سائیڈ آن ” ہونا بیحد اہم ہے .سائیڈ آن سے مراد ہے کہ گیند پھینکتے وقت بولر کا سینہ امپائر یا نان سٹرائکر بیٹسمین کی جانب ہو اور نان بولنگ آرم یا کندھا بلے باز یا کیپر کی جانب ہو .رن اپ میں ایک اور بنیادی چیز گیند ڈیلیور کرتے وقت بولر کا کریز پر دراز قد ہونا ہے .یعنی بولر کو چاہئے کہ اگلا گھٹنا سیدھا رکھے اس میں کوئی بینڈ نہ ہو یوں بولر کریز پر اپنے قد کا زیادہ سے زیادہ بہتر استمعال کر سکے گا .گیند پھینکتے وقت بولنگ آرم کا نوے ڈگری پر سیدھا ہونا بھی درست انداز ہے .
آف بریک کی نارمل گرپ میں بال کی سیم کا رخ لیگ سٹمپ یا فائن لیگ کی جانب ہوتا ہے .اکثر پہلی اور دوسری انگلی سے گیند کو گرپ کیا جاتا ہے .دونوں انگلیوں کے درمیان جتنا زیادہ فاصلہ ہو اتنا ہی بہتر ہے .کوشش کریں کہ گیند کی سیم دونوں انگلیوں کے درمیان میں رہے نہ زیادہ کناروں پر ہو اور نہ زیادہ انگلیوں کے نچلے جانب ،اس سے کنٹرول اور زیادہ سپن کرانے میں مدد ملے گی .گیند کو سپن کرانے کا بہترین کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ گیند کو اوپر کی جانب سپن کرایا جائے .گیند کو زیادہ سے زیادہ روٹیشن دینے کی کوشش کرنی چاہئے . آج کل تو گیندوں کی روٹیشن پر مبنی میٹرز پر انکی روٹیشن پر منٹ سپیڈ بھی آ رہی ہے .سوان ،ناتھن لائن آرام سے دو ہزار سے پچیس سو “ریوز ” پر منٹ پر گیند کرا رہے ہیں .جتنی زیادہ گیند پر سپن ہو گی اور گیند کو درست انداز میں اوپر سے نیچے کی جانب سپن کرایا جائے گا اتنی ہی بال پر “ڈپ ” اور “ڈرفٹ ” آئے گی .ڈپ سے مراد گیند کا بلے باز کی آنکھوں سے بلند ہو کر تیزی سے نیچے آنا ہے جس کی وجہ سے بیسٹمین کو بولر کی لینتھ جانچنے میں دھوکہ ہو جاتا ہے .ڈرفٹ میں گیند نے ٹھپہ لگنے کے بعد جس جانب سپن ہونا ہوتا ہے ہوا میں گھومے گی اور ایک “آرک” بنائے گی .یعنی اگر ایک شاندار آف بریک گیند پھینکی جائے تو گیند ہوا میں بیٹسمین سے دور کی جانب گھومے گی اور اندر آتے ہوے ٹھپا پڑنے کے بعد تیزی سے اندر آئے گی .اپنے ایکشن کو کو مکمل کرنا بیحد ضروری ہے .بولر کا گیند پھینک کر اپنے پچھلے گھٹنے کو آگے لا کر اپنا فلو تھرو پورا کرنا گیند میں زیادہ انرجی بھر دے گا .
ٹاپ سپنر
گو کہ لیگ سپن کی طرح اس گیند کو بھی ٹاپ سپنر ہی کہا جاتا ہے مگر اس گیند کو آدھا دوسرا بھی کہا جا سکتا ہے .یہ گیند بھی کم سپن ہوتی ہے یا اکثر اوقات سیدھی رہتی ہے اور لیگ سپنر کے ٹاپ سپنر کی طرح ایکسٹرا باؤنس کرتی ہے .آف بریک اور اس گیند میں اہم ترین فرق گیند کی سیم یعنی سلائی کے رخ کا اور گیند کو پھینکنے کی ڈگری کا ہے .ٹاپ سپنر تھوڑا تیز ہوتا ہے .اگر پچ میں سپن ہے تو جلد ہی اچھا بلے باز سپن کا عادی ہو جائے گا لیکن اگر بولر کے پاس دوسرا نہیں ہے تو یہ گیند کافی کار آمد ثابت ہو سکتی ہے .تین چار بڑے آف بریک پھینک کر بیسٹمین کو سیٹ کر کے ایک ٹاپ سپنر پھینک کر اسے قابو کیا جا سکتا ہے .ٹاپ سپنر میں گیند کی سیم کا رخ زیادہ آف سٹمپ یا کیپر کی جانب ہو گا اور گیند پھینکتے وقت بھی بال کو کم سے کم سائیڈ سپین دی جائے گی ساتھ ہی ساتھ سپین کرانے والی میں انگلی یعنی پہلی انگلی گیند کو سیدھا گھمائے گی یوں گیند سیدھا رہے گی اور زیادہ باؤنس حاصل کرے گی .بیٹ اینڈ پیڈ آوٹ کرنا اور سلپ میں آوٹ کرانا اس گیند کا مقصد ہوتا ہے .
آرم بال
آرم بال ایک طرح سے آف سپنر کا فلپر کہا جا سکتا ہے .یہ گیند نارمل آف بریک ،ٹاپ سپنر سے کہیں زیادہ تیز ہو گی .اگر دائیں ہاتھ کا بلے باز ہے تو ہوا میں آوٹ سوئنگ بھی ہو گی اور پڑنے کے بعد بھی باہر کی جانب نکلے گی .اس گیند کو مہارت سے کرا کر کوئی بھی آف سپن بولر بیٹسمین کو با آسانی رنز روکنے سے روک بھی سکتا ہے اور اسکے اعتماد کو بھی مجروح کر سکتا ہے .اس گیند کو عمدہ اور درست انداز سے پھینکنے کے لئے گیند کی گرپ میں تھوڑی سی تبدیلی کی جائے گی .اب سیم دونوں انگلیوں کے درمیان نہیں ہو گی بلکہ پہلی انگلی سیم کے اوپر ہو گی .سیم کا رخ بالکل سیدھا ہو گا یعنی اسکا رخ بولر کے دائیں بائیں طرف ہو گا ،نہ تو اسکا رخ کیپر کی جانب ہونا چاہئے اور نہ تو لیگ سٹمپ کی جانب ،یعنی آدھی گیند بیسٹمین کو بغیر سیم کے نظر آنی چاہئے .اس بال میں روٹیشن نیچے سے اوپر کی جانب ہو گی .گیند پر کافی بیک سپن ہو گی یوں گیند پچ پر لگنے کے بعد تیزی سے اپنے ہدف پر جائے گی .اس گیند کی رفتار ہی بلے باز کو دھوکہ دے دیتی ہے .
دوسرا
ثقلین نے دوسرا کو ایجاد کیا اور مرلی اور سعید اجمل نے اسکو عروج بخشا .یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ دوسرا کے بغیر آف سپنرز کبھی بھی جارحانہ وکٹ ٹیکنگ بولرز نہیں کہے جا سکتے تھے مگر دوسرا نے انکو خطرناک بولر بنا دیا .اس گیند کو کہنی اور کلائی کا استمعال بنا دیتا ہے .مختلف بولرز کے اپنے اپنے انداز ہیں دوسرا کرانے کے ،لیکن گرپ میں کوئی خاص تبدیلی کی ضرورت نہیں ہے .اصل مہارت اس گیند کو ریلیز کرنے میں ہے .ٹاپ سپنر کی طرح یہ گیند بھی سائیڈ سپن کے بغیر ہو گی بلکہ کوشش یہ ہو گی کہ گیند آف سپنر کے الٹ سپن کرے وہی دوسرا کامیاب ترین کہلایا جائے گا .اجمل کا دوسرا بہت خطرناک تھا .انکے انداز میں ایک نشانی تھی جو “دوسرے “کو عیاں کر دیتی تھی جو لائیو تو بیٹسمین کے لئے پرکھنا انتہائی مشکل کام ہی ہو گا مگر ری پلے میں اسکا اندازہ کیا جا سکتا ہے .اجمل کا انگوٹھا اکثر گیند سے علیحدہ نظر آ جاتا تھا .ثقلین کا انگوٹھا اس طرح سے علیحدہ نظر نہیں آتا تھا انکا ایک اپنا انداز تھا .مرلی تو دوسرا کرتے وقت اپنی ہتھیلی کیپشت کا رخ بلے باز کی جانب کر لیتے تھے .نارمل آف سپنر بھی دوسرا کرتے وقت اپنی ہتھیلی کا زیادہ رخ بیسٹمین کی جانب کر لیتا ہے جو کہ ایک اور اہم کلیو ہے .دوسرا کرتے وقت چاروں انگلیوں کا رخ بیسٹمین کی جانب ہو جاتا ہے .لیکن اس گیند کی خاصیت یہ ہے کہ تقریباً ہر بولر نے جو اچھا دوسرا کراتا ہے اس نے اس میں اپنی کوئی نہ کوئی ورائٹی یا مختلف انداز ڈالا ہے .

blog images 18
کیرم بال
مینڈس کی نو ایجاد کردہ اس بال کو پہلے بھی بولرز پچاس ساٹھ سال پہلے کراتے رہے مگر ان بولرز کو کبھی کوئی خاص کامیابی یا شہرت نہ مل سکی .آف سپن کی تمام دوسری گیندوں اور اس میں فرق یہ ہے کہ یہ گیند درمیان والی یعنی دوسری بڑی انگلی سے کرائی جاتی ہے .گرپ وہی نارمل آف سپن والی ہی ہو گی مگر گیند بائیں سے دائیں سپن کرانے کے بجائے دائیں سے بائیں سپن کرائے جائے گی .اس میں درمیان والی انگلی سے جیسے کیرم بورڈ گیم میں درمیان والی انگلی سے “فلک” کیا جاتا ہے ویسے ہی گیند کو فلک کیا جاتا ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گیند آف سپن کے بر عکس اگر رائٹ ہینڈ بلے باز ہے تو اندر آنے کے بجائے باہر کی جانب نکلے گی .نارائن ایک اور طرح کی کیرم بال کرتے ہیں وہ دونوں انگلیوں کو گیند پر جما کر ایک طرح کا لیگ کٹر پھینکتے ہیں .یہ گیند بھی بہت موثر ہے.
رفتار میں کمی بیشی بھی ہر سپنر ے بولر کی طرح آف سپنر کے لئے بھی بیحد ضروری ہے .کریز پر مختلف اینگلز سے گیند ڈیلیور کرنا بھی ایک سپنر کی نشانی ہے .سب سے بڑھ کر تمام مختلف گیندوں کی مسلسل پریکٹس کرنا ان میں مہارت کے حصول کا بہترین طریقہ ہے.

blog images 17
فاسٹر ون

blog images 19blog images 16
آفریدی کی ایک سو تیس پینتیس کلو میٹر تیز گیندیں حقیقی معنوں میں فاسٹر بالز کہلانے کی حقدار ہیں مگر آف سپنر ز نے بھی تیز گیند کا عمدہ استعمال کیا ہے. بلے باز کو محدود کرنے کے لیے تیز گیند ایک عمدہ ہتھیار ہوتی ہے. کچھ بولرز سیم اپ گیند کو بطور تیز گیند کے استعمال کرتے ہیں تو کچھ کراس سیم کو یوز کرتے ہیں. سیم اپ میں گیند کے سوئنگ ھونے اور کراس سیم میں گیند کے ایکسٹرا باؤنس ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں. آف سپنر ز میں تیز گیند کوئی خاص وکٹ ٹیکنگ گیند تو نہیں رہی مگر رنز روکنے اور ٹیل اینڈرز کو آؤٹ کرنے کے لیے ایک کارآمد بال ھے.
مرلی دھرن تو خیر ایک غیر معمولی ایکشن اور صلاحیت کے غیر معمولی بولر تھے اس لیے انکو ثقلین، اجمل، سوان، ہربھجن، ایشون، ویٹوری، ھیراتھ اور نارائن وغیرہ سے کمپئر نہیں کیا جا سکتا. ثقلین ایک روایتی انداز کے بولر تھے مگر انکا رویہ غیر معمولی اور غیر روایتی تھا. اسی لیے وہ دوسرا کے موجد بنے. سوان کی انفرادیت انکی گیند کو سپن کرانے کی غیر معمولی صلاحیت تھی. ہربھجن کا اپنے عروج میں ایکسڑا باؤنس حاصل کرنا اور آف دا پچ تیز سپن پانا انکی کامیابی کی بنیادی وجہ تھی. اجمل کا نہ سمجھ آنے والا دوسرا اور لینتھ سے دھوکہ دینے کی مہارت انکی کامرانیوں کی کنجی ہے. ویٹوری فلائٹ میں بلے بار کو دھوکہ دیتے تھے. ھیراتھ اپنے مختلف اینگلز اور صبر کی وجہ سے کامیاب رہے. نارائن اور ایشون اپنی ورائٹی اور چالاکی کی وجہ سے خطرناک ہیں گو کہ ابھی وہ اچھے آف سپنر ز ضرور ہیں مگر بہترین نہیں ہیں

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s