ملک نئے صوبے بنانے سے نہیں ،محرومیوں سے ٹوٹے گا .عماد بزدار کا صوبوں کی بحث پر تجزیہ

ہماری نا اہل اشرافیہ نے اسلام اور حب الوطنی کے نام پر جو مرکزیت ہم پر مسلط کی میری رائے میں اس کی وجہ سے عوام اور خواص کے درمیان تقسیم کی لکیر مزید گہری ہو گئی۔ اگر ہمارے ہمسائے ایران اور افغانستان تیس سے اوپر صوبے افورڈ کر سکتے ہیں تو اگر ہمارے ہاں 4 سے 8 صوبے بن جائیں تو کونسی قیامت آ جائے گی؟ یہاں جس جس نے اپنی بے اختیاری کا گلہ کیا، شناخت پر زور دیا یا محرومیوں کا رونا رویا،اسے عقیدوں کے غباروں سے بہلانے کا نسخہ کیمیا تجویز کیا گیا۔
اگر پورے بلوچستان کے قومی اسمبلی کے سیٹس ملا کر لاہور شہر جتنے ہوں تو کیا اس میں ہمارے لیئے سوچنے کا سامان ہو گا کہ نہیں؟ 2013 کے الیکشن میں روف کلاسرہ کے مطابق ریزرو سیٹس پر منتخب ہونے والی 50 فیصد خواتین کا تعلق شہرِ لاہور سے تھا تو ایسے میں راجن پور میں بیٹھا کوئی عاشق بزدار اپنے آپ کو تختِ لاہور کا قیدی محسوس کرتے ہوئے حق بجانب نہیں ہو گا؟؟ کیا یہ نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے اس کی حب الوطنی مشکوک ہو گئی؟؟ اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم کی یہی شکل ہمیں باقی صوبوں سندھ اور خیبر پختون خواہ میں بھی نظر آتا ہے کہ ترقی کے ثمرات مضبوط مرکز کی آڑ میں چند شہر ہی سمیٹ رہے ہیں۔۔ نئے صوبے کیسے بنیں کس شہر کو کس کے ساتھ ملایئں یہ میں نہیں جانتا میں صرف یہ جانتا ہوں کہ نئے صوبے بننے چاہیئں ۔ ہمیں اس خوف کو اپنے اعصاب پر سوار کرنے کے بجائے کہ نئے صوبے بننے سے مبادا ملکی سالمیت کو کوئی خطرہ در پیش ہو سکتا ہے، مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیئے کہ ملک اختیارات کی تقسیم سے نہیں نا انصافیوں اور محرومیوں سے ٹوٹتے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s