اسلامی قانون میں رجم کی سزا کی حیثیت اور حکمت . مولانا مودودی کا نکتہ نظر دوسرا حصہ

(۳) اسلامی قانون ان سب تصورات کے برعکس زنا کو بجائے خود ایک جُرم مستلزم ِ سزا قرار دیتا ہے اور شادی شدہ ہو کر زنا کرنا اس کے نزدیک جرم کی شدت کو اور زیادہ بڑھا دیتا ہے، نہ اس بنا پر کہ مجرم نے کسی سے”عہد شکنی“ کی ، یا کسی دوسرے کے بستر پر دست درازی کی، بلکہ اس بنا پر کہ اس کے لیے اپنی خواہشات کو پورا کرنے کا ایک جائز ذریعہ موجود تھا اور پھر بھی اس نے ناجائز ذریعہ اختیار کیا۔ اسلامی قانون زنا کو اس نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے کہ یہ وہ فعل ہے کہ جس کی اگر آزادی ہو جائے تو ایک طرف نوعِ انسانی کی اور دوسری طرف تمدّنِ انسانی کی جڑ کٹ جائے۔ نوع کی بقا ء اور تمدّن کے قیام ، دونوں کے لیے ناگزیر ہے کہ عورت اور مرد کا تعلق صرف قانون کے مطابق قابلِ اعتماد رابطے تک محدود ہو۔ اور اسے محدود رکھنا ممکن نہیں ہے اگر اس کے ساتھ ساتھ آزادانہ تعلق کی بھی کھلی گنجائش موجود رہے۔ کیونکہ گھر اور خاندان کی ذمہ داریوں کا بوجھ سنبھالے بغیر جہاں لوگوں کو خواہشاتِ نفس کی تسکین کے مواقع حاصل رہیں ، وہاں ان سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ اِنہی خواہشات کی تسکین کے لیے وہ پھر اِتنی بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ اُٹھانے پر آمادہ ہوں گے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ریل میں بیٹھنے کے لیے ٹکٹ کی شرط بے معنی ہے اگر بلا ٹکٹ سفر کرنے کی آزادی بھی لوگوں کو حاصل رہے۔ ٹکٹ کی شرط اگر ضروری ہے تو اسے مؤثر بنانے کے لیے بلا ٹکٹ سفر کو جرم ہونا چاہیے ۔ پھر اگر کوئی شخص پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے بے ٹکٹ سفر کرے تو کم درجے کا مجرم ہے، اور مالدار ہوتے ہوئے بھی یہ حرکت کرے تو جرم اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔
(۴) اسلام انسانی معاشرے کو زنا کے خطرے سے بچانے کے لیے صرف قانونی تعزیر کے ہتھیار پر انحصار نہیں کر تا، بلکہ اس کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحی اور انسدادی تدابیر استعمال کرتا ہے ، اور یہ قانونی تعزیر اس نے محض ایک آخری چارہ ٔ کار کے طور پر تجویز کی ہے۔ اس کا منشا یہ نہیں ہے کہ لوگ اس جرم کا ارتکاب کرتے رہیں اور شب و روز ان پر کوڑے برسانے کے لیے ٹکٹکیاں لگی رہیں، بلکہ اس کا منشا یہ ہے کہ لوگ اس کا ارتکاب نہ کریں اور کسی کو اس پر سزا دینے کی نوبت ہی نہ آنے پائے۔ وہ سب سے پہلے آدمی کے نفس کی اصلاح کرتا ہے ، اس کے دل میں عالم الغیب اور ہمہ گیر طاقت کے مالک خدا کا خوف بٹھاتا ہے ، اُسے آخرت کی باز پرس کا احساس دلاتا ہے جس سے مر کر بھی پیچھا نہیں چھوٹ سکتا ، اُس میں قانونِ الہٰی کی اطاعت کا جذبہ پیدا کرتا ہے جو ایمان کا لازمی تقاضا ہے ، اور پھر اسے بار بار متنبہ کرتا ہے کہ زنا اور بے عصمتی اُن بڑے گناہوں میں سے ہے جن پر اللہ تعالیٰ سخت باز پرس کرے گا۔ یہ مضمون سارے قرآن میں جگہ جگہ آپ کے سامنے آتا ہے ۔ اس کے بعد وہ آدمی کے لیے نکاح کی تمام ممکن آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔ ایک بیوی سے تسکین نہ ہو تو چار چار تک سے جائز تعلق کا موقع دیتا ہے۔ دل نہ ملیں تو مرد کے لیے طلاق اور عورت کے لیے خلع کی سہولتیں بہم پہنچاتا ہے۔ اور ناموافقت کی صورت میں خاندانی پنچایت سے لے کر سرکاری عدالت تک سے رجوع کا راستہ کھول دیتا ہے تا کہ یا تو مصالحت ہو جائے، یا پھر زوجین ایک دوسرے سے آزاد ہو کر جہاں دل ملے نکاح کر لیں۔ یہ سب کچھ سورۂ بقرہ ، سورۂ نساء، اور سورۂ طلاق میں دیکھ سکتے ہیں۔ ااور اسی سورۂ نور میں آپ ابھی دیکھیں گے کہ مردوں اور عورتوں کے بن بیاہے بیٹھے رہنے کو ناپسند کیا گیا ہے اور صاف حکم دے دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کے نکاح کر دیے جائیں، حتیٰ کہ لونڈیوں اور غلاموں کو بھی مجرد نہ چھوڑا جائے ۔ پھر وہ معاشرے سے اُن اسباب کا خاتمہ کرتا ہے جو زنا کی رغبت دلانے والے، اس کی تحریک کرنے والے، اور اس کے لیے مواقع پیدا کرنے والے ہو سکتے ہیں۔ زنا کی سزا بیان کرنے سے ایک سال پہلے سورۂ احزاب میں عورتوں کو حکم دے دیا گیا تھا کہ گھر سے نکلیں تو چادریں اوڑھ کر اور گھونگھٹ ڈال کر نکلیں، اور مسلمان عورتوں کے لیے جس نبی کا گھر نمونے کا گھر تھا اس کی عورتوں کو ہدایت کر دی گئی تھی کہ گھروں میں وقار و سکنیت کے ساتھ بیٹھو، اپنے حسن اور بناؤ سنگھار کی نمائش نہ کرو، اور باہر کے مرد تم سے کوئی چیز لیں تو پردے کے پیچھے سے لیں۔ یہ نمونہ دیکھتے دیکھتے اُن تمام صاحب ایمان عورتوں میں پھیل گیا جن کےنزدیک زمانۂ جاہلیت کی بے حیا عورتیں نہیں بلکہ نبیؐ کی بیویاں اور بیٹیاں تقلید کے لائق تھیں۔ اس طرح فوجداری قانون کی سزا مقرر کرنے سےپہلے عورتوں اور مردوں کی خلط ملط معاشرت بند کی گئی، بنی سنوری عورتوں کا باہر نکلنا بند کیا گیا، اور ان اسباب و ذرائع کا دروازہ بند کر دیا گیا جو زنا کے مواقع اور اس کی آسانیاں بہم پہنچاتے ہیں۔ ان سب کے بعد جب زنا کی فوجداری سزا مقرر کی گئی تو آپ دیکھتے ہیں کہ اس کے ساتھ ساتھ اسی سورۂ نور میں اشاعتِ فحش کو بھی روکا جا رہا ہے، قحبہ گری (Prostitution ) کی قانونی بندش بھی کی جا رہی ہے، عورتوں اور مردوں پر بدکاری کے بے ثبوت الزام لگانے اور ان کے چرچے کرنے کے لیے بھِ سخت سزا تجویز کی جا رہی ہے ، غضِّ بصر کا حکم دے کر نگاہوں پر پہرے بھی بٹھائے جا رہے ہیں تا کہ دیدہ بازی سے حسن پرستی تک اور حسن پرستی سے عشق بازی تک نوبت نہ پہنچے، اور عورتوں کو یہ حکم بھی دیا جا رہا ہے کہ اپنے گھروں میں محرم اور غیر محرم رشتہ داروں کے درمیان تمیز کریں اور غیر محرموں کے سامنے بن سنور کر نہ آئیں۔ اس سے آپ اُس پوری اصلاحی سکیم کو سمجھ سکتے ہیں جس کے ایک جُز کے طور پر زنا کی قانونی سزا مقرر کی گئی ہے۔ یہ سزا اس لیے ہے کہ تمام داخلی و خارجی تدابیرِ اصلاح کے باوجود جو شریر النفس لوگ کھلے ہوئے جائز مواقع کو چھوڑ کرنا جائز طریقے سے ہی اپنی خواہشِ نفس پوری کرنے پر اصرار کریں ان کی کھال اُدھیڑ دی جائے، اور ایک بدکار کو سزا دے کر معاشرے کے اُن بہت سے لوگوں کا نفسیاتی آپریشن کر دیا جائے جو اس طرح کے میلانات رکھتے ہوں۔ یہ سزا محض ایک مجرم کی عقوبت ہی نہیں ہے بلکہ اس امر کا بالفعل اعلان بھی ہے کہ مسلم معاشرہ بدکاروں کی تفریح گاہ نہیں ہے جس میں ذوّاقین اور ذوّاقات اخلاقی قیود سے آزاد ہو کر مزے لوٹتے پھریں۔ اس نقطۂ نظر سے کوئی شخص اسلام کی اس اصلاحی اسکیم کو سمجھے تو وہ بآسانی محسوس کرلے گا کہ اس پوری اسکیم کا ایک جُز بھی اپنی جگہ سے نہ ہٹایا جا سکتا ہے اور نہ کم و بیش کیاجا سکتا ہے۔ اس میں ردّو بدل کا خیال یا تو وہ نادان کر سکتا ہے جو اسے سمجھنے کی صلاحیت رکھے بغیر مُصلح بن بیٹھا ہو ، یا پھر وہ مفسد ایسا کر سکتا ہے جس کی اصل نیت اُس مقصد کو بدل دینے کی ہو جس کے لیے یہ اسکیم حکیمِ مطلق نے تجویز کی ہے۔
(۵) زنا کو قابلِ سزا فعل تو سن ۳ ھجری میں ہی قرار دے دیا گیا تھا، لیکن اُس وقت یہ ایک ”قانونی“ جرم نہ تھا جس پر ریاست کی پولیس اور عدالت کوئی کارروائی کرے، بلکہ اس کی حیثیت ایک ”معاشرتی“ یا”خاندانی“ جرم کی سی تھی جس پر اہلِ خاندان ہی کو بطورِ خود سزا دے لینے کا اختیار تھا۔ حکم یہ تھا کہ اگر چار گواہ اِس امر کی شہادت دے دیں کہ انہوں نے ایک مرد اور ایک عورت کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے تو دونوں کو مارا پیٹا جائے ، اور عورت کو گھر میں قید کر لیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ اشارہ بھی کر دیا گیا تھا کہ یہ قاعدہ”تا حکمِ ثانی“ ہے، اصل قانون بعد میں آنے والا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اوّل ، صفحہ ۳۳۱)۔ اس کے ڈھائی تین سال بعد یہ حکم نازل ہوا جو آپ اس آیت میں پا رہے ہیں، اور اس نے حکمِ سابق کو منسوخ کر کے زنا کو ایک قانونی جرم قابلِ دست اندازیِ سرکار(Cognizable Offence ) قرار دے دیا۔
(۶) اس آیت میں زنا کی جو سا مقرر کی گئی ہے وہ دراصل”محض زنا“ کی سزا ہے، زنا بعدِ احصان (یعنی شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کے ارتکاب) کی سزا ہے جو اسلامی قانون کی نگاہ میں سخت تر جرم ہے۔ یہ بات خود قرآن ہی کے ایک اشارے سے معلوم ہو تی ہے کہ وہ یہاں اُس زنا کی سزا بیان کر رہا ہے جس کے فریقین غیر شادی شدہ ہوں۔ سورۂ نساء میں پہلے ارشاد ہوا کہ:
وَالّٰتِیْ یَاتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآ ئِکُمْ ۔۔۔۔۔۔ اَوْ یَجْعَلَ اللہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا o (آیت ۱۵)
تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھر وں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔

الازم آتی ہیں کہ ان کا شمار نہیں ہو سکتا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s