ڈاکٹر طہٰ حسین :حضرت عثمان تاریخ اور سیاست کی روشنی میں

لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ عام الرماد میں جب حضرت عمر نے عوام کی تنگدستی اور فقر کو دیکھا تو خود انتہائی تنگد ستی اور اور فقر و فاقہ کی زندگی اختیار کر لی۔
جب آپ کو پتہ چلا کہ لوگوں کو گھی نہیں مل رہا ہے تو آپ نے اس کا استعمال چھوڑ دیا ، سوکھی روٹی اور تیل پر صبر کرتے رہے۔ پھر یہ تیل بھی آپ پر گراں گذرنے لگا۔ آپ کو خیال آیا کہ شاید پکنے کے بعد تیل اپنی تیزی کھو دے اور ہاضم اور لذیز ہو جائے چنانچہ اپنے غلام کو تیل پکانے کا حکم دیا لیکن جب آپ نے کھایا تو سخت تکلیف ہوئی،اس کی وجہ سے آُپ کی صحت پر بھی اثر پڑا ،حتیٰ کہ آپ کا رنگ تک خراب ہو گیا لیکن مسلمان آپ کو روک نہ سکے اس لیئے کہ آپ نے خوش خوراکی سے اس وقت تک کے لیئے انکار کر دیا جب تک کہ عام مسلمان خوشحآل نہ ہو جایئں۔
تنہائی میں اپنے نفس کو یاد دلاتے تھے کہ اے خطاب کے لڑکے ! آج تو امیر المومنین بن گیا ہے ،کل تک اسلام سے قبل تو ایک چرواہا تھا اور اپنے باپ خطاب کی بکریاں چراتا تھا ،لوگ ابھی یہ بھولے نہیں ،ان کو تو وہ جگہ بھی معلوم ہے جہاں تو جانور چراتا تھا۔
اپنی ذات پر اتنی سختی برداشت کرنے کے بعد گھر والوں کو بھی مجبور کرتے تھے ۔جب کبھی عوام میں کسی بات کی ممانعت کا اعلان فرماتے کہ خلاف ورزی پر سزا دی جائے گی تو گھر والوں کو اکٹھا کرتے اور ان سے فرماتے کہ میں نے مسلمانوں کو فلاں کام سے منع کیا ہے اور خلاف ورزی پر سزا دینے کا اعلان کیا ہے لوگ میرے تعلق کی وجہ سے تم پر نظر رکھیں گے ،اگر مجھے پتہ چلا کہ تم میں سے کسی نے خلاف ورزی کی تو اسے دوہری سزا دونگا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s