نیا تنازعہ نہیں چاہئے ،عوام کے مسائل حل کرو ،نئے صوبوں کا لالی پاپ نہ چھنکاؤ .ذیشان اعوان کا تجزیہ

صوبوں کے حوالے سے جب بحث ہوتی ہے تو محرومیوں کے مارے اضلاع کے لوگ سمجھتے ہیں کہ اب تو انہیں کچھ مل جائے گا، اصل مسئلہ صوبوں کا بڑا ہونا نہیں ہے بلکہ ہمارے حکمرانوں کا دل چھوٹا ہونا ہے۔۔ ہم سارے روتے ہیں کہ شہباز شریف سارے پیسے لاہور پر لگا دیتا ہے لیکن حادثوں کیلئے مشینری ملک ریاض اور فوج کی ہوتی ہے تو سوال یہ ہے سات سالوں میں سات سو ارب سے زیادہ لگانے کے باوجود وہاں یہ حال کیوں ہے۔۔ صوبوں کے حوالے سے باتیں خوشنما ہیں، بے شک ضرورت ہیں لیکن کیا ایسا ہمارے ہاں یہ ممکن ہے؟ اس پر بات ہونی چاہیے مگر باقی باتیں بھی ہونی چاہیں کہ اس نظام میں اگر پچاس صوبے بھی بن جائیں تو مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں گے؟ جو سیاسی جماعتیں یا رہنما صوبوں کی حمایت کرتے ہیں، ان کے اس سوچ کے پیچھیے دراصل کون سے مفادات اور سوالات چھپے ہیں۔ مثال کے طور پر درانی صاحب انہیں اپنی وزرات کے دور میں کبھی اپنے علاقے کی محرومی نہیں یاد آئی لیکن اقتدار سے فارغ ہوکر ان کیلئے تخت لاہور کی غلامی مشکل ہوگئی۔۔ یوسف رضا گیلانی صاحب نے عملی طور پر کیا کچھ کیا؟ یہ صرف اس لیے نعرے لگاتے ہیں کہ اس سے انہیں لگتا ہے وزرات اعلیٰ کی نشت شاہد مل جائے۔
صوبے بنانے کے لئے بھارت، امریکہ اور چین کی مثالین دی جاتی ہیں، ہمارا سیاسی کلچر الگ، ہمارے مسائل بھی مختلف ہیں۔۔۔ اسی وجہ سے تو ہمارے ہاں ہزاراوال کہتے ہیں ہمارا صوبہ بنادو، اردو سپنگ کہتے ہیں ہمیں الگ کر دو اور عبد القادر حسن جیسا سینئر کالم نگار دو لاکھ آبادی والے سون سکسیر کے بارے میں صوبے کا مطالبہ کر دیتا ہے۔ ہمارے لیے یہ ایک مذاق سے زیادہ نہیں ہے کہ یہ تو بنیاد بن ہی نہیں سکتی ورنہ یہ تو سوٹیر ادھیڑنے والی بات ہے۔۔ پھر ایک اور تجویز سنائی دیتی ہے کہ قومی کمیشن بنایا جائے جو اتفاق رائے سے صوبوں کی تقسیم کا فارمولہ طے کرے۔۔ پاکستان میں آج تک کتنے قومی کمیشنوں نے کسی قومی مسئلے کا حل دیا؟ پھر اس بات کی گارںٹی کوں دے گا کہ یہ سیاسی مصحلتوں کا شکار نہیں ہوگا اور مسلم لیگ ن کی باتوں کی مخالفت تحریک انصاف نہیں رکے گی اور پیپلزپارٹی کا فارمولا ایم کیو ایم تسلیم کر لے گی؟ آئین میں تبدیلی سے ایسا ممکن ضرور ہے لیکن اس پر سیاسی جماعتوں کو سیاست سے کون روکے گا؟ یہ بھی تاثر عام ہے کہ شریف فیملی پنجاب کی تقسیم نہین چاہتی، بالکل بجا بات ہے لیکن کونسے صوبے کی سیاسی جماعتیں اس کام پر تیار ہیں، صرف وہ تیار ہوتی ہیں جنہیں اپنا حصہ زیادہ نظرآتا ہے۔۔۔ اگر کوئی کمیشن بنایا گیا تو اس کے ساتھ کالا باغ ڈیم والا حال ہوگا کہ سب سے زیادہ نقصان یہ ہوا کہ اب کالا باغ تو کبھی نہیں بننا لیکن بدقسمتی سے کوئی اور ڈیم بنانے کی کسی نے بات ہی نہیں کرنی، اسی طرح اگر صوبوں کو اس حوالے سے تجاویز کیلئے کہا گیا تو یہ مسئلہ تنازعے کی صورت اختیار کر جائے گا اور کبھی حل نہیں ہوسکے گا۔۔۔ انتخابات سے پہلے میڈیا ، دانشور باقاعدہ مہم چلائیں تاکہ سیاسی جماعتیں اس بات کو اپنے منشور میں شامل کریں اور اگر عوام انہیں منتخب کریں تو سول سوسائٹی اس جماعت پر دباو بنائے رکھے تاکہ یہ بات طاقت کے اصلی ایوانوں تک پہنچے اور حقیقی معنوں میں بحث کا آغاز ہو۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s