عماد بزدار کی خوب صورت تحریر

بابے اقبال اپنی خواہش کا کسی زمانے میں اظہار کرتے رہے کہ
جوانوں کو پیروں کا استاد کر ۔
کم از کم انٹرنٹ اور سوشل میڈیائی “ابابیلوں” کو دیکھا جائے تو لگتا ہے وہ زمانہ آ گیا یہ بلاگ بھی اسی سلسے کی کڑی ہے جس میں ایک جوان استادی نہ سہی ، پیروں کو احتساب کے کٹہرے میں ضرور کھڑا کریں گے اور یہ ضروری بھی ہے۔ جیسے ہر صاحبِ دستار معزز نہیں ہوتا ویسے ہی ہر کالم نگار دانشور نہیں ہوتا۔ لیکن عملی صورتِ حال یہ ہے کہ “صاحب بہادر” قلم اٹھاتے ہی دفاع، خارجہ، طب صحت، مشرق مغرب معیشت معاشرت ، سیاست مذہب زندگی کے ہر پہلو پر میر کے اس شعر کے عملی تفسیر نظر آتے ہیں کہ
سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا
مستند ہے میرا فرمایا ہوا۔
ثاقب کے طرزِ تحریر کا میں ہمیشہ مداح رہا ہوں اللہ نے خرد اور جنوں دونوں سے وافر مقدار سے نوازا ہے۔ “سودا بیچنے” کے لیئے کھوٹ ، سطحی جزباتیت اور لفاظی کا کبھی بھی سہارا نہیں لیتے اور یہی کھرا پن مجھے پسند ہے.
طرزِ تحریر میں پائی جانے والی شدت کے بارے میں یہی عرض کرونگا کہ اللہ نے ثاقب کے اندر قدرتی سپیڈ بریکرز انسٹال کیئے ہوئے ہیں اس لیئے پریشانی کی کوئی بات نہیں شاعرکی زبانی یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ
ہے مرا ضبطِ جنوں، جوشِ جنوں سے بڑھ کر
تنگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا
دعا ہے کہ اللہ ثاقب کی اس کوشش کو کامیابی سے ہمکنار کرے آمین

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s