انتظامی بنیاد پر صوبے بنائیں ،لسانی بنیاد پر نہیں (پارٹ ٹو ) محسن حدید

صوبے بننے چاہئیں اس پر تو کوئی دوسری رائے ہی نہیں ھو سکتی ظاہر ھے با لکل بننے چاہئں. لیکن کن بنیادوں پر یہ سوال نہایت ہی اہم ھے۔ اس لئے کہ اس کے براہ راست اثرات ہماری ملی وحدت پر پڑتے ہین۔ مثال کے طور پر اگر صوبے بنیں تو پھر کراچی کو صوبہ بننے سے روکنے کا ہمارے پاس کیا جواز رہ جائے گا۔ وہاں تو ایک خاص جماعت کے لوگ بہت دیر سے اس بات کے انتظار میں بیٹھے ہیں کہ کب صوبوں کی بات چھڑے اور کب ہم اسے لسانی رنگ دے کر ہائی جیک کرلیں ۔ اگر سندہ سے کراچی نکال دیا جائے تو پیچھے بچ جانے والا سندھ کیسا ھوگا ۔ بھوکا ننگا ان پڑھ اور پسا ہوا سندھ ۔ کیا یہ انارکی کی طرف نہیں دھکیل دیں گے ہم سندھ کو۔
دوسری مثال جنوبی پنجاب کی ھے۔ میں خود اس علاقے سے ہوں اس کا مجوزہ صدر مقام بہاولپور بھی ہو سکتا ھے اگر ہم بہاولپور اور بہاولنگر کی مثال ہی لے لیں تو تصویر سامنے آجاتی ھے ۔ خدانخواستہ لسانی بنیادوں پر صوبہ بن جاتا ھے اور ظاہر ہے وہ سرائیکی صوبہ ہوگا۔ تو ہم جیسے سیٹلرز/آبادکار جن سے پہلے ہی سرائیکی بھائی خائف ہیں وہ کہاں جائیں گے ۔ اور بہاولنگر جیسے ضلع کو جس میں شائد کوئی بھی سرائیکی نا ھو اسے اک سرایکی اکثریتی صوبے میں شامل کر دینے کے مضمرات کسی نے سوچے ہیں۔ اگر اس حوالے مثال سمجھنی ھو تو بہاول وکٹوریہ ہسپتال میں سرائکیوں کا پنجابیوں سے رویہ دیکھ لیں ۔ ہسپتال کی مثال اس وجہ سے دی ہے کہ بہت سال پہلے میں اس روئے کو بھگت چکا ہوں (میں اسے نفرت انگیز یا شرارت آمیز نہیں کہتالیکن امتیازی ضرور ہے ) حالانکہ میرے بہت سارے دوست سرائیکی ہیں اور محبت کرنے والے بھی ہین ۔اور ان سے سیکھا بھی بہت کچھ ہے۔( مثال کے طور پر عامر ہاشم خاکوانی اور رؤف کلاسرا )لیکن جب ایک قوم کا حق غصب کیا جائے جو کہ تخت لاھور کے پنجابیوں نے یقیننا کیا بھی ھے تو توازن کھو جانا کوئی بڑی بات نہیں۔
بات بہت لمبی ھو گئی ھے آخری بات جو لوگ یہ مثال دیتے ہیں کہ انڈیا نے صوبے بنادئے یاپنجاب کی آبادی بہت زیادہ ھے تو بھائی لوگو یہ کوئی جواز نہیں خود انڈیا میں ہی اتر پردیش کی آبادی پاکستانی پنجاب سے تقریبا ڈبل 20 کروڑ ھے جبکہ مہاراشٹر(11 کروڑ 23 لاکھ) اور بہار(10کروڑ40 لاکھ) کی بھی اس کے برابر ہے ۔ اس لئے صرف تعداد یا زبان نا ہ بنیادی مسئلہ ہے اور نا ہی مسئلے کا حل۔ اس کا واحد حل انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل اور وہ بھی قومی اتفاق رائے کے ساتھ ہو

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s