جب علامہ اقبال اپنے بیٹے کے کرایہ دار بنے .عماد بزدار کا ڈاکٹر جاوید اقبال کی کتاب “اپنا گیریبان چاک ” سے اقتباس

اماں جان کی بڑی آرزو تھی کہ ابا جان تمام دن گھر پر پڑے رہنے کی بجائے کہیں ملازمت کر لیں۔ یہ سن کر ابا جان عموماً مسکرا دیا کرتے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بچپن میں میں نے بھی اس معمے کو سلجھانے کی بارہا کوشش کی کہ میرے ابا جان کام کیا کرتے ہیں۔ اگر کوئی اجنبی مجھ سے یہ سوال پوچھ بیٹھتا تو میں خاموش ہو جاتا کیونکہ میں خود نہ جانتا تھا۔ اسی طرح اماں جان اس بات پر مصر رہتیں کہ کرائے کا گھر چھوڑ کر اپنا گھر بنوائیے۔ ان ایام میں ہم میکلوڈ روڈ پر رہا کرتا تھے۔ چند سالوں بعد اماں جان کے ،گھر کے اخراجات سے بچائے ہوئے، روپوں سے زمین خریدی گئی اور ’جاوید منزل‘ کی تعمیر شروع ہوئی۔ زمین اور مکان اماں جان کے نام تھے اور انہی کی ملکیت تھے۔ بہر حال،جب تعمیر مکمل ہو گئی تو ہم میو روڈ پر اٹھ آئے۔ لیکن اماں جان نئے گھر میں بیمار گاڑی پر ہی لائی گئیں کیونکہ ان دنوں وہ سخت علیل تھیں۔ انھیں چار پائی پر لٹائے اندر لایا گیا۔ دوسرے دن ابا جان جب انھیں دیکھنے کے لیے زنانے میں آئے تو انھوں نے اپنے ہاتھ میں کچھ کاغذات اٹھا رکھے تھے۔ آپ نے اماں جان سے کہا کہ اس مکان کو جاوید کے نام ہبہ کر دو لیکن اماں جان نہ مانتی تھیں وہ کہتی تھیں کہ مجھے کیا معلوم یہ لڑکا بڑا ہو کر کیسا نکلے۔ میں انشاء اللہ جلد صحت یاب ہو جاؤں گی۔ آپ کسی قسم کا فکر نہ کریں۔ لیکن ابا جان نے انھیں آگاہ کیا کہ زندگی اور موت تو خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ اس پر انھوں نے ہبہ نامہ پر دستخط کر دیئے۔ یوں ’جاوید منزل‘ میرے نام منتقل ہو گئی۔ ابا جان نے کرایہ نامہ بھی تحریر کیا جس کی رو سے آپ میرے کرایہ دار کی حیثیت سے رہنے لگے۔ آپ سامنے کے تین کمروں میں رہائش کا کرایہ ہر ماہ کی ۲۱تاریخ کو ادا کرتے تھے۔ نئے گھر میں قدم رکھنے کے تیسرے یا چوتھے روز اماں جان پر اچانک غشی کا عالم طاری ہو گیا۔ کوئی پانچ بجے شام کے قریب جب مجھے ان کے پاس لے جایا گیا تو وہ بستر پر بیہوش پڑی تھیں۔ میں نے ان کے حلق میں شہد ٹپکایا اور روتے ہوئے کہا کہ اماں جان میری طرف دیکھئے۔ انھوں نے آنکھیں کھول دیں۔ لحظہ بھر کے لیے میری طرف دیکھا اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔ اسی شام انھوں نے غشی کے عالم میں داعی اجل کو لبیک کہا اور رات کو دفن کر دی گئیں۔ ان کی وفات کے وقت میری عمر دس برس تھی اور منیرہ کی چار برس۔ اماں جان کے انتقال کے بعد ہم دونوں بچے ابا جان کے زیادہ قریب آ گئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جس وقت اماں جان فوت ہوئیں تو ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے، روتے روتے ابا جان کے کمرے کی طرف گئے۔ وہ حسب معمول اپنی چار پائی پر نیم دراز تھے کیونکہ ان دنوں خود بھی بیمار رہتے تھے۔ گلا بیٹھ چکا تھا اور صاف بول نہ سکتے تھے۔ میں اور منیرہ ان کے دروازے تک پہنچ کر ٹھٹھک سے گئے۔ یوں روتے کھڑا دیکھ کر انھوں نے انگلی کے اشارے سے ہمیں قریب آنے کو کہا، اور جب ہم ان کے قریب پہنچے تو ایک پہلو میں مجھے اور دوسرے میں منیرہ کو بٹھا لیا۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ پیار سے ہمارے کندھوں پر رکھ کر قدرے کرختگی میں مجھ سے گویا ہوئے:’’تمہیں یوں نہ رونا چاہیے!یاد رکھو‘ تم مرد ہو‘ اور مرد کبھی نہیں رویا کرتے۔ ‘‘اس کے بعد اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ انھوں نے ہم دونوں بہن بھائیوں کی پیشانیوں کو باری باری چوما۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s