تجزیہ ثاقب ملک : : مذہبی جنون اور ریاست ‘خورشید ندیم ‘

پس منظر
یہ کالم حال ہی میں بھارت میں ہونے والے انتہا پسندانہ اقدامات ،شیوسینا کی شدت پسندی اور مودی سرکار کی کوتا بینی کے تناظر میں کیا گیا ہے .
خلاصہ
خورشید ندیم لکھتے ہیں کہ جس مذہبی انتہا پسندی نے پاکستانیوں کو اذیت میں رکھا ہوا ہے اب بھارت بھی اسی کا شکار نظر آتا ہے .جن ہندوؤں کو ہندوستان تقسیم ہونے کا قلق تھا اب وہ اب اپنی حرکتوں سے مزید بٹواروں کی راہ ہموار کر رہے ہیں .مصنف کہتے ہیں کہ قاید اعظم کے پیش نظر بھی انتہا پسند ہندوؤں کا یہ رویہ تھا جو پاکستان کے قیام کا سبب بنا .فساد کوئی بھی معاشرے برداشت نہیں کر سکتا اور اسکا منطقی نتیجہ علیحدگی یا مزید انتشار میں ہی نکلتا ہے .خورشید ندیم دونوں ممالک کے مذہبی طبقے کے تضادات کو آشکار کرتے ہوے کہتے ہیں کہ لگتا ہے دونوں ممالک میں مذہب حق پرستی کے بجائے ،گروہی عصبیت بن چکا ہے .لوگ خود قرآن کے احکامات سے رو گردانی کرتے ہیں مگر قرآن کے جلائے جانے کی جھوٹی افواہ پر لوگوں کو زندہ جلا دیتے ہیں .ہندو خود گائے کی عزت کریں نہ کریں افواہ پر مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں .
مسلمان کیونکہ بھارت میں اقلیت ہیں اس لئے انکا مسلہ بہت نازک ہے .کالم نگار علمائے دیو بند کا یہ کہنا کہ مسلمانوں کو گائے ذبح نہیں کرنی چاہئے .کالم نگار اسے حکمت پر مبنی فیصلہ سمجھتے ہیں .انکے خیال میں ہم پاکستانی مسلمان چونکہ یہاں پر اکثریت میں ہیں اس لئے ہم زیادہ ہی مشتعل ہو جاتے ہیں .آگے چل کر لکھتے ہیں کہ پاکستان کی آزادی کا خمیازہ بھارتی مسلمانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے .اسی خدشے کی طرف ابو الکلام آزاد ہمیشہ اشارہ کرتے رہے .تاریخ کے جبر میں دونوں اقوام قید ہیں اور کوئی بھی ایسا لیڈر نہیں پیدا ہو سکا جو انہیں اس قید سے رہائی دلوا سکے .مزید لکھتیے ہیں کہ ہم بھارت اور ہندو اور اسرائیل اور یہودیوں کو ایک تصور کرتے ہیں حالانکہ نوم چومسکی جیسا یہودی اسرائیل کا سب سے بڑا مخالف ہے اسی طرح اب کتنے ہی ہندو ادیبوں نے اس شدت پسندی پر اپنے ایوارڈ واپس کر دئے ہیں .خورشید ندیم کہتے ہیں اب پاکستان کا امتحان ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس انتہا پسندی سے محفوظ رکھے اور جبر کا شکار نہ ہو .
تجزیہ
خورشید ندیم ایک “فکری” کالم نگار کے طور پر جانے جاتے ہیں .انکے موضوعات اکثر اکیڈیمک ہوتے ہیں .یہاں پر انہوں نے چند ایسے اہم مسائل پر لکھا ہے جو کہ پاکستانی اور بھارتیوں دونوں کو حال اور مستقبل میں جن سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے .انکا یہ کہنا کہ بھارت بھی اس انتہا پسندی کا شکار ہو رہا ہے جسکا شکار ہے کچھ درست نہیں لگتا ہے .حقیقت یہ ہے کہ بھارت تو پاکستان سے قبل ہی انتہا پسندی کا شکار ہے .جب وہ یہ کہتے ہیں کہ قائد اعظم نے اسی انتہا پسندانہ رویہ کو مد نظر رکھ کر پاکستان کے قیام کے لئے جد و جہد کی تھی تو وہ خود ہی اپنی بات کی نفی کر رہے ہیں .یعنی پاکستان کے قیام سے قبل ہی ہندوستان میں انتہا پسندانہ رویے موجود تھے .لیکن لگتا ہے حالیہ واقعات نے تاریخ کو مصنف کی نظر میں دھندلا دیا ہے .
انکا یہ کہنا بھی درست ہے کہ اگر انڈین مسلمان اپنی جان اور مال کی حفاظت کے پیش نظر اگر گائے نہ ذبح کریں اور نہ کھائیں تو یہ ایک اچھا فیصلہ ہو گا .اس بات سے بھی کلی اتفاق ہے کہ فساد کوئی بھی معاشرہ برداشت نہیں کر سکتا .یہ نکتہ بھی بے حد اہم اور ہمارے لئے عبرت کا مقام رکھتا ہے کہ ہم نے مذہب کو حق پرستی کے لئے نہیں اپنی گروہی مقاصد کے لئے استمعال کرنے کے لئے رکھ چھوڑا ہے .ہمارے اندر تو درجہ با درجہ مختلف مسالک بھی عملا ایسا ہی کردار ادا کر رہے ہیں .انکی یہ رائے بھی قابل ااحترام اور غور کے قابل ہے کہ ہمیں بھارت اور ہندوؤں اور اسرائیل اور یہودیوں کو علیحدہ کرنا ہو گا .کیونکہ اس سے ہم ہندو اور یہودی سے نفرت کے بجائے اسرائیل اور بھارت کی پالیسیوں سے اختلاف کو ترجیح دیں گے .
یہاں پر ایک نکتہ جو اٹھا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو پاکستان کے قیام کا نقصان اٹھانا پڑا .یہ بات درست ہے اور پاکستان کا رویہ بھی بھارتی مسلمانوں کے حوالے سے با لکل نظر انداز کر دینے والا ہے .نہ تو ہماری حکومت نہ تو ہمارے عوام اور نہ ہی مذہبی جماعتیں کشمیر کے علاوہ دیگر علاقوں کے بھارتی مسلمانوں کے لئے کوئی آواز اٹھاتی ہیں بس جب بھی بھارت کو گالی دینی ہو تو انڈین مسلمانوں کی حالت زار کی بھیانک تصویر کشی کر کے صرف انہیں استمعال کر کے پھر بھول جایا جاتا ہے .جہاں تک پاکستان میں انتہا پسندی کی بات ہے یار لوگ اگر بھارت اور پاکستان کو ایک صف میں کھڑا کر رہے ہیں تو یہ ایک مکروہ غلطی ہے .یہ درست ہے کہ پاکستان میں شدت پسندی پچھلے تیس سالوں میں کافی بڑھی ہے .مگر ہمارے انتہا پسند کبھی اقتدار میں نہیں آئے یا جن کو دنیا انتہا پسند سمجھتی ہے جیسے وہ در اصل اتنے انتہا پسند ہیں ہی نہیں .بہر حال ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور انتہا پسندی کے سبب بننے والے عوامل پر غور کر کے ہی ایسے تقابل کرنے چاہیں .
کوٹ ایبل
“فساد کو انسانی فطرت تا دیر گوارا نہیں کرتی .وہ اسکا کوئی نہ کوئی حل لازماً تلاش کرتی ہے ”
“مذہب جب حق پسندی کے بجائے گروہی عصبیت میں ڈھل جائے تو وہ دوسرے مذاھب کو برداشت نہیں کرتا ”
“انسان کا تاریخی تجربہ یہ ہے کہ الہی سکیم سے ہم آہنگی ہی میں بقا کا راز مضمر ہے ”
سوال
*کیا پاکستان میں انتہا پسند طبقوں اور بھارت کے انتہا پسند دونوں کی شدت پسندی کی وجوہات ایک سی ہیں ؟ * کیا پاکستان میں مذہب کی بنیاد پر ایسی ہی نفرت ہے جیسی بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف پائی جاتی ہے ؟* کیا دونوں ممالک کے عوام واقعی ہی تاریخ کے جب کے اسیر ہیں ؟* کیا ہمیں بحیثیت ایک ریاست کے بھارتی عوام کی مدد کرنی چاہئے ؟
ریٹنگ
ایک اچھے کالم کی ریٹنگ نمبرز سات اور آٹھ ہیں .اس کالم کو میں اچھا ریٹ کرتے ہوے سات نمبر دوں گا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s