رجم کی سزا اسلام کا حصہ نہیں ہے .جھوٹی اور بیہودہ باتوں پر مبنی روایا ت ہیں .جاوید غامدی کی کتاب “برہان” سے اقتباس

ا س سلسلہ کی پہلی روایت جو حضرت عبادہ بن صامت سے مروی ہے ، اُسے امام مسلم نے اِن الفاظ میں نقل کیا ہے :
۴۴۱۴) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھ سے لو ، مجھ سے لو ،مجھ سے لو ، زانیہ عورتوں کے معاملے میں اللہ نے جو حکم نازل کرنے کا وعدہ کیا تھا، وہ نازل فرما دیا ۔ غیر شادی شدہ مرد کی غیرشادی شدہ عورت سے بدکاری کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی اور شادی شدہ مرد کی شادی شدہ عورت سے بدکاری کے لیے سو کوڑے اور رجم ۔ ‘‘
دوسری روایت جو اِس سلسلہ میں پیش کی جاتی ہے ، وہ موطا امام مالک میں اِس طرح بیان ہوئی ہے :
( رقم ۲۵۶۸) ’’عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم آیت رجم کا انکار کر کے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے سے بچو۔ ایسا نہ ہو کہ کہنے والے کہیں کہ ہم تو اللہ کی کتاب میں دو سزاؤں (تازیانہ اور رجم) کاذکر کہیں نہیں پاتے ۔ بے شک ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کیا او ر ہم نے بھی ۔ اُس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، مجھے اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ کہیں گے کہ عمر نے اللہ کی کتاب میں اضافہ کر دیا تو میں یہ آیت : ’’بوڑھے زانی اور بوڑھی زانیہ کو لازماً رجم کردو‘‘، قرآن مجید میں لکھ دیتا، اِس لیے کہ ہم نے یہ آیت خود تلاوت کی ہے ۔‘‘
یہی روایت بخاری میں یوں نقل ہوئی ہے :
( رقم ۶۸۳۰) ’’(عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ) بے شک ، اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا اور اُن پر اپنی کتاب نازل کی۔ اُس میں آیت رجم بھی تھی ۔ چنانچہ ہم نے اُسے پڑھا اور سمجھا اور یاد کیا ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِسی بنا پررجم کیا اور اُن کے بعد ہم نے بھی رجم کیا ۔ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگوں پر کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ کہنے والے کہیں گے کہ ہم تو رجم کی آیت اللہ کی کتاب میں کہیں نہیں پاتے اور اِس طرح اللہ کے نازل کردہ ایک فرض کو چھوڑ کر گم راہ ہوں گے ۔ یاد رکھو، رجم اللہ کی کتاب میں ہر اُس مرد و عورت پر واجب ہے جو شادی کے بعد زنا کرے۔‘‘
تیسری روایت سنن نسائی میں ام المومنین سیدہ عائشہ سے اِن الفاظ میں نقل ہوئی ہے :
( رقم ۴۰۵۳) ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمان کا خون صرف تین صورتوں میں حلال ہے : ایک شادی شدہ زانی ، اُسے رجم کیا جائے گا۔ دوسرے وہ شخص جس نے کسی کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو، اُسے اس شخص کے قصاص میں قتل کیا جائے گا ۔ تیسرے وہ شخص جو اسلام چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول سے آمادۂ جنگ ہو ، اُسے قتل کیا جائے گا یا سولی دی جائے گی یا وہ جلا وطن کر دیا جائے گا ۔ ‘‘
اِس سلسلہ کی چوتھی روایت ابن المنذر اور عبد الرزاق نے الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ اپنی کتابوں میں اِس طرح نقل کی ہے:
’’کنوارے زانی کی سزا سو کوڑے اور جلا وطنی ہے۔ شادی شدہ زانی کو صرف رجم کی سزا دی جائے گی اور بوڑھے زانیوں کو پہلے کوڑے مارے جائیں گے او ر اِس کے بعد رجم کیا جائے گا ۔ ‘‘
رجم کی سزا کے بارے میں یہی روایات ہیں جو حدیث کی کتابوں میں مختلف طریقوں سے بیان ہوئی ہیں ۔ اِن کا ذرا تدبر کی نگاہ سے مطالعہ کیجیے ۔ پہلی بات جو اِن روایات پر غور کرنے سے سامنے آتی ہے ، وہ اِن کا باہمی تناقض ہے جسے نہ اِن پچھلی تیرہ صدیوں میں کوئی شخص کبھی دور کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور نہ اب ہو سکتا ہے ۔ اِن میں سے پہلی روایت کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ بدکاری کی سزا میں زانی اور زانیہ کے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہونے کا الگ الگ اعتبار نہیں ہو گا ، بلکہ تازیانے اور جلاوطنی کی سزا صرف اُس صورت میں دی جائے گی جب زانی اور زانیہ ، دونوں کنوارے ہوں اور تازیانے اور رجم کی سزا بھی اُسی صورت میں نافذ ہو گی جب وہ دونوں شادی شدہ ہوں ۔ اِسی طرح یہ بات بھی اِس روایت سے معلوم ہوتی ہے کہ کنوارے زانیوں کو رجم کی سزا دینے سے پہلے سو کوڑے بھی لازماً مارے جائیں گے۔ اِس کے بعد دوسری روایت کو دیکھیے تواُس میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کی بحث ہی سرے سے ختم ہو گئی ہے ۔ اِس کے بالکل برخلاف جو بات اُس میں بیان کی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ سنگ ساری کی سزا درحقیقت بوڑھے زانی اور بوڑھی زانیہ کے لیے ہے ۔ یہ کسی اور کو دی جائے یا نہ دی جائے ، اِن بے چاروں پر تو اُسے بہرحال نافذ ہونا چاہیے ، لیکن یہی روایت جب بخاری میں بیان ہوئی تو اُس میں اِس سزا کے لیے پھر شادی کا ذکر ہوا ہے ۔ تیسری روایت میں بوڑھے تو صاف بچ گئے ہیں ، رجم سے پہلے سو کوڑے کی سزا بھی معاف کر دی گئی ہے ، پہلی روایت میں رجم کی سزا کے لیے شادی شدہ سے شادی شدہ کے زنا کی جو شرط بیان ہوئی تھی ، وہ بھی اُس میں ختم ہو گئی ہے ۔ اِن سب باتوں سے قطع نظر کر کے جو قانون اِس روایت میں بیان کیا گیا ہے ، وہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ شادی شدہ مرد خواہ شادی شدہ عورت سے زنا کرے یا غیر شادی شدہ سے ، ہر دو حالتوں میں اُس کو رجم کی سزا دی جائے گی ۔ چوتھی روایت اِن سب سے مختلف ہے ۔ اُس میں تازیانے اور جلاوطنی کی سزا کے لیے غیر شادی شدہ سے غیر شادی شدہ کے زنا کی شرط بھی باقی نہیں رہی۔ شادی شدہ زانیوں کے لیے بھی اُس میں صرف رجم کی سزا بیان ہوئی ہے ، لیکن بوڑھے اِس روایت کی رو سے بے طرح مرے ہیں۔ اُن کی جو سزااِس میں بیان ہوئی ہے ، وہ یہ ہے کہ اُنھیں سنگ ساری سے پہلے سو کوڑے بھی لازماً مارے جائیں گے ۔ گویا وہی معاملہ ہے کہ :
کس کا یقین کیجیے ، کس کا یقیں نہ کیجیے لائے ہیں بزم ناز سے یار خبر الگ الگ
دوسری بات جو اِن میں سے بالخصوص موطا امام مالک کی روایت سے سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ سارا قرآن یہی نہیں ، جو اِس وقت ہمارے پاس موجود ہے ، بلکہ اُس میں سے بعض آیات نکال دی گئی ہیں۔ یہ بات، ظاہر ہے کہ نہایت خطرناک ہے اور جس منافق نے بھی اِسے وضع کیا ہے ، اُس کا مقصد صاف یہی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کو لوگوں کی نگاہوں میں مشتبہ ٹھیرایا جائے اور اہل فتنہ کے لیے راستہ نکالا جائے کہ وہ اِس طرح کی بعض دوسری آیات وضع کر کے اپنے عقائد و نظریات بھی اللہ کی اس کتاب میں داخل کر سکیں ۔ پھر وہ جملہ جسے اِس روایت میں قرآن کی آیت قرار دیا گیا ہے ، زبان و بیان کے لحاظ سے اِس قدر پست ہے کہ قرآن کے مخمل میں اِس ٹاٹ کا پیوند لگانا اور اُس کی لاہوتی زبان کے ساتھ اِس کا جوڑ ملانا تو ایک طرف ، کسی سلیم المذاق آدمی کے لیے اِسے پیغمبر کا قول قرار دینا بھی ممکن نہیں ہے ۔ پھر یہ بات بھی نہایت مضحکہ خیز ہے کہ آیت نکال دی گئی اور اُس کا حکم ابھی باقی ہے ، جب کہ قرآن میں وہ آیتیں بھی موجود ہیں جن کا حکم قرآن ہی کی کسی دوسری آیت سے منسوخ ہو گیا ہے ۔ پھر یہ سوال بھی اِس کے بارے میں ہر عاقل کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ یہ اگر قرآن کی ایک آیت تھی اور نکال دی گئی تو اِس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ اِس کا حکم بھی ختم ہو گیا۔ اِس سے اب رجم کے حق میں استدلال آخر کس طرح کیا جائے گا؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کے بارے میں بالکل صحیح لکھا ہے :
’’یہ روایت بالکل بیہودہ روایت ہے اور ستم یہ ہے کہ اِس کو منسوب حضرت عمر کی طرف کیا گیا ہے ، حالانکہ اُن کے عہد مبارک میں اگر کوئی یہ روایت کرنے کی جرأت کرتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ اُن کے درّے سے نہ بچ سکتا ۔ ‘‘ (تدبر قرآن

۵/۳۶۷)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s