تفصیلی تجزیہ، ثاقب ملک : ہارون الرشید کے “دگرگوں ہے جہاں،تاروں کی حرکت تیز ہے ساقی پر “

پس منظر
یہ کالم پاکستان کے داخلی معاملات اور دنیا کی موجودہ عالمی سیاست میں جاری حکمت عملیوں پر ہے .
خلاصہ
ہارون الرشید صاحب لکھتے ہیں کہ عالمی حالات سنگین صورت حال کی جانب جا رہے ہیں .وہ لکھتے ہیں کہ عالمی خانہ جنگی پھوٹ پڑی ہے .اسکا مرکز وہ مشرق وسطی کو سمجھتے ہیں .کالم نگار کا کہنا ہے کہ پاکستانی افواج نے قبائلی علاقوں میں نا قابل فراموش قربانیاں دیں ہیں .ہر ہفتے بیس سے پچیس جوان اور افسر شہید ہو رہے ہیں .گو کہ دہشتگرد پسپا ہو رہے ہیں مگر بلوچستان میں ،کراچی میں وہ نئے مرکز ڈھونڈھ رہے ہیں کیونکہ پولیس اور لیویز کا حال بہت پتلا ہے .پولیس صرف سیاسی کاموں کے لئے رہ گئی ہے .
بلدیاتی الیکشن پر لکھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے ایک بار پھر غلطیوں کا ارتکاب کیا ہے .زیادہ متحرک امیدواروں کو چھوڑ کر اپنی پسند یا حمایت یافتہ امیدواروں کو ترجیح دی گئی ہے .انکے خیال میں شاہ محمود قریشی اس باب میں قصوراور ہیں .چودھری سرور چونکہ وسطی پنجاب کی اتنی سمجھ نہیں رکھتے اس لئے وہ بھی کوئی خاص کردار ادا نہیں کر سکتے .ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ دونوں بڑی پارٹیز کا حال برا ہے اور لوگ اب فوج کی جانب دیکھ رہے ہیں .دونوں پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ نوں انتشار اور بے قاعدگی کا شکار ہیں .سوات میں ابھی تک فوج موجود ہے .سول اداروں کی کوئی تشکیل نہیں ہو رہی ہے .قبائلی علاقوں کو نیا صوبہ بنانا ہے یا انھیں خیبر پختون خوا میں ضم کرنا ہے اس پر ایک بھی اجلاس نہیں ہوا .عمران ہوائی گھوڑے پر سوار ہیں اور ادھر نواز شریف نے تین وزیر عمران پر چھوڑ رکھے ہیں .
مقبوضہ کشمیر میں ہارون الرشید کے خیال میں بازی پاکستان کے حق میں پلٹ گئی ہے اور تعصب کو فروغ دینے والی مودی سرکار ہے .مودی کسی معجزے کے منتظر ہیں لیکن انکی نفرت انھیں لے ڈوبے گی .ادھر داعش کی مدد کر کے سعودی عرب اور ترکی نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے .دا عش اب افغانستان اور پاکستان میں بھی قدم جما رہی ہے .روس اس میں اہم فریق بننے جا رہا ہے خاص کر شام کی لڑائی میں اسکا اہم رول ہو چکا ہے .
کالم نگار افغانستان کی میں پاکستان کی حکمت عملی کو ناکام سمجھتے ہیں .انکے خیال می پاکستان کو شمالی افغانستان اور جنوبی افغانستان دونوں میں اپنی حکمت عملی بدلنا ہو گی .ادھر سعودی عرب کی بادشاہت بھی مشکلات کا شکار نظر آتی ہے .لگتا ہے ایسے ہے کہ یہ آخری عالمی جنگ کے ظہور پذیر ہونے کا وقت ان پہنچا ہے جب مسلمانوں کو نجات دلوائے گی .http://dunya.com.pk/index.php/author/haroon-ur-rahid/2015-10-26/13076/75925416#.Vi4s3iv5aKI
تجزیہ
ہارون الرشید صاحب نے اس ایک کالم میں از حد اختصار سے پوری دنیا کے مسائل کو سمیٹ ڈالا ہے .جہاں تک انکا کہنا ہے کہ خانہ جنگی پھوٹ پڑی ہے تو وہ بات غلط نہیں ہے .انکا یہ کہنا بھی درست ہے کہ پاکستان کو از سر نو اپنی حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی .لیکن مجھے انکے اس جملے پر حیرت ہے کہ وہ قبائلی علاقوں میں پاک فوج کی عمدہ کارکردگی کو ہفتے کے ہفتے بیس پچیس شہادتوں سے ملا رہے ہیں .میرے خیال میں اگر واقعی ہی پاک فوج کا اتنا جانی نقصان ہو رہا ہے تو یہ تو پاک فوج کے لئے قابل تشویش بلکہ کسی حد تک قابل شرم کارکردگی ہے .کیا شہید ہو جانا اور وہ بھی اس تسلسل سے ہمیں کامیابی لگتی ہے ؟یہ تو ہماری افواج کی صلاحیتوں کو مشکوک بنانے والی بات ہو گئی کہ ہماری ایٹمی قوت سے مالا مال فوج ان جنگجوؤں سے اتنا نقصان اٹھا رہی ہے .فوج مخالف حلقے بڑی آسانی سے اس ایشو کو اٹھا کر عالمی دنیا میں ایک ایشو بنا سکتے ہیں .
مزید انھوں نے درست کہا کہ سول اداروں کی کارکردگی قابل رحم ہے .پولیس کا کوئی حال نہیں ہے .لیکن یہاں پر انصاف کا تقاضا تھا کہ ہارون الرشید صاحب اپنی فوجی حمایت کی ٹوپی اتار کر سیکورٹی کی ذمہ دار ایجسنیوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا .اپنی فوج اور ایجنسیوں پر انکی بہتری کے لئے سوالات اٹھانے والے کو فورا غداری اور ایجنٹ ہونے سے تشبیہ دے دی جاتی ہے جو کہ ایک لغو حرکت ہے .ایک بار پھر انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کا تذکرہ کرتے ہوے شاہ محمود قریشی کو رگڑا دیا ہے .یہ کالم نگار کی روایتی اپروچ ہے .کچھ عرصہ قبل تک علیم خان اور جہانگیر ترین بھی اس لسٹ میں باقاعدگی سے شامل تھے اب علیم خان پر الزامات کو جو وہ خود بارہا اپنے کالموں میں لگاتے رہے بغیر ثبوت کے سنی سنائی بات قرار دے کر خاموش ہیں .ان سے پوچھا جانا چاہئے کہ اگر آپ پہلے ہی سوچ سمجھ کر الزام لگاتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا اور کیا اتنے سینئر صحافی سے ایسے انتہائی غیر پروفیشنل رویے کی توقع رکھنی چاہئے ؟اب انکے دیگر شخصیات جیسے کہ شاہ محمود قریشی ،سیف الله نیازی وغیرہ پر الزامات کی کیا حیثیت رہ جائے گی ؟
عمران کی سیاسی عدم پختگی کا بھی انھوں نے ایک بار پھر تذکرہ کیا ہے .سوال یہ ہے کہ عمران کو بیس سال سیاست میں ہو چلے ہیں آخر یہ کب سیاست سیکھیں گے ؟اسکا مطلب ہے ان میں اچھے لیڈر کی تمام خوبیاں موجود ہی نہیں ہیں جو اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجو د بھی عمران ابھی تک مدبر کے روپ میں نہیں ڈھل سکے .باقی تو کسی سے امید ہی نہیں ہے مگر عمران کی نہ سیکھنے اور بانوے کے ورلڈ کپ تک محیط ذہنی اور فکری قید نے بہت سوں کو مایوس کیا ہے .
مودی پر ہارون الرشید صاحب نے درست لکھا .مگر کشمیر کی بازی اتنے جلدی اور اتنی آسانی سے پاکستان کے حق میں نہیں پلٹ سکتی .حقیقت یہ ہے کہ صرف پاکستانی کرکٹ ٹیم نے کشمیریوں سے پاکستان کے تعلق کو برقرار رکھا ہوا ہے .کیونکہ پاکستان کی ٹیم جب بھی انڈین ٹیم کو شکست دیتی ہے کشمیری اسے اپنی فتح سے تعبیر کرتے ہیں .لیکن اب پاکستان سے الحاق کشمیریوں کی ترجیح نہیں رہی ہے .اس لئے ہمارے فیصلہ سازوں اور دانشوروں کو جذباتی لفاظی اور کھوکھلے نعروں سے گریز کرنا ہو گا .ہم کشمیر سے دستبردار ہونا افورڈ نہیں کر سکتے مگر فی الحال ہم کشمیر کو اپنانا بھی افورڈ نہیں کر سکتے .ابھی حالات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے تاکہ کشمیری نوجوان ہمیں اور بھارت کو صرف اپنے مقصد کے لئے انھیں استمعال کرنے والا ہی نہ سمجھتے رہیں .یاد رکھا جائے کہ ایسی سوچ کشمیری نوجوانوں میں کافی حد تک پروان چڑھ چکی ہے .
افغانستان کے متعلق ہارون الرشید صاحب نے پاکستان حکمت عملی کو ناکام قرار دیا ہے .لیکن مجھے یاد ہے کہ کچھ عرصہ قبل ہارون الرشید نے پاکستان کی افغان حکمت عملی کو اپنے ایک کالم میں بہت سراہا تھا اور اسکا کریڈٹ اپنے پسندیدہ جنرل کیانی کے ساتھ ساتھ جنرل راحیل شریف کو بھی دیا تھا .نواز شریف سے سیاسی مخالفت کی وجہ سے ہارون الرشید صاحب نے انکے بجائے طارق فاطمی اور وزارت خارجہ کی تحسین کی تھی .اب سوال بنتا ہے کہ کل تک جب آپ دانشور مکھن لگا لگا کر پاکستان کی افغان حکمت عملی کو سراہا رہے تھے اور اپنے تعلق داروں کو بھی بغیر کسی وجہ کے بیان کئے تعریف کا حق دار سمجھ رہے تھے وہ حکمت عملی اچانک کیسے غلط ہو گئی ؟کیا یہ بات غلط ہے یا پچھلی ؟جواب کون دے گا ؟کیا کالم نگار کا حق نہیں بنتا کہ وہ اپنی پچھلی غلط بات کو غلط تسلیم کرے ؟
دا عش پر ہارون الرشید کا تجزیہ بہت عمدہ اور مناسب ہے گو کہ اس پر مزید تفصیل سے بات ہونی چاہئے .انکا یہ کہنا بھی درست ہے کہ مشرق وسطی میں فی الوقت اسرائیل ہی طاقت ور ترین ملک بن کر ابھر رہا ہے .آگے چل کر وہ ایک عظیم جنگ کا خدشہ یا توقع کا اظہار کرتے ہیں جسکا اختتام مسلمانوں کی بہتری اور فتح کی صورت میں ہو گا .یہ باتیں سن سن کر کان پک گئے ہیں .ہر دو تین سال میں ہمارے دانشور اور مذہبی رہنما اپنا سودا بیچنے کے لئے کسی عظیم آخری معرکے کی کہانیاں شروع کر دیتے ہیں .یہ ممکن ہے کہ شیر آیا شیر آیا کی طرح یہ بات کبھی حقیقت بن جائے مگر ہماری ایسی خواہشات کی بنیاد ہماری اپنی موجودہ حالت سے بے زاری ہے .الله کرے کہ مسلمان کامیاب ہوں مگر اسکے لئے خود بھی کچھ کرنا ہو گا سارا کام فی الحال ہم نے الله پر چھوڑ رکھا ہے .
کوٹ ایبل
“ایسا لگتا ہے کہ آئندہ چند برسوں میں ہماری یہ دنیا یکسر بدل جائے گی کیونکہ کرہ خاک کے اکثر بڑے کھلاڑیوں پر پاگل پن سوار ہے ”
“جلسہ عام میں وہ کہتے ہیں کہ ” میں تو گالیوں کے جواب میں بھی دعا دیتا ہوں “ایک نہیں روزانہ تین دعائیں ایک پرویز رشید ،ایک دانیال عزیز اور ایک طلال چودھری کی زبان سے ”
“عمران خان اپنے ہوائی گھوڑے کے قدموں تلے مسلم لیگ کو روند ڈالنا چاھتے ہیں ”
سوال
کیا پاکستان کی افغان پالیسی ناکام ہو چکی ہے ؟ * کیا پاکستان اوربھارت کی جنگ کا امکان ہے ؟ *کیا مشرق وسطی کے بطن سے ایک عالمی جنگ پھوٹ سکتی ہے ؟* کیا مقبوضہ کشمیر میں پاکستان سے الحاق کی حمایت کم ہو رہی ہے ؟* کیا قبائلی علاقوں میں ہماری افواج کی کارکردگی پر کوئی سوالیہ نشان نہیں ہے ؟
ریٹنگ
تجزیے میں اختلاف کے باوجود یہ کالم جتنے مختلف موضوعات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے وہ تعریف کے لائق ہے .میں اسکو ایک اوسط سے تھوڑا بڑھ کر ہی کالم سمجھوں گا مگر نمبر چھ ہی دوں گا

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s