چند سابق کھلاڑیوں کے خیالی تبصرے

بغض و عناد تو کوٹ کوٹ کر ہمارے سابق کھلاڑیوں میں بھرا ہوا ہے .انکے بس میں ہو تو جو کھلاڑی انہیں نا پسند ہیں ان میں ایسی ایسی خامیاں ڈھونڈھیں کے وہ منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہیں .جب انکے نا پسندیدہ کھلاڑی میچ وننگ پرفارمنس دیتے ہیں تو ہمارے حسد ،جلن اور رقابت سے لب لباب بھرے تجزیہ نگاروں کے چہروں موت اور افسردگی دیکھنے لائق ہوتی ہے .پاکستان کی سری لنکا کے خلاف شاندار فتح نے عام شائقین کے چہروں خوشیاں بکھریں مگر ایسے نمونے سابق کھلاڑی اور تجزیہ نگار جو کسی نس کسی وجہ سے مصباح ،یونس ،وغیرہ سے دل میں تنگی محسوس کرتے ہیں انکی کھسیانی خوشی کافی مضحکہ خیز لگ رہی تھی .یہاں پر ہم چند جانے پچانے اور بھڑکیلے تجزیہ نگاروں کے چند خیالی تبصرے پیش کریں گے . ساتھ ساتھ ان ممکنہ وجوہات کا جائزہ بھی لیں گے جو ایسے نادر تبصروں کی پیدائش کا سبب بنتی ہیں . یہاں پر چند عظیم کھلاڑیوں کا بھی ذکر ہو گا مگر طنز انکی تجزیہ نگاری اور تعصبانہ انداز تک محدود ہو گا .انکے پاکستان کرکٹ کے لئے کارنامے اور انکی عزت اور اپنا سٹیٹس برقرار رہے گا .اگرچہ یہ اگر ایسے ہی تجزیہ فرماتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ یہ اپنی رہی سہی عزت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے .نام قارئین خود ہی درست کر لیں .
محمد یوسف :
باریش یوسف کی خاص مخالفت مصباح،آفریدی،حفیظ اور شعیب ملک سے ہے .اس مخالفت کی مختلف وجوہات ہیں . اہم ترین وجہ کپتانی کا وہ ابدی کیڑا ہے جو دل سے نہیں نکل رہا . ایک تکلیف یہ ہے کہ مصباح کو انکی جگہ دو ہزار سات کے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں کیوں ڈالا گیا ؟؟ ؟( بندہ پوچھے اس میں مصباح کا کیا قصور تھا ؟؟صلاح الدین صلو نے مصباح کو سلیکٹ کیا تھا ان کی تو مخالفت نہیں کرتے ) .دوسری تکلیف یہ نظر آتی ہے کہ مصباح نے کپتان بننے کے بعد یوسف کو ٹیم میں واپس کیوں نہیں ڈلوایا ؟ جبکہ جب یوسف کپتان بنے تھے تو انہوں نے مصباح کو ٹیم میں زبردستی ڈلوایا تھا .ویسے اس معاملے میں مصباح کو احسان کا بدلہ دینا چاہے تھا .کیونکہ ٹیسٹ ٹیم میں تو یوسف کی جگہ بنتی بھی تھی .تیسری وہ دائمی تکلیف ہے کہ جو بھی یوسف کے بعد سے کپتان بنا انھیں پسند نہیں آیا کیونکہ انھیں خود طویل کپتانی کیوں نہیں کرنے دی گئی ؟؟آفریدی سے مسلہ یہ ہے کہ لوگ انھیں زیادہ کیوں پسند کرتے ہیں جبکہ یوسف خود ان سے کہیں اچھے بیٹسمین تھے ؟؟ یوسف کی بات غلط نہیں ہے .مگر اس بنیاد پر تعصب تو نہیں پالنا چاہئے .پھر آفریدی نے بھی کپتان بن جانے کے بعد یوسف کو ورلڈ کپ نہیں کھلوایا ..حفیظ سے تکلیف یہ ہے کہ لاہور کا کپتان بن جانے کے بعد یوسف کو لاہور کی کپتانی چھوڑنی پڑی اس دن سے یوسف کے نزدیک حفیظ کی تکنیک بیحد خراب ہو چکی ہے .(جو کہ حقیقت میں بھی کافی خراب ہے ).شعیب ملک کو بورڈ نے اس وقت کپتان بنا دیا جب یوسف کو خود کپتانی کی امید تھی .ویسے شعیب ملک کے اپنے کارنامے بھی کچھ کم نہیں ہیں .
خیالی تبصرہ
پاکستان کو سری لنکا کے خلاف تیسرا ٹیسٹ آرام سے جیت جانا چاہے تھا .بلکہ مصباح کی کمزور کپتانی کی وجہ سے پاکستان یہ میچ پانچویں دن جیتا ورنہ پہلے دن ہی پاکستان یہ میچ جیت لیتا .مصباح نے خود آ کر سلو بیٹنگ کی اگر اچھی تکنیک والے اسد شفیق آتے تو پاکستان پہلے ہی میچ جیت چکا ہوتا .(یاد رہے مصباح نے دوسری اننگز میں تقریباً ساٹھ کے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کی جو ٹیسٹ میں ہر گز سلو نہیں ) .پوری سیریز مصباح نہیں چلے اب آخری اننگز میں تھکے ہوے بولرز کے سامنے کوئی بھی سکور کر سکتا تھا .مصباح عزت سے کپتانی چھوڑ کر ریٹائر ہو جائیں .( ویسے ہمارے سابق کھلاڑیوں کو اپنی عزت سے زیادہ ٹیم میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کی عزت اور ریٹائرمنٹ کا اتنا خیال کیوں ہوتا ہے ؟).کوئی اچھا کپتان ہوتا تو پاکستان یہ سیریز تین صفر سے جیتتا .اگرحفیظ ہوتا تو پاکستان یہ میچ کبھی نہ جیت سکتا .حفیظ کی تکنیک اتنی خراب ہے کہ اسے سوئی گیس کی ٹیم سے بھی باہر کر دینا چاہے .
شعیب اختر
“ایکسپریس” بولر جس طرح سے ہر معاملے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اس سے انکی ذہنی کفیت اور درستگی پر شک گزرتا ہے .یوں تو انہیں دنیا جہاں سے خدا واسطے کا بیر ہے .خاص کر مصباح کی بزدلی انھیں بالکل پسند نہیں .انہیں بہادری بہت پسند ہے جس کی وضاحت انکے بقول یہی ہو گی کہ ہر پاکستان کھلاڑی سینہ تان کر اپنے حریفوں کو گالیاں دیتا پھرے تب ہی انکی بہادری کی حس کو تسکین پہنچے گی .اپنے ساتھ بیٹھے یوسف سمیت زوہیب کسی کو بخشنے کو تیار نہیں ہیں .یہ بھی خیال نہیں فرماتے کہ انڈیا میں بیٹھے ہیں یا پاکستان میں ہر جگہ اپنے گندے پوتڑے کھول کر دھونا شروع کر دیتے ہیں . اپنی تعریف کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے .اب انھیں بورڈ سے اپنی رکی ہوئی ستر لاکھ کی رقم مل چکی ہے .امید ہے کہ انکی بہادری کو اب کچھ عرصہ سکون مل جائے گا .اگر بولنگ کنسلٹنٹ کا رول بھی مل گیا تو زوہیب اختر نجم سیٹھی کو بہادی کا نشان حیدر دلوا کر ہی دم لیں گے .
خیالی تبصرہ (اپنے مخصوص انداز میں )
کرکٹ تباہ ہو چکی ہے .آپ کے پاس کوئی میچ ونر بولر نہیں ہے .میرے بعد کوئی سو میل والا بولر نہیں آیا .آ ہی نہیں سکتا .یہ پینڈو ” کوپتان” آپکے انکو پتہ ہی نہیں فاسٹ بولنگ کیا ہوتی ہے .کب تک گھٹنوں تک آتی گیندوں والی پچز پر جیت کر خوش ہوتے رہو گے ؟؟آپکا “کوپتان ” ہی بزدل ہے .اس میں حوصلہ ہی نہیں .وہ آپ کو کبھی بھی کوئی بڑی سیریز نہیں جتوا سکتا .یہ بس سپنیرز کو مار مر کر ہیرو بنتے رہیں گے .کسی فاسٹ بولر کو ماریں تو پتہ چلے .دیکھیں میری بات لکھ کر رکھ لیں ،کہ یہ ٹیم آپکی کھڑی نہیں ہو سکتی .( یہ آپکی ٹیم نہیں ہے ؟؟جو آپکی آپکی کہ رہے ہیں .).میں نے ہی کہا تھا کہ یہ ٹیم بنگلہ دیش سے بھی ہارے گی اس وقت لوگ مذاق اڑاتے تھے .(اب بھی اڑاتے ہیں ) اب دیکھو میری بات سچ ثابت ہو گئی .
سرفراز نواز
جانے وہ کون سی بد بخت ساعت تھی جب فراز نواز نے ریورس سوئنگ ایجاد کر لی .اس گھڑی کی سزا آج تک ہم بھگت رہے ہیں .فراز نواز کے نزدیک ہر میچ فکس ہوتا ہے .ہر کھلاڑی فکسر ہے .اور اس بات کا صرف انہی کو علم ہوتا ہے .ثبوت کے جھنجھٹ میں موصوف نہیں پڑتے .اگر کوئی غریب پوچھ بھی لے تو پہلے تو غضبناک ہوں گے کہ جب میں کہہ رہا ہوں تو بھلا ثبوت کی کیا ضرورت ہے ؟؟پھر کوئی اونگی بونگی مار دیں گے .جیسے ہی انہیں بورڈ میں بطور فاسٹ بولنگ کنسلٹنٹ کے جاب ملتی ہے اس دوران یہ بولنے کے اعتکاف پر چلے جاتے ہیں .جوں ہی جاب ختم ہوئی اپنی تلواریں سب پر سونت لیں .
خیالی تبصرہ
میں تو یہ کہوں گا کہ یہ ٹیسٹ سیریز پہلے کی ہی فکس لگ رہی تھی .سری لنکا ( پورے سری لنکا کو؟)کو نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ سیریز ہار جاؤ ہمیں ؤن ڈے سیریز بھی جیتنے دو تاکہ ہم چیمپئنز ٹرافی میں کوالیفائی کر جائیں . ہم تمہیں پیسے بھی دیں گے اور آئی سی سی سے تمہیں پابندی سے بھی محفوظ رکھیں گے کیونکہ میرا بندہ ظہیر عباس اب صدر بن گیا ہے .کروڑوں کا سٹہ لگا ہے .نجم سیٹھی نے خود جوا کھیلا ہے . یہ تو پکا جواریا ہے .سب جواری ہیں .میں تو کہوں گا یہ فکسڈ سیریز تھی .آپ دیکھیں یونس اور مصباح کوئی خاص خوش نہیں لگ رہے تھے انھیں پتا تھے ہم جیتے ہوے ہیں .میں تو کہوں گا یہ وقار جواریا ہے اسکو بچانے کے لئے یہ سریز جتوائی گئی ہے .مشتاق جواریا ہے اسکی نوکری بچانے کے لئے یاسر شاہ کو وکٹیں زیادہ دلوائی گئی ہیں .میں تو کہوں گا یہ سب جواریے ہیں .
سکندر بخت
ایک بار غلطی سے کہیں اپنی جوانی میں آٹھ وکٹ اور وہ بھی انڈیا کے خلاف لے لیں تو اب انکی تجزیہ نگاری جانے کب تک بھگتنی پڑے گی .سیریز جیتنے پر اور اپنے نا پسندیدہ مصباح وغیرہ کی عمدہ پرفارمنس پر انکے چہرے پر سوگ کا عالم دیکھنے والا ہوتا ہے .لگے ہاتھوں اپنے غم غلط کرتے ہوے آفریدی ،بورڈ ،حفیظ اور سری لنکا سمیت ہر کسی کو رگڑا دے دیتے ہیں .غصہ تو سری لنکا پر بہت ہو گا کہ یہ نا ہنجار ٹیم مصباح کو ایک اور سریز جتوا گئی .انکے بے چین دل کو کسی پر چین نہیں آتا .ہر کسی میں کوئی نہ کوئی خامی دریافت کر ہی لیتے ہیں .
خیالی تبصرہ
دیکھیں بڑی اچھی بات ہے کہ پاکستان یہ سیریز جیت گیا .( چہرے پر ایسی افسردگی ،ایسی موت ،کہ جیسے کوئی ماتم کا ماحول ہو )مگر ہمیں مستقبل کو دیکھنا ہے .اب مصباح کی عمر اکتالیس سال ، دو مہینے تین دن اور چودہ گھنٹے ہو چکی ہے اگر اس عمر میں بھی وہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے رہے تو انکی جان کو خطرہ ہو جائے گا .یونس کی عمر سینتیس سال دس مہینے ہو چکی ہے .مصباح کے سر میں سات سو انتیس سفید بال ہیں اور یونس کے سر پر بھی پندرہ بیس تو سفید بال ہوں گے اب اس سفید پوشی کا ہی خیال کریں اور ریٹائر ہو جائیں .اس میچ اور سیریز میں فتح کے بعد انکے پاس نادر موقع تھا کہ ریٹائر ہو جاتے لیکن ایسا نہیں ہوا .آفریدی کریبین پریمیئر لیگ میں ناکام جا رہے ہیں اور ہم نے انہیں ٹی ٹونٹی کی ٹیم کا کپتان بنایا ہوا ہے .مجھے تو سمجھ نہیں آتی .اب اگر مصباح چند مہینے اور کپتان رہے تو ٹیم مزید چند مہینے بوڑھی ہو جائے گی .
عامر سہیل
دنیا جہاں کی ٹیکنیکل غلطیاں انکی زینبیل میں ہیں .ذرا سے کوئی بلے باز یا بولر انکی پسند سے ہٹ کر کھیلے ایسی ایسی ٹیکنیکل موشگافیاں کریں گے کہ آگر بریڈ مین بھی ہوتے تو وہ بھی نہ بچ پاتے .عامر اپنے دور میں جتنے پر سکون ہوتے تھے سب کو علم ہے ،غصہ تو اپنی آستین بلکہ انے بالوں سے بھری آستین پر لٹکا کر بیٹھے رہتے تھے لیکن اب صبر و تحمل کی ایسی نصیحتیں فرماتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے .ذکا اشرف اور حفیظ کے تو بہت بڑے فین ہیں .کیونکہ ذکا اشرف کے دور میں انھیں منیجر یا چیف ایگزیکٹو ٹائپ عہدہ دیا گیا تھا اور حفیظ کو بطور سلیکٹر انہوں نے خود سلیکٹ کیا تھا .
خیالی تبصرہ
پاکستان نے بہت عمدہ پرفارم کیا مگر مصباح کے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی سویپ کھیلتے ہوے آدھی اٹھی ہوئی تھی اس لئے وہ سویپ ٹھیک طریقے سے نہ کھیل سکے .مصباح کا دائیں پاؤں آج تھوڑی بھاری تھا اس وجہ سے وہ شارٹ پچ گیند پر ٹھیک طریقے سے نہ کھیل سکے .یونس خان کی سب سے چھوٹی انگلی ،انکے بلے پر خوش نہیں ہے وہ بار بار اٹھ جاتی ہے اس لئے انھیں سٹریٹ ڈرائیو کھیلتے ہوے مشکل پیش آ رہی ہے .پاکستان کے کوچنگ سٹاف کو پتہ ہی نہیں ہے کہ کیسے کوچنگ کرنی ہے .انھیں ٹیم کے پلئیرز کو کانفیڈنس دینا ہی نہیں آتا .اگر وقار ،ڈریسنگ روم میں کھڑے ہو کر اپنی کلائی کے بال کھلاڑیوں کو دکھائیں تو کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھے گا .
محسن حسن خان
جب سے محسن احسن خان کو کوچنگ سے ہٹایا گیا ہے تب سے ہر نئے آنے والے کوچ سے انہوں نے دشمنی پالی ہوئی ہے .پہلے واٹمور تھے تو انکو غیر ملکی ہونے پر پھبتی کسی جاتی تھی اور اب وقار ہیں تو ان پر بھی اعتراض ہے .کوئی بھی کوچ ہو اس پر اعتراض ہے .ساری ٹیم سارے کھلاڑی فضول کھیلیں ،محسن احسن کھلاڑیوں کو برا نہیں کہیں گے صرف کوچنگ سٹاف پر تنقید کریں گے .
خیالی تبصرہ
ھونیسٹ ٹو گاڈ ،بلیو می ناٹ ..یہ ایک شاندار فتح ہے .پاکستانی ٹیم اچھا کھیلی .بہت اچھا کھیلی .مگر افسوس ہوتا ہے کہ کوچز کھلاڑیوں کی ٹھیک طریقے سے رہنمائی نہیں کر رہے .اگر مصباح اور یونس کو بتایا جاتا کہ انہوں نے میچ جیتنے کے بعد کیسے جشن ماننا ہے تو وہ زیادہ اچھی سلبریشانز کرتے مگر کسی کوچ نے انکی رہنمائی نہیں کی .اگر کوچز کا یہی حال رہا تو ہونیسٹ ٹو گاڈ ہماری ٹیم بہت پیچھے چلی جائے گی .بلیو می ناٹ کہ جب میں کوچ تھا تو ٹیم اتنا اچھا جشن مناتی تھی کہ مزہ آ جاتا تھا .لوگ بھی ایسا جشن دیکھ کر خوش ہوتے تھے

.blog images 20 blog images 21

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s