کیا زلزلے انسانوں کی وجہ سے آتے ہیں؟ کیا عذاب بھی ہیں؟ مگر ویسا نہیں جیسا مولوی سمجھتے ہیں .ایک سائنسی اور مذہبی تجزیہ

حالیہ زلزلے پر حسب سابق یہ جو آزمائش اور عذاب کی بحث چھڑ نکلی ہے یہ اسی طرز کی بے معنی ،جاہلانہ اور سفاک حماقت نما بحث ہے جب عرصہ پہلے لوگ نبی کریم صلعم کے نور یا بشر ہونے پر بحث مباحثہ کیا کرتے تھے .بعد میں آئن سٹائن نے بتایا کہ وہی نور جس سے یہ کائنات تخلیق ہوئی ہے ، میٹر بن کر اگر مخصوص رفتار سے سفر کرے تو پھر نور بن جاتا ہے .تو یہ تو ایک ہی چیز کی ورائٹی ہے .
اسی طرح عذاب اور آزمائش کا چکر ہے .آزمائش ،امتحان ہے جو کہ ہماری ساری زندگی کا مقصد ہے .عذاب ،سزا ہے جو الله کے قوانین کی خلاف ورزی پر آٹو میٹکلی نافذ ہو جاتی ہے .مگر عذاب سے ملا حضرات جو مقصد حاصل کرنا چاھتے ہیں کہ یہ عذاب فحاشی سے نازل ہوا یا عریانی سے یا ڈاڑھی نہ رکھنے سے یا فرقے کی توہین پر تو پہلی بات یہ جاہلین بھلا کس طرح الله کی مرضی جان سکتے ہیں کہ کس چیز کا عذاب کس وجہ سے ہے ؟ دوسری بات یہ صرف چودھراہٹ اور لوگوں میں خوف پیدا کر کے اپنا الو سیدھا کرنے کی مکروہ اور گھٹیا کوشش ہے .اب جو لوگ اسے صرف سائنسی لیول پر دیکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ٹیکٹونک پلیٹس کی نہ موزوں چال ہے اور کچھ نہیں تو وہ بھی صاف غلط ہیں .کیونکہ سائنس بتائی ہے کہ زلزلوں کا شدید ہو جانا انسانی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہے .ہاں فحاشی اور عریانی ذمہ دار ہے مگر ذرا مختلف قسم کی .
سائنسدان کافی عرصہ سے اس بات کا تعین کر چکے ہیں کہ پانچ بنیادی عوامل جو موصوف “انسان” کر رہا ہے زلزلوں میں شدت اور اضافے کا سبب بن رہا ہے .
ڈیمز
بہت بڑے بڑے ڈیمز جن سے کسی بھی ملک کے عوام اور معشیت کو بہت فائدہ ہوتا ہے در اصل زمین کے لئے ایک غیر ضروری بوجھ ہیں .خاص کر اگر ڈیم کسی بھی “ٹیکٹونک پلیٹ” پر بنا ہوا ہے تو اس علاقے میں زلزلے کی شدت میں بھی اضافہ ہو گا اور اسکے آنے میں بھی تیزی آ جائے گی .سات سال قبل چین میں آنے والے زلزلے نے قیامت خیز تباہی مچائی تھی سائنسدان اسکا سبب چنگپو ڈیم کی تعمیر کو سمجھتے ہیں .
جیو تھرمل پاور پلانٹس
جہاں بھی جیو تھرمل پاور پلانٹ ہوں گے وہاں “سیسمک میٹرز” پر ریڈنگ بڑھ جائے گی .اس بات کا ثبوت کلیفورنیا کی سب سے بڑی اور طویل فالٹ لائن “سان ایندریاز” سے کچھ دور قائم جیو تھرمل پلانٹ پر سیسمک میٹرز لگانے سے ثابت ہوا .
زمین سے پانی نکالنا
پاکستان میں جس تیزی سے ٹیوب ویلوں نے ترقی کی ہے اور جس طرح سے دھڑا دھڑ یہ لگ رہے ہیں یہ زمین کے اندر موجود بڑے بڑے ٹکڑوں میں “فرکشن ” یعنی رگڑ کا سبب بنتے ہیں .لیکن ہمارے ملک میں کون پوچھتا ہے نہ زمین کی پرواہ نہ عوام کی نہ مستقبل کی بس لگے ہوے ہیں اپنا پیٹ بھرنے میں
بلند عمارتیں
بلند عمارتیں زمین پر بہت بوجھ ڈالتیں ہیں اور اگر فالٹ لائن کے اوپر اتنی لمبی بلڈنگز ہوں تو یہ زلزلے کو دعوت دینے والی بات ہو گی .اسی لئے اسلام آباد اور کراچی میں بلڈنگز کی ایک حد مقرر کی گئی تھی جس کی کسی کو قطعا کوئی پرواہ نہیں ہے .
تیل اور گیس نکالنا
اصل مسلہ زمین سے تیل یا گیس نکلنا نہیں ہوتا بلکہ جو لیکوڈ فالتو ہوتا ہے اسکو اینجینرز دوبارہ انہی سوراخوں میں ڈال دیتے ہیں یہ مواد پھر نیچے جا کر زمین کے اندر موجود ٹکڑوں کو “لبریکیٹ” کر دیتا ہے جس سے انکی موومنٹ میں آسانی اور تیزی آ جاتی ہے .
اس سے یہ تو ثابت ہو گیا کہ زلزلوں میں تیزی اور شدت انسانی کارسانی ہے .مگر مولوی حضرات جس طرح سے اپنی دکان اس پر چمکاتے ہیں وہ سفید جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ہے .اب کیونکہ آخری پیغمبر آ کر جا چکے ہیں اس لئے کسی بھی قوم پر مکمل عذاب تو آ ہی نہیں سکتا اور ایسے وقتی عذاب تو آتے رہیں گے .یہ تو قیامت کی نشانیوں میں سے بھی ہے .اب نبی کریم صلعم کا اونچی اونچی عمارتوں کو قیامت کی نشانیوں میں شامل کرنا سمجھ میں آتا ہے .ہاں زمین کو ہلا دینا الله کا اختیار ہے وہ ہم اس سے نہیں چھین سکتے

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s