تجزیہ ثاقب ملک : ہارون الرشید کے کالم “الله رحم کرے ” پرآرچر آئی سے تبصرہ .کیا فوج اور ایجنسیاں اپنا گند صاف کریں گئیں ؟

پس منظر
گزشتہ روز دئے گئے آرمی چیف کے بیان جس میں حکومت کی سستی پر تنقید کی گئی اور اس پر حکومتی رد عمل کے تناظر میں یہ کالم لکھا گیا ہے .http://dunya.com.pk/index.php/author/haroon-ur-rahid/2015-11-12/13270/73539452#.VkSNSeL5aKIharoon 2
خلاصہ
ہارون الرشید کہتے ہیں کہ فوج پر عزم ہے کہ وہ براہ راست اقتدار نہیں سنبھالے گی لیکن اگر انکا احتجاج بے سود رہا تو انہیں کوئی فیصلہ صادر کرنا ہو گا .کالم نگار کسی فوجی افسر سے اپنی ملاقات کی روداد بتاتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا کہ آرمی چیف نے خود نواز شریف سے بات کیوں نہ کی ؟پریس ریلیز کیوں جاری کی ؟تو اس پر افسر کا کہنا تھا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پہلے بار بار توجہ نہیں دلائی گئی ہو گی ؟پھر وہ افسر سوالات کرتے ہیں کہ فاٹا پر کمیٹی اتنی غیر فعال کیوں ہے ؟اسکے علیحدہ صوبے یا پختونخوا میں ضم کرنے پر کوئی فیصلہ کیوں نہیں کر لیا جاتا ؟ضرب عضب پر اخراجات کا اسحاق ڈار کیوں بار بار تذکرہ کرتے ہیں ؟بجلی کمپنیوں پر کئے گئے اخراجات کا اس طرح سے تذکرہ کیوں نہیں کیا جاتا ؟کیا وہ ان اخراجات سے تنگ ہیں ؟وزیرستان سے ہجرت کرنے والوں کے لئے حکومت کے پاس کوئی رقم کیوں نہیں ہے ؟
کالم نگار کہتے ہیں کہ فوجی اپنی رائے کا اظہار ،آف دی ریکارڈ کرتے ہیں حکومتی وزرا کی طرح مغلظات نہیں بکتے .وہ کہتے ہیں کہ آرمی چیف کے پاس ایک محدود وقت ہے ایک سال کے اندر انھیں ریٹائر ہو جانا ہے .
فوجی افسر نے ہارون الرشید کو کہا کہ حکومتی پارٹی اور انتہا پسندوں کے آپس میں تعلقات ہیں .کالم نگار ایک حکومتی ترجمان اخبار کی خبر کا حوالہ دے کر کہتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں پانچ سو سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے حمایتی منتخب ہو چکے ہیں پنجاب میں کثیر تعداد میں ایسی تنظیموں کے ارکان کے حکومتی پارٹی سے مراسم ہیں .کالم نگار لکھتے ہیں کہ وزیر اعظم تو کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں .کل ایک بجلی کے منصوبے کے افتتاح پر انہوں نے کم رقم میں منصوبے کو مکمل کرنے کا مژدہ سنایا اس پر تو کیا سرکاری جشن نہیں ہونا چاہئے ؟
لیکن وہ فوجی افسر نالاں ہی رہا .اسکا کہنا تھا کہ آپ نے خود لکھا کہ پولیس میں کوئی بہتری نہیں آئی .نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد میں سستی کی جا رہی ہے .وزارت داخلہ کہتی ہے کہ جماعت الدعوہ کی کوئی خبر نشر نہیں ہو سکتی اور پیمرا اس بارے میں لا علم ہے .ایک خاتون ٹی وی پر بیٹھ کر ملٹری اکادمی کو ختم کرنے کو مسلے کا حل بتا رہیں تھیں .فوجی صدمے کا شکار ہیں .انکا کہنا ہے کہ صرف لاؤڈ سپیکر پر پابندی مسلے کا حل نہیں ہے .مدارس میں اصلاحات پر ابھی پہلا قدم بھی نہیں اٹھایا گیا ہے .ان مدارس کے سرپرست حکومت کا حصہ ہیں .فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق جو اپنے آپ کو بابائے طالبان بھی کہتے ہیں .دہشت گردوں کی اکثریت اسی فرقے سے تعلق رکھتی ہے.اسحاق ڈار ابھی تک نکٹا کے لئے فنڈز جاری نہیں کرسکے ہیں .حکومتی صحافیوں کا طرز عمل اس باب میں حیران کن ہے .ایک حکومتی صحافی جو نواز شریف کے احسان مند ہیں وہ ان اختلافات پر خوش ہیں .آخر میں ہارون الرشید لکھتے ہیں کہ فوج حکومت کے طرز عمل سے زیادہ اس طرز عمل پر اسکے اطیمنان سے پریشان ہے .
تجزیہ
ہارون الرشید صاحب کی فوج سے محبت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے .انکے ناقدین اس محبت کو “ٹٹو پن” سے تشبیہ دیتے ہیں .بہر حال ہارون الرشید صاحب اسی فوج کے آرمی چیف جنرل مشرف کے سخت ترین ناقد رہے ہیں اس لئے یہ کہنا کچھ زیادہ قرین قیاس نہیں لگتا .مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ کالم نگار کا زیادہ جھکاؤ فوج کی طرف ہی ہے .یہاں یہ بات یاد رہے کہ میں بھی دیگر کروڑوں پاکستانیوں کی طرح اپنے جوانوں ،اپنے شہیدوں اور اپنے کمانڈوز کا فین ہوں .فوج سے میری محبت لیکن غیر مشروط نہیں ہے .میری غیر مشروط محبت صرف الله کے رسول سے ہے .یہاں یہ بتانا بھی لازم ہے کہ میرے گھر سے ایک شہید کا جنازہ اٹھ چکا ہے .یعنی میرا تعلق ایک فوجی گھرانہ سے ہے .لیکن ہارون الرشید کا یہ کالم حیران کن حد تک مریضانہ ہے .
کالم نگار کا یہ تاثر دینا جیسے کہ فوج بہت مجبور بیٹھی ہے .اسے کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے .اور گو کہ وہ براہ راست اقتدار میں نہیں آنا چاہتی مگر اسے مجبور کیا گیا تو آخر اسے کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا .یہ صاف مارشل لا کو دعوت دینے والے الفاظ ہیں جن کی کوئی ضرورت نہ تھی .ایک طرف تو ہارون الرشید پچھلے دو ماہ سے فوج اور وزیر اعظم کے ایک “پیج” پر ہونے کی خوش خبریاں سنا رہے تھے .کہاں تو افغانستان پر فوج اور وزیر اعظم کی حکمت عملی پر داد و تحسین کے خوشامدی ڈونگرے برسائے جا رہے تھے .اب ہارون الرشید صاحب کوئی ہفتہ دو ہفتہ قبل پاکستان کی افغان پالیسی کو بھی ناکام قرار دے رہے تھے .اب وہ فوج اور حکومت میں بھی سخت اختلافات کی نوید سنا رہے ہیں .سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنے با خبر صحافی کو ان دونوں اہم ایشوز پر درست خبریں نہیں ملیں یا انہوں نے اپنے تعصبات اور پسند نا پسند کے زیر اثر وہ تجزیے کئے ؟ تو اب انکے تجزیوں کی کیا وقعت رہ جاتی ہے ؟اگر تو وہ وزیر اعظم اور فوج کے اختلاف کو پہلے اجا گر کرتے تو زیادہ موثر ہوتا اب جب بیان آ چکا اس پر ایک مزید پریشر اور دباؤ پیدا کرنے والا کالم لکھنا انکی جانبداری کی طرف اشارہ کر رہا ہے .
جہاں تک فوجی افسر کے کندھے پر بندوق رکھ کر سوال اٹھانے والی بات ہے تو جن بھی سوالات کو اٹھایا گیا ہے وہ درست ہیں .اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتی نا اہلی اور سستی سب پر عیاں ہے .”نکٹا ” کے لئے فنڈز جاری نہ کرانا بھی ایک جرم سے کم نہیں ہے .نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی غیر ذمہ داری کی شکایات بھی درست ہیں .حکومتی پارٹی میں دہشت گرد تنظیموں کے ارکان اور انکے حمایتی موجود ہیں اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے .مسلم لیگ کے پٹھو صحافیوں کا طرز عمل بھی انکی مکروہ حرکات کی طرح پلید ہے .حکومتی وزرا بھی ایسے لگتا ہے ٹن ہو کر مائیک کے سامنے آ جاتے ہیں پھر جو منہ میں آتا ہے بک دیا جاتا ہے .ان تمام معاملات میں کوئی شک نہیں ہے .مگر اس میں فوجی افسران کو کلین چٹ دینا یا ان پی سوال نہ اٹھانا پرلے درجے کا سفلہ پن ہے جو اس کالم میں روا رکھا گیا ہے .یہ تجزیہ کے نام پر الفاظ کی الٹی ہے .
کیا دہشت گرد تنظیمیں نواز شریف نے بنائیں تھیں ؟ اسکا سارا الزام حکومت پر تھوپ دینا نا انصافی ہے .کیا کالم نگار اس بات کو نہیں جانتے کہ ابھی بھی اسلام آباد کے مضافات اور آزاد کشمیر میں پاکستانی ایجنسیوں نے “سلیپنگ مجاہدین” کو پال رکھا ہے ؟انکو راشن ملتا ہے انکے خاندان آباد ہیں انکی حاضرین لگتی ہیں اور وہ لوگ سن گن لینے مقبوضہ کشمیر کے چکر لگاتے رہیتے ہیں .ٹھیک ہے یہ پاکستان کی بقا کے لئے اگر ضروری ہے تو اسکو کھلم کھلا “اون ” تو کیا جائے کیوں انکو پھر دہشت گرد کہہ دیا جاتا ہے ؟یہی جماعت الدعوه ہے جو فوج نے خود بنائی .حافظ سعید کے ایجنسیوں سے تعلقات کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں .لیکن اس پر صرف وزارت خارجہ یا پیمرا کو الزام دینا تو ایک بچگانہ بات ہے .فوج کو اپنا گند خود صاف کرنا چاہئے اور اگر یہ گند نہیں ہے تو اس پر الزام تراشی تو نہیں ہونی چاہئے .یہی انتہا پسند تنظیمیں ہیں جن کو ایجنسیوں نے پروان چڑھایا اور اب بھی انکے لوگ کسی حد تک محفوظ ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فوج کے خلاف نہیں لڑ رہے ہیں .جس طرح سے تحریک طالبان والے جانور فوج سے لڑ رہے ہیں اور اپنے ہی مالک کو کاٹ رہے ہیں .لیکن کیا فوج کو سوچنا نہیں چاہئے کہ پنجاب میں شدت پسند طبقہ کل کلاں خود فوج کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے ،کیا جو چیز فوج کے لےخطرہ ہو گی وہی پاکستان کے لئے خطرہ تصور کیا جائے گا یا بیچارے مظلوم عوام کے لئے خطرہ بھی کوئی خطرہ سمجھا جاتا ہے ؟
یہاں ہارون الرشید کا سمیع الحق کا نام لینا مضحکہ خیز ہے .یہ سمیع الحق فوج کے “میڈ ” ہیں .یہ مدارس اور ان میں قائم “جہادی فیکٹریاں” ایجنسیوں کی سپانسرڈ تھیں .اب اگر انکو ٹھیک کرنا ہے تو سارا اصلاحات کا بوجھ حکومت پر کیوں ڈالا جا رہا ہے ؟وہ بھی ایک کرپٹ اور نا اہل ترین حکومت پر ؟؟جس حکومت میں ایک ڈیڑھ سے زیادہ ڈھنگ کا وزیر نہ ہو جو خاندانی بادشاہت ہو اس سے کیا توقع ؟
نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی ڈھٹائی تو ہے ہی قابل مذمت کے ہمارے سیاست دان مفاہمت کے نام پر کرپشن اور نان گورنس کا گٹر کھول کر بیٹھے ہیں .لیکن حیرانگی اس بات پر ہے کیا کراچی آپریشن کو پورے ملک تک پھیلانے کا ارادہ نہیں تھا فوج کا ؟پھر پنجاب میں آ کر نیب کیوں اعتکاف میں بیٹھ چکی ہے ؟ کیا صرف ایم کیو ایم کی گردن ٹھیک کرنا مقصود تھا ؟ راحیل شریف اس وقت مقبولیت کی معراج پر ہیں انہی چاہئے کہ اپنے گریبان میں بھی جھانکیں تاکہ لوگوں کو یہ تاثر نہ ملے کہ یہ نینشنل ایکشن پلان صرف چند اہم داخلی اور خارجی مقاصد کے لئے تھا بلکہ تاثر یہ پیدا ہونا چاہئے کہ یہ سب اقدامات عوام کی بہتری کے تناظر میں کئے جا رہے ہیں .فی الحال تو ایسا لگنا شروع ہو گیا ہے کہ کسی طوفان کی آمد سے پہلے جیسی خاموشی ہے .لیکن حکومت کی ہٹ دھرمی اور بے سروپا حرکات کہیں اسکو ماضی کی طرح اس بار بھی نہ لے ڈوبیں .دونوں کو اپنے اپنے دائرے میں رہ کر اپنے حصے کا کام کرنا ہو گا .
کوٹ ایبل
“حضور بے چارہ آرمی چیف صرف اتنا کہہ رہا ہے کہ اپنے حصے کا کام کرو ”
“پھر اس نے کہا انتہا پسندوں کے ساتھ حکمران پارٹی کے تعلقات ہیں .ان لوگوں کو احساس ہی نہیں کہ جرم اور انتہا پسندی کا باہم رشتہ ہے .کل کے غنڈے آج ایک نظریے کا پرچم اٹھا کر دہشت گرد بن چکے ہیں ”
“ان میں سے ایک مشہور ٹی وی میزبان ،جس پر وزیر اعظم کے ذاتی احسانات ہیں ،جو انکے ایما پر سفارت کاری کے فرائض سر انجام دیتا ہے کل خوب چہچہا رہا تھا .وہ اس بات پر شادماں تھا فوج اور حکومت میں اختلافات ہیں اور رہیں گے ”
سوال
کیا حکومت نینشنل ایکشن پر عمل در آمد میں رکاوٹ ہے ؟ * کیا فوج کو اور ایجسنیوں کو اپنی ذمہ داریوں کے احتساب کا خوف ہے ؟ *کیا ایجسیوں کو اپنے لگائے گئے پودوں کی جڑیں خود کاٹنی چاہئیں بجائے کہ نا اہل اور جاہل حکومت پر بھروسہ کیا جائے ؟ * کیا راحیل شریف کو مارشل لا لگا دینا چاہئے اگر وہ اپنی مرضی سے کام نہ کر سکے تو ؟ * کیا مارشل لا ہمارے مسائل کا حل ہو گا یا وقتی ریلیف ؟ * کیا کالم نگار نے جانبداری سے کام لیا ہے ؟
ریٹنگ
ایک کمتر درجے کا کالم ہے اسکو میں تین نمبر ہی دے سکوں گا .تجربہ کار صحافی سے ایسے کالموں کی توقع نہیں ہوتی ہے

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s