قرآن کی تدوین کیسے ہوئی ؟قدیم ترین نسخے کہاں موجود ہیں ؟ڈاکٹر حمید الله کی کتاب “تاریخ قرآن” سے عماد کا معلوماتی اقتباس کا پہلا حصہ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جب قرآن مجید کی تحریراً تدوین ہوئی تو مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ نسخہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں پیش کیا گیا اور ان کی وفات تک ان کے پاس رہا۔ جب ان کی وفات ہوئی تو وہ نسخہ ان کے جانشین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلا گیا۔ اور پھر مؤرخین لکھتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کی شہادت واقع ہوئی تو وہ نسخہ ان کی بیٹی ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس چلا گیا۔ امہات المومنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سب پڑھی لکھی نہیں تھی۔ بعض کو صرف پڑھنا آتا اور بعض کو پڑھنا لکھنا دونوں آتے تھے۔ جب کہ بعض امی تھیں۔ اس میں کوئی اعتراض کا پہلو نہیں صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی بیٹی ان معدودے چند عورتوں میں تھیں جن کو پڑھنا لکھنا دونوں آتے تھے۔ بہر حال حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے تیار شدہ نسخہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے بعد حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس چلا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جانشین حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غالباً ان کی شخصیت اور وجاہت کی بناء پر، یہ مناسب نہیں سمجھا کہ وہ نسخہ ان سے لے لیں۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود حافظ قرآن تھے۔ ان کے پاس ان کا اپنا نسخہ موجود تھا۔ انہیں ضرورت بھی محسوس نہیں ہوئی کہ وہ اس نسخے کو حاصل کریں۔ لیکن ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس کی بنا پر ضرورت پیش آئی کہ وہ نسخہ دوبارہ خلیفہ وقت کے پاس لایا جائے اور اس سے استفادہ کیا جائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s