ممتاز مفتی کا وفات سے قبل ایک یادگار انٹرویو :عماد بزدار کا انتخاب

ممتاز مفتی (۱۱ ستمبر ۱۹۰۵ تا ۳ نومبر ۱۹۹۵) ٭ پہلی کہانی ایک دوست کی تحریک پر لکھی جو کہ پسند کی گئی۔ آپ کے خیال میں آپ کے فن کی اساس کیا ہے? God gifted ہے۔ زندگی کے تجربات و مشاہدات کی بنا پر سفر جاری ہے یا کہانی آپ سے خود کو لکھواتی ہے۔ ٭٭ نہ ادب لکھنا آتا تھا۔ نہ ادب کا شوق تھا۔ نہ اردو زبان آتی تھی۔ نہ کہانی اپنے آپ کو خود لکھواتی ہے۔ نثر نگاری مشقت کا کام ہے مگر ہم ادیب لوگ فلسفہ بہت بگھارتے ہیں۔ میرے پاس ایسی کوئی بات نہیں۔ ٭ کامیاب ادیب بننے کے لئے زندگی میں ناکام ہونا ضروری ہے کیا؟ ٭٭ یہ سوال بے معنی ہے۔ ادیب بننے کے لئے عملی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا کوئی تعلق نہیں۔ میں نے اپنی کتاب ’’اوکھے لوگ‘‘ میں یہ بات بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ ادیب لوگ ذرا Difficultہوتے ہیں۔ یہ لوگوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا جانتے ہیں نہ اپنے ساتھ۔ ادیب اور عام آدمی میں یہ ہی فر ق ہے۔ ادیب میں شدت زیادہ ہوتی ہے۔ حسیات (Sensitivity)زیادہ ہوتی ہے۔ زیادہ لکھتا ہے ، زیادہ سنتا ہے۔ زیادہ محسوس کرتا ہے۔ جو Hyper Intelligenceاور Hyper Sensitivityدونوں بلیڈ کی طرح ہوتی ہیں جو دوسروں کو بھی کاٹتی ہیں اور خود کو بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ادیب زندگی کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ نہیں کر پاتا۔ ٭ کیا کوئی اعلیٰ درجہ کا ادیب غیر ترقی پسند بھی ہو سکتا ہے؟ ٭٭ یہ بڑی فضول سی بات ہے۔ میں شروع سے ترقی پسندوں کے خلاف رہا ہوں۔ یہ ایک سیاسی تحریک تھی۔ انہوں نے خود کو روٹی کپڑا مکان پر محدود کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ یہ لوگ مذہب کے حق میں نہ تھے۔ میرے نزدیک ادب کا مقصد مادی آسائش نہیں ان لوگوں نے چالاکی سے اس کا نام رکھ دیا ترقی پسند۔ یہ لوگ کہتے تھے کہ مزدور کے حق میں لکھو اور سرمایہ داری کے خلاف آواز اٹھاؤ۔ یہ کیپٹلزم (Capitalism)کے خلاف پروپیگنڈہ تھا جسے ہر ملک میں روس کنٹرول کرتا تھا۔ میں اس کے خلاف اس لئے تھا کہ یہ ادبی تحریک نہ تھی بلکہ سیاسی تحریک تھی۔ ٭ کوئی تحریر کہاں جا کر عریانی اور فحاشی کے زمرے میں آتی ہے؟ ٭٭ قاری خود جاتے ہیں ، تحریر نہیں جاتی۔ ادب میں کچھ لکھنے والے جنسیات پر بات کرتے ہیں۔ مثلاً میں کرتا ہوں ، منٹو کرتا تھا، فحاشی کا اپنا اپنا تصور ہوتا ہے۔ مولوی کے نزدیک سر پہ دوپٹہ نہ لینا فحاشی ہو سکتی ہے اور میرے نزدیک برہنگی بھی فحاشی نہیں ہوتی۔ یہ اپنے اپنے ذہن کی اپروچ ہے۔ البتہ جنس کے علم کو عام ضرور ہونا چاہئے۔ فحاشی ایسی صورت میں پیدا ہوتی ہے جب لکھنے والے کا مقصد لذت ہو۔ ٭ محبت اور نفرت کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ ٭٭ پھر وہی بات میری جان محبت اور نفرت دو مختلف چیزیں ہیں۔ دونوں جذباتی کیفیتیں ہیں۔ دونوں میں شدت ہوتی ہے جذبات جب چھڑ جاتے ہیں تو پتہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ نفر ت ہے یا محبت۔ اظہار کرنے کے بعد ہی فیصلہ ممکن ہے۔ وصل جو ہے اس کا محبت سے کوئی تعلق نہیں۔ جہاں وصل آ کیا وہاں محبت ختم۔ جسمانی ملاپ محبت کا دشمن ہے۔ اصل محبت خواہش کے بغیر ہوتی ہے۔ ٭ آزادیِ اظہار کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ لامحدود ہونا چاہئے؟ ٭٭ آزادیِ اظہار ایک سیاسی یا صحافی نقطہ نظر ہے جس کا ادب سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی چیز کے اظہار آزادی کے وقت لوگ یہ کہتے ہیں تو میں اس سے یہ سمجھتا ہوں کہ وہ حکومت وقت کے خلاف لکھنے کی آزادی مانگتا ہے۔ بہرحال آزادی بھی کئی قسم کی ہوتی ہے۔ مذہبی آزادی، ادبی آزادی اور معاشرتی آزادی۔ یہ سوال تفصیلی ہونا چاہئے۔ ٭ ناول ، افسانے ، ڈرامے اور شاعری میں سے کس صنف کو آپ سب سے افضل سمجھتے ہیں؟ ٭٭ سب سے بڑا فن شعر و سخن ہے۔ میرے نزدیک اس سے بڑا فن کوئی نہیں۔ ہر نیا خیال، ایجاد، تھیوری سائنسی اصول کا اظہار سب سے پہلے شعر وسخن میں آتا ہے۔ ٭ انگلستان اور امریکہ میں آج وہ انگریزی نہیں لکھی جاتی جو پچھلی صدی میں لکھی گئی۔ اردو کی لسانی تشکیل میں آپ کا بہت حصہ ہے۔ اس کی نشاندہی فرمائیں۔ ٭٭ بھئی بات یہ ہے کہ ہر زبان وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی ہے۔ اس میں اردو انگریزی کا کوئی سوال نہیں۔ وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو نہیں بدلو گے تو پیچھے رہ جاؤ گے۔ اردو بھی اپنے آپ کو بدل رہی ہے۔ میرے خیال میں اردو کو اپنے اندر سندھی، بلوچی، پنجابی اور پشتو کو زیادہ سے زیادہ سمونا ہو گا۔ مثال کے طور پر انڈیا کے شہر بریلی میں بانس پیدا ہوا کرتے تھے اور سارے ملک میں بھیجے جاتے تھے۔ کوئی بریلی میں کہیں سے بانس لے آیا تو لوگوں نے محاورہ بنا لیا کہ الٹے بانس بریلی کو۔ اب لوگوں کو اس محاورے کے بارے میں کیا پتہ۔ بہرحال اردو کا معیار بڑھا ہے اور خاص کر پنجاب، سندھ اور سرحد نے اردو کو ان۔ رچ (enrich)کر دیا ہے۔ ٭ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا تھا کہ میں انگریزی میں سوچتا ، اردو میں لکھتا اور پنجابی بولتا ہوں ، اس تضاد نے آپ کی تحریر پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں یا مثبت؟ ٭٭ دیکھیں مجھے اردو زبان نہیں آتی۔ یہ بات میرے لئے بیک وقت بہت بڑی بدقسمتی اور بہت بڑی خوش قسمتی ہے۔ اگر آپ کو اردو زبان آتی ہے تو آپ اپنے خیالات کا اظہار بندھے ٹکے محاروں میں بیان کر دیتے ہیں۔ بندھے ٹکے رسمی محاورے آپ کے خیالات کو پورے طور پر بیان نہیں کر سکتے۔ آپ کی تحریر میں شگفتگی نہیں آئے گی۔ باسی پن محسوس ہو گا۔ آپ کی تحریر مشکل ہو جائے گی اور سادگی اور روانی نہیں رہے گی۔ زبان نہ آنے کی صورت میں نئے محاورے نئے انداز تلاش کرو گے جس سے حسن کی دریافت ہو گی اور نئی بات بھی پیدا ہو گی۔ ایک دفعہ میں اشفاق احمد کے پاس گیا اور کہا یار اشفاق مجھے اردو نہیں آتی تُو مجھے پنجابی کے ایسے لفظوں کی فہرست بنا دے جو اردو میں بھی مستعمل ہوں۔ اس نے ایک کتاب چھاپ دی عنوان تھا ’’اردو کے خوابیدہ الفاظ‘‘ جب اس کتاب کو اردو بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا تو انہوں نے کتاب چھاپنے پر اعتراض کیا۔ ان کے خیال میں یہ کتاب بے معنی تھی۔ ان سے کہا جناب جو پنجابی ادیب اردو زبان لکھتے ہیں ان کے لئے آسانی پیدا ہو۔ جواب میں بورڈ کے ارکان نے فرمایا کہ کون کہتا ہے یہ الفاظ اردو میں مستعمل ہیں۔ جواب میں اشفاق احمد نے ’’نور اللغات ‘‘کا حوالہ دیا جو اردو کی تسلیم شدہ لغت ہے۔ اس میں ان لفظوں کو مستعمل قرار دیا گیا ہے۔ جواب میں بورڈ نے کہا کہ یہ بالکل مستعمل نہیں ہیں۔ اتھارٹی ہم اہل زبان ہیں۔ ہم اعلان کرتے ہیں یہ الفاظ پہلے مستعمل تھے اب نہیں ہیں۔ ٭ خواتین تخلیق کا سرچشمہ ہیں مگر ہمارے ادب میں خواتین اہل قلم کی تعداد بہت کم ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ ٭٭ تخلیق کا مطلب تو تخلیق ہی ہے۔ اس سے لکھنے کا کوئی تعلق نہیں۔ ملکی حالات کے حوالے سے یہ تعداد بھی زیادہ ہے جو تخلیق قدرت نے ان کے ذمہ لگائی ہے اس کا رزلٹ بارہ کروڑ کی صورت میں سامنے ہے۔ ٭ تخلیقات کے معیار اور مقدار کے لحاظ سے آپ کو اردو ادب میں قابل رشک مقام حاصل ہے ، ذاتی طور پر آپ اس سے مطمئن ہیں؟ ٭٭ تمہارا تو دماغ خراب ہے۔ کس نے کہہ دیا تم سے کہ میں اردو ادب میں قابلِ رشک مقام پر ہوں۔ میں نے حتی المقدور کوشش کی ہے اپنے خیالات کا اظہار کروں۔ تمام خیالات کا اظہار کر بھی نہیں پایا البتہ اتنا ضرور ہے کہ جو بات میں کہنا چاہتا تھا شاید ابھی تک کہہ نہیں پایا۔ یہ مقام قابل رشک نہیں سمجھا جا سکتا۔ ٭ کیا آپ اپنی ادبی اور غیر ادبی زندگی سے مطمئن ہیں؟ ٭٭ بھئی زندگی میں ، میں نے بہت کچھ دیکھا ہر قسم کا تجربہ حاصل کیا۔ مجھ سا خوش قسمت کون ہو گا۔ میں نے سب کچھ دیکھ لیا۔ میری کوئی حسرت باقی نہیں۔ تمام انسانی جذبوں سے آشنا ہو کر پرُسکون زندگی گزار رہا ہوں۔ زندگی بڑی خوبصورت ہے اس کے تمام دکھ درد اور خوشیاں بہت ہی خوبصورت ہیں۔ ٭ ملک میں ادب کے فروغ کے لئے اقدامات ضروری ہیں۔ سرکاری ادارے مثلاً ریڈیو، ٹیلی ویژن اپنا کردار احسن طریقے سے انجام دے رہے ہیں؟ ٭٭ سرکاری اداروں کو ادب کا پتہ ہی نہیں وہ تو پریشر گروپ کو مانتے ہیں۔ ادیبوں کو تو گھاس بھی نہیں ڈالتے تو ہماری تجاویز کو کیا چاٹیں گے۔اس کا اندازہ اس ایک بات سے لگا لیں کہ آج تک کسی وزیر نے سامع کی حیثیت سے کسی ادبی تقریب میں شرکت نہیں کی۔ ٭ آپ ماشاء اللہ ہندو پاک کے بہت ہی سینئر افسانہ نگار ہیں۔ بیشتر لوگوں کا عمر بڑھنے کے ساتھ نوجوان نسل سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے جبکہ آپ کے قارئین کی اکثریت اب بھی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟ ٭٭ اس کا جواب یہ ہے کہ زندگی میں ہمیشہ میری یہی کوشش رہی ہے کہ اپنے اندر معززیت پیدا نہ ہونے دوں۔ جو لوگ معزز بن جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو بہتر اور برتر سمجھنے لگتے ہیں اور اس واسطے ان کا رابطہ نوجوان نسل سے ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ اب وہ نصیحت کا رشتہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بہت خطرناک بیماری ہے۔ یہ اگر ادیب میں پیدا ہو جائے تو وہ ری فارمر (Reformer)بن جاتا ہے۔ ٭ کیا آپ موجودہ اردو افسانے کی کیفیت سے مطمئن ہیں؟ ٭٭ میں پکاتا ضرور ہوں چکھتا بالکل نہیں یہ کام نقاد کا ہے۔ نقاد پر چھوڑ دیں۔ فی الحال تو میں کم از کم نقاد نہیں ہوں۔ دنیا میں نئی چیزیں پیدا ہوتی رہیں گی اور افسانے میں بھی تبدیلی آتی رہے گی اور تبدیلی بہت ضروری ہے۔ یہ وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ کون سی چیز کو دوام حاصل ہے اور کون سی چیز کو نہیں۔ ٭ اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں میں سے آپ کا پسندیدہ افسانہ نگار؟ ٭٭ ذاتی طور پر بیدی سے بہت متاثر ہوں۔ میرے نزدیک بیدی بہت بڑا لکھنے والا تھا۔ اس کی بدقسمتی کہ وہ فلم لائن میں چلا گیا اگر ڈاک خانے میں رہتا تو بہت بڑا تخلیق کار ہوتا۔ فلمی دنیا کی (ایفلونس) اور عیاشی کی زندگی اسے گھن کی طرح کھا گئی جس کا مجھے بہت افسوس ہے۔ ٭ افسانے میں کہانی پن کے عنصر کی کیا اہمیت ہے؟ ٭٭ میرے خیال میں افسانے میں کہانی پن کا عنصر لازم ہے۔ میرے نقطہ نظر سے یہ ضروری ہے کہ قاری سوچے اب کیا ہو گا۔ ٭ کیا ہم کسی ادیب کی تحریر کو اس کی ذاتی زندگی سے الگ کر کے دیکھ سکتے ہیں؟ ٭٭ ضروری نہیں کہ ناصح صاحب عمل بھی ہو۔ ٭ نئی نسل کے بارے میں آپ کا مجموعی تاثر کیا ہے؟ ٭٭ نئی نسل زیادہ حساس ہے۔ زیادہ ذہین ہے۔ زیادہ صلاحیتوں کی مالک، ذہنی طور پر زیادہ ویل ان فارم (Well in form)ہے اور ہماری طرح (ہیپو کریٹ) نہیں ہے۔ اس وقت نئی نسل کو گمراہ کرنے میں سیاستیوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ بہرطور میرا ایمان ہے کہ جو کچھ بھی کرنا ہے وہ نئی نسل ہی کرے گی۔ ٭ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو اپنی کہانی ’’سمے کا بندھن‘‘ بہت پسند ہے کیا یہ درست ہے؟ ٭٭ اس سوال کا جواب میں لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کروں گا کہ یہ کہانی مجھے کیوں پسند ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s