تاریخ اور چنگیز خان کا مکالمہ

چنگیز خان دنیا کی تاریخ کے چند خوف ناک ترین وار لارڈز میں شمار ہوتا ہے جس نے یوروایشا پر جنگ مسلط کی .لیکن کیا چنگیز خان ایک وحشی ،اجڈ اور جنگلی فاتح تھا یا ایک متحد کرنے والا مدبر جس نے ماڈرن دنیا کی بنیاد رکھی ؟ اس بات کا فیصلہ ہسٹری بمقابلہ چنگیز خان کے مکالمے سے کرتے ہیں .
ہسٹری : آپ لوگ یقیناً تیرہویں صدی کے اس جنگجو “گینگیز خان ” سے واقف ہوں گے جس کی جنگی مہمات نے لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور سواے تباہ کاری کے کچھ نہ چھوڑا .
چنگیز خان : پہلے تو یہ بتا دوں کہ میرا نام “چنگیز خان” ہے اسکو گینگیز خان نہ کہا جائے .میں پیدا “تموجن” ہوا .بچپن میں ہی باپ فوت میں یتیم رہ گیا لیکن میں نے ان مساعد حالات میں اپنی جان توڑ محنت ،لگن اور استقامت کی بدولت لڑتے جھگڑتے منگول قبائل کو اکٹھا کر کے تاریخ کی سب سے بڑی امپائر کھڑی کی جو پیسفک سے یورپ کے دل تک جا پہنچی .
ہسٹری :تو دیگر ممالک پر حملوں اور بے گناہ لوگوں کے بھیانک،بہیمانہ قتل عام میں ایسی کون سی عظمت والی بات ہے ؟صرف ناردرن چائنا کی دو تہائی آبادی صفحہ ہستی سے مٹ گئی .
چنگیز خان : اصل میں “جن ” سلطنت نے طویل عرصے سے شمالی چین کے منگولوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر رکھا تھا اور وقفے وقفے سے حملے کر کے انہیں زبردست نقصان کا شکار کرتے رهتے تھے .منگولوں کا پچھلا خان اعظم بھی انہی کی سازش کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر گیا تھا میں انکی چالوں کا شکار نہیں ہوا .
ہسٹری : تم جو مرضی اعداد شمار کی ہیرا پھیریاں کر لو لیکن تم نےاور تمہاری فوج نے تو شہر کے شہر انکی آبادیوں سمیت صفحہ ہستی سے مٹا دئے .
چنگیز خان : میں “سرینڈر” اور اطاعت پر یقین رکھتا تھا .ساتھ ہی ساتھ میں وفاداری اور سفارتی قوانین کا بھی بہت خیال رکھتا تھا .میں نے صرف ان شہروں اور لوگوں کو سزا دی جنہوں نے سرینڈر کے بعد بغاوت کی یا میرے سفیر کو قتل کیا میں سخت اور فوری انصاف پر یقین رکھتا تھا .
ہسٹری : جھوٹ !!! بارہا ایسے واقعات بتائے جا سکتے ہیں جب تمھارے فوجیوں نے اس تمھارے خود ساختہ “انصاف” کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے ،بچوں ،عورتوں کا قتل عام کیا .ماؤں کے پیٹ سے بچے نکال کر مار دئے .تمام عورتیں اغوا کر لیں.بوڑھوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا ،قیدیوں کو یرغمال بنا کر انہیں بطور ڈھال استمعال کیا .
چنگیز خان : تو کیا یہ اس زمانے اور قدیم زمانے کی افواج سے کچھ مختلف،زیادہ برا کر دیا ہماری فوج نے ؟
ہسٹری : یہ جواز تمھارے مظالم کی دلیل نہیں .
چنگیز خان : لیکن یہ جواز مجھے خونی قاتل نہیں بلکہ مجھے اپنے زمانے سے مختلف ثابت نہیں کرتا .جبکہ میں نے منگول قبائل کے اتحاد کے بعد دلہنوں کے اغوا پر پابندی لگوا دی .میرے دور میں عورتوں کو ترقی ملی انھیں گھریلو معاملات میں زیادہ فیصلہ سازی کا موقع ملا انہیں طلاق کا حق ملا اور انہیں میرٹ پر فوج میں بھی ترقیاں ملیں .میں پوری عمر اپنی ایک ہی بیوی کے ساتھ رہا بلکہ میں نے اسکے ممکنہ نا جائز بچے کو اپنا بیٹا سمجھ کر پالا .تم یہ بات کیوں بھول جاتے ہو ؟
ہسٹری : جو کچھ بھی ہو تماری میراث سوائے قتل وغارت کے کچھ نہیں ہے .تمھارے جانشینوں اور تم نے مل کر چار کروڑ لوگ مار دئے اور یہ اس وقت کی دنیا کی آبادی کا دس فیصد حصہ بنتا تھا .اس میں تمھارے “سنہرے لشکر” کی وجہ سے جو طا عون جو یورپ میں پھیلا اسکو میں نے شامل نہیں کیا .تمھارے فوجیوں نے اپنے طاعون زدہ فوجیوں کی لاشوں شہر کافا کے محاصرے کے دوران جان بوجھ کر فصیلوں کے اندر پھینکیں تاکہ کافا اور یورپ کے لوگ بھی طا عون کے موزی مرض سے مریں .
چنگیز خان : یہ باتیں واقعات ظہور پذیر ہونے کے بہت بعد میں نکلیں ان پر کتنا اعتبار کیا جا سکتا ہے ؟ویسے بھی میری سلطنت کی وجہ سے لوگوں نے بے شمار فوائد اٹھائے .ہم نے مذہبی رواداری کو فروغ دیا ،قانون کی بالا دستی قائم کی ،لوگوں کو انکی اہلیت پر ترقی اور مناسب دئے ،بجائے کے انکے منگول ہونے پر ،ایک شاندار اور وسیع پوسٹ سروس کو قیام میں لیا گیا اور کلچر کو پروموٹ کیا گیا .
ہسٹری : کلچر ؟؟ جو تمھارے پوتے ہلاکو خان نے بغداد میں کیا ؟اپنے زمانے کے علم کے کیپٹل کو تاراج کر کے رکھ دیا لاکھوں کتابیں جلا دیں ،دریا تباہ کئے ،ہسپتال برباد کر دئے ؟
چنگیز خان : بغداد بہت بد قسمت ثابت ہوا .اسکے خلیفہ نے سرینڈر کرنے سے انکار کیا .خیر اس قتل عام پر برقائی خان نے ہلاکو کو سزا بھی دی .منگولوں نے کلچر کو پروموٹ کیا ہم ہر شہر کے قابل علماء ،ٹیچرز،طبیبوں،فلسفیوں اور کاریگروں کی جان بخشی کر کے انہیں اپنے ساتھ لے جاتے تھے یوں جہاں جہاں منگول جاتے وہاں وہاں پھیلتا .
ہسٹری : تم “کیون رس” کے قتل عام پر کیا کہو گئے؟ جو طویل عرصہ تک تاریک دور سے نہ نکل سکا جبکہ باقی یورپ ترقی کرتا رہا .
چنگیز خان :اس وقت مغربی یورپ کا امن و امان تھا ہی ایسا .ہم نے سلک روٹ کو بحال کر کے دنیا میں تجارت اور ترقی کو فروغ دیا .چین اور روس اسی وجہ سے دشمن سے حلیف ممالک بنے .منگولوں نے اس زمانے اور بعد میں کافی عرصہ تک دنیا کے مختلف ممالک میں اعلی سطح پر خدمات انجام دیں .
ہسٹری : ہاں تمہاری طرح کے اور ظالم
چنگیز خان : احتیاط سے کہو ممکن ہے تمھارے بھی رشتےدار نکل آئیں .میرے جانشین تعداد میں ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ بنتے ہیں یعنی ہر دو سو مردوں میں سے ایک

.( یہ مکالمہ “ٹیڈ ایجوکیشن” کی یو ٹیوب ویڈیو سے ماخوز ہے )

Advertisements

2 thoughts on “تاریخ اور چنگیز خان کا مکالمہ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s