پنجاب سے کامیابی ،پاکستانی حکومت کی کنجی کیوں ؟ اقبال خورشید کی نئے صوبوں کے قیام پرتحریر

انتظامی بنیاد پر نئے یونٹس کا قیام نہ صرف مختلف قومیتوں کا مطالبہ ہے، بلکہ یہ یوں بھی سودمند ہے کہ ایک جانب جہاں تعصب اور الزامات کی سیاست میں واضح کمی واقع ہوگی، وہیں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز زیادہ جامع اور موثر انداز میں کیا جاسکے گا۔
دنیا میں ایسی مثال کم ہی ہوگی، جہاں اٹھارہ انیس کروڑ کی آبادی فقط چار (اب پانچ) یونٹس میں منقسم ہے۔ اور آٹھ کروڑ سے زیادہ آبادی فقط پنجاب کی ہے۔ یہ امر حیرت انگیز ہے کہ گذشتہ سات عشروں میں ہماری آبادی تو بڑھی، مگر ہم نے نئے یونٹس نہیں بنائے۔
پنجاب کی آبادی انتخابی سیاست میں اس کی برتری پر مہر ثبت کر دیتی ہے۔ مثلا کوئی جماعت تمام صوبوں سے ہار جائے، فقط پنجاب سے جیت جائے، تو وہ وفاق میں حکومت بنا لے گی، ہاں بالائی ایوان کے معاملے میں جوڑ توڑ کی جاتی ہے، مگر وفاق میں حکومت بنانے کے لیے پنجاب کی جیت کافی ہے۔
جہاں تک سندھ کا تعلق ہے، سندھ کے شہری اور قصباتی علاقوں میں واضح فرق ہے۔ کراچی کا قریب ترین شہر اور سندھ کا دوسرا بڑا مرکز حیدرآباد ترقیاتی اور انفرا اسٹرکچر کی لحاظ سے جدید شہری زندگی سے دور نظر آتا ہے۔ ایسے میں فطری تصور تو یہی ہے کہ کراچی کو الگ یونٹ بنا دیا جائے۔ بلدیاتی نظام اس ضمن میں کچھ حل فراہم کرتا ہے۔ مسئلہ سندھ میں پی پی کی حکومت ہے، کراچی کی زمین سونا، صنعتیں ادھر، دھندا ادھر، ان کا ووٹ بینک اندرون سندھ۔ میں ہے وہاں سے ہی جیتے ہیں، کراچی میں آرام کرتے ہیں۔ وہ اس تقسیم کے خلاف،ہیں تو یہ قابل فہم ہے ۔      https://www.facebook.com/iqbal.khursheed

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s