سعودی حکومت کی بربریت اور سختی پر نکولس کرٹوف کے نیو یارک ٹائمز میں کالم کا ترجمہ

کوئی دن جاتا ہے کہ ہمارے اتحادی سعودی عرب کی حکومت ایک نوجوان علی النمر کو یا تو پھانسی چڑھا دے گی یا اسکی گردن اڑا دی جائے گی .
اسکی جان بخشی کی تمام اپیلیں ،فیصلہ دینے والی عدالت مسترد کر چکی ہے .یعنی اب کسی بھی دن اسکی گردن کو تلوار کی مدد سے اسکے جسم سے علیحدہ کر دیا جائے گا اور سعودیہ کے پروٹوکول کے مطابق اسکی لاش بیچ چوراہے عبرت کے لئے لٹکا دی جائے گی .
نمر کا قصور کیا تھا ؟اس پر الزام ہے کہ اس نے حکومت مخالف مظاہرے میں حصہ لیا اور فساد کیا .اسکے جرم کی بابت کوئی بھی اور ثبوت نہیں ہے .سوائے نمر کے اپنے اعترافی بیان کے جو کہ اس نے پولیس کے تشدد سے بچنے کے لئے دیا ہو گا .اس شدید ترین تشدد کے بعد اسکی حالت غیر ہو گئی تھی .
“میں جب اس سے ملنے گئی تو میں اپنے بیٹے کو پہچان ہی نہ سکی تشدد سے اسکی اتنی بری حالت تھی کہ مجھے لگا ہی نہیں کہ یہ میرا بیٹا ہے ” نمر کی ماں النسرا احمد نے گارڈین سے بات کرتے ہوے کہا .
نمر کو حال ہی میں قید تنہائی کی کال کوٹھری میں منتقل کر دیا گیا ہے جو کہ پھانسی کے مجرمان کو انکی گردن مارنے سے قبل کر دیا جاتا ہے .انگلینڈ جہاں اسکی سزا کے کافی چرچے ہیں انکا کہنا ہے کہ امید ہے سعودی حکومت اس سزا پر عمل نہیں کرے گی .مگر نمر کی فیملی کو خدشہ ہے کہ کسی بھی دن اسکی سزا پر عمل کر دیا جائے گا .
سعودی عرب میں زمانے وسطی کی سزائیں دیں جاتیں ہے .جادوگروں ،چڑیلوں اور ہم جنس پرستوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوتا ہے .( جو کہ درست ہوتا ہے .ثاقب ملک
اب وقت آ گیا ہے کہ سعودی عرب کی بنیاد پرستی اور رواداری کی بیخ کنی والی حکومت کا محاسبہ کیا جائے .یورپ اور امریکا ہمیشہ سے سعودی عرب کی اسپورٹ میں رہے ہیں کیونکہ وہ اسکو مشرق وسطی جیسے خطرناک علاقے میں میں ایک مستحکم ملک سمجھتے ہیں .لیکن یہی سعودی عرب اپنے ریجن اور مسلم ورلڈ میں شدت پسندی کو فروغ دینے کا سبب بن رہا ہے.
سعودی عرب نے اپنے وہابی مدرسہ کو ایشیا اور افریقہ میں پھیلایا جو کہ شدت پسندی کی وجوہات میں سے ایک ہے .(پاکستان بھی اسکا شکار ہے .ثاقب ملک ) .سعودی عرب نے یمن میں فوج کو بھیجا ،اسکے پورٹس پر قبضہ کیا اور ایران کے خطرے کے سدباب کے لئے یمنیوں کے ساتھ جنگ رکھی جو اب یمنی لوگوں اور بچوں کے لئے ایک عذاب بن چکی ہے .
سعودی حکومت میں ایک منافقت بھی بہت شدت سے پائی جاتی ہے .ابھی حال ہی میں ایک برٹش بوڑھے کو شراب کی بوتل رکھنے پر کوڑے مارے گئے مگر سعودی حکومتی پارٹیوں میں دھڑا دھڑ شراب انڈیلی جاتی ہے .
ایک سعودی شہزادہ مجید عبدلعزیز ال سعود کو حال ہی میں لاس اینجلس میں چھتیس ملین کے کرائے کے محل میں منشیات رکھنے،کال گرلز رکھنے ،لوگوں کو قتل کی دھمکیاں دینے اور حد سے نوشی پر گرفتار کیا گیا .شہزادے کا کہنا تھا کہ وہ پرنس ہے اسکی مرضی جو چاہے کرے .
میں نہیں سمجھتا کہ سعودی عرب ہمارا دشمن ہے مگر وہ ایک مسلہ ضرور ہے .سعودی عرب چاہئے تو مسلم ورلڈ کی بہتری کے لئے بہت کچھ کر سکتا ہے .وہ سنی شیعہ کو متحد کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے .لیکن ابھی تک اسکا رول اس سے الٹ رہا ہے .سعودی عرب سمجھ لیں کہ شدت پسندی ،عدم برداشت اور عورتوں کو پابند کرنے کو لیگل سمجھتا ہے .وہاں عورتیں گاڑی نہیں چلا سکتیں اور کچھ مذہبی رہنما تو انہیں سیٹ بیلٹ بھی نہیں باندھنے دیتے کیونکہ انکے خیال میں اس سے ان کے جسم نمایاں ہو جاتے ہیں .
حد تو یہ ہے کہ ایرانی بھی سعودی عرب کے رویے پر اور خاص کر عورتوں کے حوالے سے کردار بھی اسکا ٹھٹھا اڑا رہے ہیں .اگر ایران جیسا روایتی ملک بھی سعودی عرب کا مذاق اڑا سکتا ہے تو سعودی عرب کو بہت بڑے مسلے کا سامنا ہے .
ابھی حال ہی میں ایک نوجوان مصنف رفیع البداوی کو ریفارم کے ایجنڈے یعنی عورتوں کی آزادی ،تعلیم کی پالیسی میں تبدیلی کے مسلے کو اٹھانے کی پاداش میں ہزار کوڑوں ،دس برس قید اور لاکھوں کے جرمانے کی سزا دی گئی ہے .ممکن ہے امریکا نے ایران ڈیل کے لئے سعودی عرب کو گلے لگا رکھا ہو مگر اب وقت آ گیا ہے کہ آئینہ دکھا دیا جائے

.http://www.nytimes.com/2015/10/29/opinion/sentenced-to-be-crucified.html?ref=opinion&_r=0

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s