پاکستان کے گیارہ صوبے ہوں ،”ملتان” سرائیکی صوبے کا نام ہونا چاہئے .علی رضا کی دلچسپ اور فکر انگیز تجاویز

اس بات سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں مزید صوبے ضرور اور جلد از جلد بننے چاہیں .مگر بنیادی بات یہ ہے کہ یہ انتظامی بنیادوں پر بنیں ناکہ لسانی بنیاد پر .پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا جائے جس میں راولپنڈی سے فیصل آباد ڈسٹرکٹ تک کے علاقے کوپنجاب ” کا نام دیا جائے .پنجاب کے دوسرے حصے یا صوبے کا نام “ملتان” ہونا چاہئے ناکہ “سرائیکستان ” تاکہ وہاں آباد دوسری زبان بولنے والے اپنے آپ کو علیحدہ نہ سمجھیں .اصل بات انتظامی بنیادوں پر طاقت،وسائل اور مرکزیت کو تقسیم کرنے کی ہے نہ کہ کسی ایک یا دوسری زبان کا صوبہ بنانا .صوبہ ملتان جھنگ ڈسٹرکٹ سے شروع ہو اور نیچے کوٹ ادو تک جائے .ملتان صوبے کا کیپٹل ملتان چاہئے .تیسرا صوبہ “بہاولپور “ہونا چاہئے .بہاولپور کا کیپٹل بھی بہاولپور ہی ہونا چاہئے اور یہ صوبہ لودھراں،رحیم یار خان ،بہاولنگر کے اضلا ع پر مشتمل ہو .بہاولپور کے لوگ کبھی بھی ملتان میں شامل نہیں ہونا چاہئیں گے .کل کلاں اگر یہ دونوں اکٹھے ہو گئے تو بہاولپور والے “تخت ملتان” کی غلامی کا نعرہ نہ لگا دیں .اس لئے علاقوں کو علیحدہ صوبوں میں تقسیم کرنا دور اندیشی پر مبنی فیصلہ ہو گا .ملتان کے لوگ بھی کبھی بہاولپور کے “انڈر ” نہیں جائیں گے .کیونکہ تاریخی اعتبار سے ملتان کی محرومیوں کا ازالہ ملتان کو کیپٹل بنا کر ہی حل ہو گا .
کے پی کے میں بھی تین صوبے بن سکتے .ہیں .ایک ہزارہ کا صوبہ ،ایک موجودہ پختونخوا اور ایک قبائلی علاقے پر مشتمل تیسرا صوبہ جس کو” خیبر “کا نام دیا جا سکتا ہے .موجودہ کے پی کے کا نام پختونخوا ہی رکھا جائے .ہزارہ صوبے کا بھی کوئی سا مناسب نام رکھا جا سکتا اور اسکی تقسیم بھی ایسے ہو کہ صرف ہزارہ سپیکنگ علاقے ہی اس میں شامل نہ ہوں ورنہ تو صوبوں کی تقسیم کا مقصد ہی فوت ہو جائے گا .اب سندھ کی طرف آ جائیں ،یہاں بھی تین صوبے بن سکتے ہیں .ایک صوبے کا نام “ ساؤتھ سندھ” ہو جو کراچی ،ملیر،ٹھٹھہ ،دادو ، وغیرہ پر مشتمل ہو .صرف کراچی کو کسی بھی قیمت پر صوبہ نہیں بنانا چاہئے تاکہ رورل سندھ کو اعتراض نہ ہو .کراچی کے طور پر رول ڈسٹرکٹس کو ڈالنا ہو گا .ایک صوبے کا نام “نارتھ سندھ” ہو جس کا کیپٹل “سکھر” ہو اس میں ضلع لاڑکانہ،نوابشاہ ،جیکب آباد،گھوٹکی،نوشیرو فیروز شامل ہوں .تیسرے صوبے کا نام “حیدر آباد” ہو سکتا ہے جس کا کیپٹل حیدر آباد ہی ہو اور اس میں تھرپارکر،بدن ،عمر کوٹ وغیرہ شامل کئے جا سکتے ہیں .بلوچستان کو بھی “نارتھ بلوچستان” اور “ساؤتھ بلوچستان” میں تقسیم کر دینا چاہئے .ساؤتھ بلوچستان میں گوادر کیپٹل ہو اور ساتھ آواران،کیچ ،لسبیلہ ،پنجگور وغیرہ شامل ہوں .نارتھ بلوچستان باقی بلوچستان پر قائم ہو جس کا کیپٹل کوئٹہ ہو .پاکستان کی بقا کا رستہ نئے صوبوں میں ہی ہے .لیکن دو اصول پیش نظر رہنے چاہیں .
ایک کہ صوبے زبان یا قومیت پر نہیں انتظامی بنیاد پر بنیں .
دو کہ صوبوں کی انکم کا بندوبست کر کے اور اسکی منصفانہ تقسیم کا فیصلہ کر کے صوبہ بنایا جائے

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s