سرائیکیوں کو انکی شناخت دو مگر صوبے کی تقسیم عوام کی رائے سے ہونی چاہئے .عبدلحفیظ بزدار کا تجزیہ

بنیادی طور پر اس نقطہ نظر سے کوئی اختلاف ہی نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کی اشد ضرورت ہے مگر یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آیا نئے صوبے انتظامی یا ثقافتی بنیادوں پر بنائے جایئں؟ میری نظر میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کا مطالبہ قوموں کے وجود ،تشخص ثقافت و وسائل سے انکار کا دوسرا نام ہے۔اگر انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل کا معاملہ طے پا جاتا ہے تو پاکستان کے اندر قومی سوال ایک نئے انداز میں مزید توانائی کے ساتھ ابھر سکتا ہے جو کئی الجھنوں کا پیشِ خیمہ ثابت ہو گا۔ یہ ایک حقیقت ہے موجودہ وفاق 1947 سے قبل وجود رکھنے والی ایک ایسی ریاست ہے جہاں پر پہلے سے قومی وحدتیں اپنے وجود کے ساتھ موجود تھیں۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پختون کئی دھایئوں سے اپنی شناخت کے حوالے سے انتہائی حساس اور ایک جدو جہد کر رہے تھے مگر اس جدو جہد کی پاداش میں ان کی پاکستان سے حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگائے جاتے رہے۔ مگر جب صبہ سرحد کا نام خیبر پختون خواہ رکھا گیا تو پاکستان کی سالمیات پر کتنے حملے ہوئے یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔
محض نام کی تبدیلی سے ایک بے چینی کے سفر کا اختتام ہوا لوگوں کو اپنی شناخت ملی ،کشمکش کی بجائے ذہنوں میں اطمینان کا احساس ہوا ،قوم پرست جماعت کی شناخت کے حوالے سے مضبوط نقطہ نظر اختتام کو پہنچا۔ یہیاں پر یہ کہنا بھئ بے جا نہ ہو گا کہ کہ 60 اور 70 کے عشرے کی سیاست پر چھائے جانے والے معتبر سیاسی قائدین ،میر غوث بخش بزنجو، جی ایم سید ولی خان اور عبد الصمد اچکزئی اس سے ملتی جلتی سیاست پر یقین رکھتے تھے تو ان کو مصائب کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ قید و بند کی صعوبتیں ان کا مقدر ٹھریں۔ میری نظر میں جغرافیائی ثقافتی، لسانی اور تہذیبی پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے نئے صوبے تشکیل دیئے جایئں ۔ سرایئکی ایک عرصے سے اپنی شناخت کی بات کر رہے ہیں۔ اگر ان کی آوازون پر توجہ نہ دی گئی تو پاکستان مزید الجھنوں کا شکار ہو گا۔ یہاں پر میں ایک نقظے کی وضاھت کرنا چاہوں گا کہ ممکنہ سرایئکی صوبے کی جغرافیائی حدود پر ڈی جی خان اور راجن پور میں ایک واضح نقطہ نظر اپنا وجود رکھتا ہے۔ ڈی جی خان اور راجن پور کی اکثریتی آبادی یہ سمجھتی ہے ان کے تاریخی جغرافیائی لسانی و ثقافتی رشتے بلوچستان سے وابستہ ہیں اور یہ علاقے بلوچستان کے تاریخی حصے رہے ہیں تاریخی دستاویز اس حوالے سے موجود ہیں۔ اگر ڈی جی خان اور راجن پور کے عوام سے پوچھے بغیر ان کو زبردستی سرایئکی صوبے میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی تو یہیاں ایک نیا کشمکش جنم لے سکتا ہے جیسا کہ ہم بلوچستان میں آج کل دیکھ رہے ہیں۔ میری رائے میں ڈی جی خان اور راجن پور کے عوام سے ایک ریفرنڈم کے ذریعے ان کی رائے معلوم کی جائے اور بلوچستان میں موجود پشتونوں سے ان کی رائے معلوم کی جائے کہ وہ موجودہ بلوچستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا خیبر پختون خواہ میں۔ اگر عوامی رائے اور فیصلے کو مد نظر رکھ کر سرائکی صوبہ تشکیل پاتا ہے تو یہ پاکستان کی سالمیت کیلیئے سود مند ثابت ہو گا۔

Advertisements

4 thoughts on “سرائیکیوں کو انکی شناخت دو مگر صوبے کی تقسیم عوام کی رائے سے ہونی چاہئے .عبدلحفیظ بزدار کا تجزیہ

  1. Baloch Public Supported and demanded to remerger of Baloch Areas of Karachi , Kashmore, Shikarpur , Jacobabad , Dera Ismail khan, Dera Ghazi khan And Rajanpur into Balochistan for Baloch national identity.

    Like

    • Raheem Shah …I think you should write in detail about your suggestion.My blogs space is available for you if you want to express your opinion about Balochistan issues as well as your remergence of Baloch areas into one new Baloch province or state.Inbox me on facebook or email me if you want to .Thanks

      Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s