اخلاص،چیک اینڈ بیلنس اور مکمل ہوم ورک کے ساتھ ہی انتظامی بنیاد پر صوبے بننے چاہیں .قاسم خان کا تجزیہ

میرے خیال میں انتظامی بنیاد پر کچھ شرائط کے ساتھ مزید صوبوں کا قیام وقت کی بہت اہم ضرورت ہے .
،اس سے ایک تو محرومی کا ازالہ ھوگا اور دوسرا وفاق کا بوجھ بھی کم ھو گا اور مخصوص طبقہ کی اجارہ داری بھی ختم ھوگی مگر اس کے لئے بہت زیادہ ورک کی ضرورت ھے ،اس کے ھر مثبت اور منفی پہلو کو ڈسکس کرنا ھو گا ،ماضی کے تجربات سے سیکھنا ھو گا ،اس کے نفع و نقصانات کا اندازہ لگانا ھو گا
باقی دنیا کی ممالک میں اس طرح کے تجربات کے نتائج کو سٹڈی کرنا ھو گا،اسی طرح عوام کی تربیت بھی کرنی پڑے گی اس کے سائڈ ایفکٹ کا اندازہ بھی کرنا ھو گا.
نئے یونٹ کے قیام سے انتظامی امور بہتر انداز میں سر انجام دئے جاسکتے میں مگر ساتھ چیک اینڈ بیلنس کا بھی کوئ پاورفل نظام بھی موجود ھو،
صوبے کے وسائل کے استعمال اور توازن کا کوئی پیمانہ مقرر کرنا پڑے گا اور اس میں وفاق کا کیا رول ھوگا اور وفاق کی کیا پرسنٹیج ھو گی اور دوسرے صوبوں کے کیا حقوق ھوں گے کیونکہ ھر صوبے کے وسائل اور حدوداربعہ دوسرے سے مختلف ھے ،
لسانی اور قومیت کی شناخت پر اگر کچھ عرصہ پہلے صوبے بن جاتے جب تعصب اتنا عام نہیں تھا تو کوئی بات نہ تھی مگر اب تو شاید اس کے سائیڈ ایفکٹ زیادہ آ سکتے ھیں جیسے پختون خواہ کے بعد ھزارہ والوں نے بھی اس بات کو شدت سے محسوس کیا کہ یہ تو پختونوں کا صوبہ بن گیا ھے اور وہ اپنےھی علاقےمیں اقلیتوں کی طرح ٹریٹ کیئے جائیں گے.. وغیرہ وغیرہ …حالانکہ کوئ درمیانہ اور دونوں فریقوں کے لئے کوئی قابلِ قبول نام بھی رکھا جا سکتا تھا….اور اب جب نام رکھ ھی لیا گیا تو دوسرے فریقوں کے ساتھ کچھ عرصہ ھمدردی کے نام پر ووٹوں کے حصول کے لئے سیاست سیاست کھیلی جائے گی اور وقت اور انرجی برباد کی جاتی رھے گی…
اصل مسئلہ تو نام کا نہیں حقوق کا ھے محرومیوں کے ازالے کا ھے.. ترقی اور انتظامی امور کا ھے.
اگر لوگوں کو ان کا جائز حق مل جائے تو نام اور قومیت کی پھر ثانوی حثیت رھ جاتی ھے
.پنجاب کے تین صوبے تو ھر صورت بننے چاہیے اسی طرح کچھ لیمیٹیشن کے ساتھ اگر زیادہ بن سکتے ھیں تو بھی کوئی ھرج نھیں لیکن شرائط وھی ھوں گی کچھ حدودوقیود کے ساتھ معاملات طے ھوں گے تب جا کر مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ھو ھوگا ….
کراچی اور سندھ کا مسئلہ تھوڑا سیریئس ھے… کراچی پاکستان کا مین حب ھے وسائل سارے اس کے پاس ھیں لھذا سندھ کو تقسیم کرنے سے پہلے بہت کچھ طے کرنا ھوگا جس سے لوگوں کو انکے جائز.حقوق بھی ملیں اور پاکستان کی ترقی اور اتحاد کو دوام ھو… اب اس مسئلہ پر گہرے تدبر کی ضرورت ھے…برحال نام کے مسئلہ پر تو میرا یہ پکا خیال ھے کہ اس کو بھی کوئ قابل قبول نام دے دیا جائے مگر صوبہ مھاجر بالکل نہیں ھونا چاہیے اب یہ مبارک نام گہرے تعصب کا شکار ھو چکا ھے…
تقسیم کا طریقہ کار یہ ھو کہ اگر دو حصے کراچی کے کر دئے جایئں اور دو تین باقی سندھ کے تو کافی اچھے نتائج آ سکتے ھیں ..
کچھ پوائنٹس یہ ھیں …..
افھام وتفھیم بہت ضروری ھے،
عوام کی تربیت،
فوائد اور نقصانات کا اندازہ..اور ازالہ کی صورت
کس حد تک اخیارات دیے جائیں ،
صوبے ،دیگر صوبوں اور وفاق کے وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار کیا ھو ،
دفاع ، سیکورٹی اور امن وامان کے ایشوز
چیک اینڈ بیلینس کا کیا طریقہ کار ھو گا…. الغرض
یہ کام اتنا آسان نہیں جتنا نظر آتا ھے لیکن اتنا مشکل بھی نہیں اخلاص شرط ھے

….

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s