زنا کی تاریخ ،یہودیوں اور مسیحوں میں اسکی سزائیں ، رجم کی ہسٹری ،مولانا مودودی کی کتاب “تفہیم القرآن ” سے عماد بزدار کا اقتباس

اس مسئلے کے بہت سے قانونی، اخلاقی اور تاریخی پہلو تشریح طلب ہیں جن کو اگر تفصیل کے ساتھ بیان نہ کیا جائے تو موجودہ زمانے میں ایک آدمی کے لیے اس تشریعِ الہٰی کا سمجھنا مشکل ہے۔ اس لیے ذیل میں ہم اس کے مختلف پہلوؤں پر سلسلہ وار روشنی ڈالیں گے:
(۱) زنا کا عام مفہوم ، جس سے ہر شخص واقف ہے، یہ ہے ”ایک مرد اور ایک عورت ، بغیر اس کے کہ ان کے درمیان جائز رشتۂ زن و شو ہو، باہم مباشرت کا ارتکاب کریں“۔ اس فعل کا اخلاقًا برا ہونا، یا مذہبًا گناہ ہونا ، یا معاشرتی حیثیت سے معیوب اور قابلِ اعتراض ہونا ، ایک ایسی چیز ہے جس پر قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام انسانی معاشرے متفق رہے ہیں، اور اس میں بجز اُن متفرق لوگوں کے جنہوں نے اپنی عقل کو اپنی نفس پرستی کے تابع کر دیا ہے، یا جنہوں نے خبطی پن کی اُپچ کو فلسفہ طرازی سمجھ رکھا ہے ، کسی نے آج تک اختلاف نہیں کیا ہے۔ اس عالمگیر اتفاقِ رائے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت خود زنا کی حرمت کا تقاضا کرتی ہے۔ نوع انسانی کا بقاء اور انسانی تمدّن کا قیام ، دونوں اس بات پر منحصر ہیں کہ عورت اور مرد محض لطف اور لذت کے لیے ملنے اور پھر الگ ہو جانے میں آزاد نہ ہوں، بلکہ ہر جوڑے کا باہمی تعلق ایک ایسے مستقل اور پائیدار عہد ِ وفا پر استوار ہو جو معاشرے میں معلوم و معروف بھی ہو اور جسے معاشرے کی ضمانت بھی حاصل ہو۔ اس کے بغیر انسانی نسل ایک دن کے لیے بھی نہیں چل سکتی کیونکہ انسان کا بچہ اپنی زندگی اور اپنے انسانی نشونما کے لیے کئی برس کی درد مند انہ نگہداشت اور تربیت کا محتاج ہوتا ہے ، اور تنہا عورت اس بار کو اُٹھانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہو سکتی جب تک کہ وہ مرد اس کا ساتھ نہ دے جو اس بچے کے وجود میں آنے کا سبب بنا ہو۔ اسی طرح اس معاہدے کے بغیر انسانی تمدّن بھی برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ تمدّن کی تو پیدائش ہی ایک مرد اور ایک عورت کے مل کر رہنے ، ایک گھر اور ایک خاندان وجود میں لانے، اور پھر خاندانوں کے درمیان رشتے اور رابطے پیدا ہونے سے ہوئی ہے۔ اگر عورت اور مرد گھر اور خاندان کی تخلیق سے قطع نظر کر کے محض لطف و لذت کے لیے آزاد انہ ملنے لگیں تو سارے انسان بکھر کر رہ جائیں، اجتماعی زندگی کی جڑ کٹ جائے ، اور وہ بنیاد ہی باقی نہ رہے جس پر تہذیب و تمدّن کی یہ عمارت اُٹھی ہے۔ ان وجوہ سے عورت اور مرد کا ایسا آزادانہ تعلق جو کسی معلوم و معروف اور مسلّم عہد و فا پر مبنی نہ ہو، انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ انہی وجوہ سے انسان اِس کو ہر زمانے میں ایک سخت عیب ، ایک بڑی بد اخلاقی ، اور مذہبی اصطلاح میں ایک شدید گناہ سمجھتا رہا ہے۔ اور انہی وجوہ سے ہر زمانے میں انسانی معاشروں نے نکاح کی ترویج کے ساتھ ساتھ زنا کے سدِّ باب کی بھی کسی نہ کسی طور پر ضرور کوشش کی ہے۔ البتہ اس کوشش کی شکلوں میں مختلف قوانین اور اخلاقی و تمدنی اور مذہبی نظاموں میں فرق رہا ہے، جس کی بنیاد دراصل اس فرق پر ہے کہ نوع اور تمدن کے لیے زنا کے نقصان دہ ہونے کا شعور کہیں کم ہے اور کہیں زیادہ، کہیں واضح ہے اور کہیں دوسرے مسائل سے اُلجھ کر رہ گیا ہے۔
(۲) زنا کی حُرمت پر متفق ہونے کے بعد اختلاف جس امر میں ہوا ہے وہ اس کے جرم ، یعنی قانونًا مستلزمِ سزا ہونے کا مسئلہ ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے اسلام اور دوسرے مذاہب اور قوانین کا اختلاف شروع ہوتا ہے۔ انسانی فطرت سے قریب جو معاشرے رہے ہیں ، انہوں نے ہمیشہ زنا، یعنی عورت اور مرد کے ناجائز تعلق کے بجائے خود ایک جرم سمجھا ہے اور اس کے لیے سخت سزائیں رکھی ہیں ۔ لیکن جوں جوں انسانی معاشروں کو تمدّن خراب کرتا گیا ہے، رویّہ نرم ہو تا چلا گیا ہے۔
اس معاملے میں اوّلین تساہُل ، جس کا ارتکاب بالعموم کیا گیا ، یہ تھا کہ ”محض زنا“(Fornication ) اور ”زنا بزنِ غیر“(Adultery ) میں فرق کر کے ، اول الذکر کو ایک معمولی سی غلطی ، اور صرف مؤخر الذکر کو جرم مستلزم سزا قرار دیا گیا۔
محض زنا کی تعریف جو مختلف قوانین میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ”کوئی مرد، خواہ وہ کنوارا ہو یا شادی شدہ ، کسی ایسی عورت سے مباشرت کرے جو کسی دوسرے شخص کی بیوی نہ ہو“۔ اس تعریف میں اصل اعتبار مرد کی حالت کا نہیں، بلکہ عورت کی حالت کا کیا گیا ہے۔ عورت اگر بے شوہر ہے تو اس سے مباشرت محض زنا ہے، قطع نظر اس سے کہ مرد بیوی رکھتا ہو یا نہ ہو۔ قدیم مصر، بابِل، آشور(اسیریا) اور ہندوستان کے قوانین میں اس کی سزا بہت ہلکی تھی۔ اسی قاعدے کو یونان اور روم نے اختیار کیا ، اور اسی سے آخر کار یہودی بھی متاثر ہوگئے۔ بائیبل میں یہ صرف ایک ایسا قصور ہے جس سے مرد پر محض مالی تاوان واجب آتا ہے ۔ کتاب ”خروج“ میں اس کے متعلق جو حکم ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:
” اگر کوئی آدمی کسی کنواری کو ، جس کی نسبت (یعنی منگنی) نہ ہوئی ہو پھُسلا کر اس سے مباشرت کر لے تو وہ ضرور ہی اسے مہر دے کر اس سے بیاہ کرلے، لیکن اگر اس کا باپ ہر گز راضی نہ ہو کہ اس لڑکی کو اُسے دے ، تو وہ کنواریوں کے مہر کے موافق (یعنی جتنا مہر کسی کنواری لڑکی کو دیا جاتا ہو) اسے نقدی دے“۔ (باب ۲۲۔ آیت ۱۶ – ۱۷)۔
کتاب ”استثناء“ میں یہی حکم ذرا مختلف الفاظ میں بیان ہوا ہے ، اور پھر تصریح کی گئِ ہے کہ مرد سے لڑکی کے باپ کے پچاس مثقال چاندی (تقریبًا ۵۵ روپے) تاوان دلوایا جائے(باب ۲۲۔ آیت ۲۸ – ۲۹) البتہ اگر کوئی شخص کاہن (یعنی پروہت،Priest ) کی بیٹی سے زنا کرے تو اس کے لیے یہودی قانون میں پھانسی کی سزا ہے، اور لڑکی کے لیے زندہ جلانے کی (Everyman’s Talmud, P. 319-20 )۔
”جو شخص اپنی ذات کی کنواری لڑکی سے اس کی رضامندی کے ساتھ زنا کرے وہ کسی سزا کا مستحق نہیں ہے۔ لڑکی کا باپ راضی ہو تو وہ اس کو معاوضہ دے کر شادی کر لے۔ البتہ اگر لڑکی اونچی ذات کی ہو اور مرد نیچ ذات کا تو لڑکی کو گھر سے نکال دینا چاہیے اور مرد کو قطع اعضا کی سزا دینی چاہیے“ (ادھیائے ۸ اشلوک ۳۶۵، ۳۶۶) اور یہ سزا زندہ جلادیے جانے کی سزا میں تبدیل کی جا سکتی ہے جبکہ لڑکی برہمن ہو (اشلوک ۳۷۷)۔
دراصل ان سب قوانین میں زنا بزنِ غیر ہی اصلی اور بڑا جرم تھا یعنی یہ کہ کوئی شخص (خواہ وہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ) کسی ایسی عورت سے مباشرت کرے جو دوسرے شخص کی بیوی ہو۔ اس فعل کے جرم ہونے کی بنیاد یہ نہ تھی کہ ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے ، بلکہ یہ تھی کہ اُن دونوں نے مل کر ایک شخص کو اس خطرے میں مبتلا کر دیا ہے کہ اسے کسی ایسے بچے کو پالنا پڑے جو اس کا نہیں ہے۔ گویا زنا نہیں بلکہ اختلاطِ نسب کا خطرہ اور ایک کے بچے کا دوسرے کے خر چ پر پلنا اور اس کا وارث ہونا اصل بنائے جرم تھا جس کی وجہ سے عورت اور مرد دونوں مجرم قرار پاتے تھے۔ مصریوں کے ہاں اس کی سزا یہ تھی کہ مرد کو لاٹھیوں سے خوب پیٹا جائے اور عورت کی ناک کاٹ دی جائے ۔ قریب قریب ایسی ہی سزائیں بابل، اشور، اور قدیم ایران میں بھی رائج تھیں۔ ہندووں کے ہاں عورت کی سزا یہ تھی کہ اس کو کتوں سے پھڑوا دیا جائے اور مرد کو یہ کہ اسے لوہے کے گرم پلنگ پر لٹا کر چاروں طرف آگ جلا دی جائے ۔ یونان اور روم میں ابتداءً ایک مرد کو یہ حق حاصل تھا کہ اگر وہ اپنی بیوی کے ساتھ کسی کو زنا کرتے دیکھ لے تو اسے قتل کر دے، یا چاہے تو اس سے مالی تاوان حاصل کر لے۔ پھر پہلی صدی قبل مسیح میں قیصر آگسٹس نے یہ قانون مقرر کیا کہ مرد کی آدھی جائداد ضبط کر کے اسے جلا وطن کر دیا جائے ، اور عورت کا آدھا مہر ساقط اور اس کی ۱/۳ جائداد ضبط کر کے اُسے بھی مملکت کے کسی دور دراز حصّے میں بھیج دیا جائے۔ قسطنطین نے اس قانون کو بدل کر عورت اور مرد دونوں کے لیے سزائے موت مقرر کی۔ لیو () اور مارسِیَن () کے دَور میں اِس سزا کو حبسِ دوام میں تبدیل کر دیا گیا۔ پھر قیصر جَسٹینِیَن نے اس میں مزید تخفیف کر کے یہ قاعدہ مقرر کر دیا کہ عورت کو کوڑوں سے پیٹ کر کسی راہب خانے میں ڈال دیا جائے اور اس کے شوہر کو یہ حق دیا جائے کہ چاہے تو دوسال کے اندر اسے نکلوا لے، ورنہ ساری عم وہیں پڑا رہنے دے۔
یہودی قانون میں زنا بزنِ غیر کے متعلق جو احکام پائے جاتے ہیں وہ یہ ہیں:
”اگر کوئی کسی ایسی عورت سے صحبت کر ے جو لونڈی اور کسی شخص کی منگیتر ہو اور نہ تو اس کا فدیہ ہی دیا گیا ہو اور نہ وہ آزاد کی گئی ہو، تو ان دونوں کو سزا ملے، لیکن وہ جان سے نہ مارے جائیں اس لیے کہ عورت آزاد نہ تھی“۔ (احبار ۱۹ – ۲۰)۔
”جو شخص دوسرے کی بیوی سے ، یعنی اپنے ہمسائے کی بیوی سے زنا کرے وہ زانی اور زانیہ دونوں ضرور جان سے مار دیے جائیں“۔ (احبار ۲۰ – ۱۰)۔
”اگر کوئی مرد کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے ہوئے پکڑا جائے تو وہ دونوں مار ڈالے جائیں“۔(استثناء ۲۲ – ۲۲)۔
”اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسُوب ہو گئی ہو۔ (یعنی اس کی منگنی ہو) اور کوئی دوسرا آدمی اسے شہر میں پا کر اس سے صحبت کرے تو تم اُن دونوں کو اس شہر کے پھاٹک پر نکال لانا اور ان کو تم سنگسار کر دینا کہ وہ مر جائیں۔ لڑکی کو اس لیے کہ وہ شہر میں ہوتے ہوئے نہ چلّائی اور مرد کو اس لیے کہ اس نے اپنے ہمسائے کی بیوی کو بے حرمت کیا۔ پر اگر اس آدمی کو وہی لڑکی جس کی نسبت ہو چکی ہو، کسی میدان یا کھیت میں مل جائے اور وہ آدمی جبرًا اس سے صحبت کرے تو فقط وہ آدمی ہی جس نے صحبت کی مار ڈالا جائے پر اس لڑکی سے کچھ نہ کرنا“۔ (استثناء ۲۲ – ۲۳ تا ۲۶)۔
لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کے عہد سے بہت پہلے یہودی علماء ، فقہاء، امراء اور عوام ، سب اس قانون کو عملًا منسُوخ کر چکے تھے۔ یہ اگرچہ بائِبل میں لکھا ہوا تھا کہ خدائی حکم اسی کو سمجھا جاتا تھا ، مگر اسے عملًا نافذ کرنے کا کوئی روادار نہ تھا، حتیٰ کہ یہودیوں کی تاریخ میں ا س کی کوئی نظیر تک نہ پائِ جاتی تھی کہ یہ حکم کبھی نافذ کیا گیا ہو۔ حضرت عیسیٰ ؑ جب دعوتِ حق لے کراُٹھے اور علماء یہود نے دیکھا کہ اس سیلاب کو روکنے کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو رہی ہے تو وہ ایک چال کے طور پر ایک زانیہ عورت کو آپ کے پاس پکڑ لائے اور کہا اس کا فیصلہ فرمائیے (یوحنا باب ۸ ، آیت ۱ – ۱۱) ۔ اس سے ان کا مقصود یہ تھا کہ حضرت عیسیٰؑ کو کنویں یا کھائی ، دونوں میں سے کسی ایک میں کودنے پر مجبور کردیں۔ اگر آپ رجم کے سوا کوئی اور سزا تجویز کریں تو آپ کو یہ کہہ کر بدنام کیا جائے کہ لیجیے، یہ نرالے پیغمبر صاحب تشریف لائے ہیں جنہوں نے دنیوی مصلحتوں کی خاطر خدائی قانون کو بدل ڈالا۔ اور اگر آپ رجم کا حکم دیں تو ایک طرف رومی قانون سے آپ کو ٹکرا دیا جائے اور دوسری طرف قوم سے کہا جائے کہ مانو ان پیغمبر صاحب کو، دیکھ لینا، اب توراۃ کی پوری شریعت تمہاری پیٹھوں اور جانوں پر برسے گی۔ لیکن حضرت عیسیٰؑ نے ایک ہی فقرے میں ان کی چال کو انہی پر اُلٹ دیا۔ آپ نے فرمایا تم میں سے جو خود پاک دامن ہو وہ آگے بڑھ کر اسے پتھر مارے ۔ یہ سُنتے ہی فقیہوں کی ساری بھیڑ چھٹ گئی ، ایک ایک منہ چھپا کر رخصت ہو گیا ور ”حاملانِ شرعِ متین “ کی اخلاقی حالت بالکل برہنہ ہو کر رہ گئی ۔ پھر جب عورت تنہا کھڑی ہو گئی تو آپ نے اسے نصیحت فرمائی اور توبہ کرا کے رخصت کر دیا، کیونکہ نہ آپ قاضی تھے کہ اس مقدمے کا فیصلہ کر تے، نہ اُس پر کوئی شہادت قائم ہو ئی تھی ،اور نہ کوئی اسلامی حکومت قانونِ الہٰی نافذ کرنے کے لیے موجود تھی۔
حضرت عیسیٰؑ کے اس واقعہ سے اور آپ کے چند اور متفرق اقوال سے جو مختلف مواقع پر آپ نے ارشاد فرمائے، عیسائیوں نے غلط استنباط کر کے زنا کے جرم کا ایک اور تصور قائم کر لیا۔ ان کے ہاں زنا اگر غیر شادی شدہ مرد، غیر شادی شدہ عورت سے کرتے تو یہ گناہ توہے، مگر جرم مستلزم سزا نہیں ہے۔ اور اگر اس فعل کا کوئی ایک فریق ، خواہ وہ عورت ہو یا مرد، شادی شدہ ہو ، یا دونوں شادی شدہ ہوں ، تو یہ جرم ہے، مگر اس کو جرم بنانے والی چیز دراصل ”عہد شکنی“ ہے نہ کہ محض زنا۔ ان کے نزدیک جس نے بھی شادی شدہ ہو کر زنا کا ارتکاب کیا وہ اس لیے مجرم ہے کہ اُس نے اُس عہدِ وفا کو توڑ دیا جو قربان گاہ کے سامنے اس نے پادری کے توسط سے اپنی بیوی یا اپنے شوہر کے ساتھ باندھا تھا۔ مگر اس جرم کی کوئی سزا اس کے سوا نہیں ہے کہ زانی مرد کی بیوی اپنے شوہر کے خلاف بے وفائی کا دعویٰ کر کے تفریق کی ڈگری حاصل کر لے اور زانیہ عورت کا شوہر ایک طر ف اپنی بیوی پر دعویٰ کر کے تفریق کی ڈگری لے اور دوسری طرف اُس شخص سے بھی تاوان لینے کا حق دار ہو جس نے اس کی بیوی کو خراب کیا۔ بس یہ سزا ہے جو مسیحی قانون شادی شدہ زانیوں اور زانیات کو دیتا ہے ، اور غضب یہ ہے کہ یہ سزا بھی د و دھاری تلوار ہے۔ اگر ایک عورت اپنےشوہر کے خلاف”بے وفائی“ کا دعویٰ کر کے تفریق کی ڈگری حاصل کر لے تو وہ بے وفا شوہر سے تو نجات حاصل کر لے گی ،لیکن مسیحی قانون کی رو سے پھر وہ عمر بھر کوئی دوسرا نکاح نہ کر سکے گی۔ اور ایسا ہی حشر اُس مرد کا بھی ہو گا جو بیوی پر ”بے وفائی“ کا دعویٰ کر کے تفریق کی ڈگری لے، کیونکہ مسیحی قانون اس کو بھی نکاحِ ثانی کا حق نہیں دیتا۔ گویا زوجین میں سے جس کو بھی تمام عمر راہب بن کر رہنا ہو وہ اپنے شریکِ زندگی کی بے وفائی کا شکوہ مسیحی عدالت میں لے جائے۔
موجودہ زمانے کے مغربی قوانین، جن کی پیروی اب خود مسلمانوں کے بھی بیشتر ممالک کر رہے ہیں، انہی مختلف تصوّرات پر مبنی ہے۔ ان کے نزدیک زنا، عیب یا بد اخلاقی یا گناہ جو کچھ بھی ہو، جرم بہر حال نہیں ہے۔ اسے اگر کوئی چیز جرم بنا سکتی ہے تو وہ جبر ہے، جبکہ فریقِ ثانی کی مرضی کے خلاف زبر دستی اس سے مباشرت کی جائے۔ رہا کسی شادی شدہ مرد کا ارتکابِ زنا ، تو وہ اگر وجہ شکایت ہے تو اس کی بیوی کے لیےہے، وہ چاہے تو اس کا ثبوت دے کر طلاق حاصل کر لے۔ اور زنا کی مرتکب اگر شادی شدہ عورت ہے تو اس کے

شوہر کو نہ صرف اس کے خلاف بلکہ زانی مرد کے خلاف بھی وجہ شکایت پیدا ہو تی ہے، اور دونوں پر دعویٰ کر کے وہ بیوی سے طلاق اور زانی مرد سے تاوان وصول کر سکتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s