قرآن میں مکہ اور مدینہ کی عربی کے مختلف انداز تلفظ کا اختلاف کیسے حل ہوا ؟ڈاکٹر حمید الله کی کتاب “تاریخ قرآن” سے عماد بزدار کا اقتباس آخری حصہ

قرآن مجید میں “تابوت” کا لفظ آیا ہے، جس کے معنی صندوق کے ہوتے ہیں۔ اس کا تلفظ مدینہ منورہ کی بولی (Dialect) میں “تابوہ” ہوتا تھا۔ آخر میں “ۃ” کے ساتھ جب کہ مکے کے لوگ “تابوت” کے ساتھ پڑھتے تھے۔ اس پر کمیشن کے ارکان متفق نہیں ہوسکے۔ یہ اختلافی مسئلہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے پیش ہوا تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ تابوت بڑی ت کے ساتھ لکھو، یہ کوئی بڑی اہمیت کی بات نہیں، لیکن میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عثمان
کے زمانے میں قرآن مجید کی تدوین ہوئی اس کی حقیقت کیا ہے؟ حقیقت صرف اس قدر ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں قرآن مجید کی نقلیں تیار کی گئیں۔ املا میں کہیں کہیں ترمیم کی گئ۔ لفظ کی آواز کو نہیں بدلا گیا۔ لیکن اس آواز کی املا میں کچھ فرق کیا گیا۔ اس کے بعد اس کے چار نسخے یا ایک روایت کے مطابق سات نسخے تیار کیے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں علمی دیانت داری کا جو معیار تھا اس کے تحت انہوں نے حکم دیا کہ ان ساتوں نسخوں کو ایک ایک کر کے، مسجد نبوی میں ایک شخص با آواز بلند شروع سے لے کر آخرت تک پڑھے تاکہ کسی شخص کو بھی یہ شبہ نہ رہے کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن میں کہیں کوئی تبدیلی کی ہے۔ جب یہ سارے نسخے اس طرح پڑھے گئے اور سب کو اطمینان ہو گیا کہ یہ نسخے صحیح ہیں تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی وسیع سلطنت کے مختلف صوبوں کے صدر مقاموں پر وہ نسخے بھیجے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کی اسلامی سلطنت کی وسعت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ 27 ہجری یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے صرف پندرہ سال بعد، اسلامی فوج ایک طرف اسپین میں اور دوسری طرف دریائے جیجوں کو عبور کر کے ماوراء النہر (چین) میں داخل ہو گئی تھی۔ یورپ، ایشیا اور افریقہ، اسلامی سلطنت ان سب براعظموں میں پھیل گئی تھی اس کے بڑے بڑے صوبوں میں قرآن مجید کے یہ نسخے بھیجے گئے اور یہ حکم دیا گیا کہ آئندہ صرف انہیں سرکاری مستند نسخوں سے مزید نقلیں لی جایا کریں۔ اس بات کی تاکید بھی کی گئی کہ اگر کسی کے پاس کوئی نسخہ اس کے خلاف پایا جائے تو اسے تلف کر دیا جائے۔ اس حکم کی تعمیل کس حد تک ہوئ، اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ عملاً یہ ناممکن بھی تھا کہ تین براعظموں کے ہر ہر مسلمان کے گھر میں پولیس جائے اور قرآن مجید کا شروع سے لے کر آخر تک سرکاری نسخے سے مقابلہ کرے۔ اور پھر اس میں کوئی اختلاف نظر آئے تو اسے تلف کر دے۔ تاریخی طور پر ایسے کسی واقعے کا ذکر بھی نہیں ملتا لیکن بہر حال حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے سے آج تک قرآن مجید کے جو نسخے ہمارے پاس نسلاً بعد نسلاً چلے آ رہے ہیں، وہ پہلی صدی ہجری سے لے کر آج تک وہی ہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو چار یا سات قلمی نسخے مختلف مقامات پر بھیجے ان میں سے کچھ اب تک محفوظ سمجھے جاتے ہیں

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s