میڈیا عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتا ہے .عمران ،ریحا م ایشو پر میڈیا دلال بن گیا .ذیشان اعوان کا سلگتا کالم

عمران خان کی سیاست ہو یا شادی یہ میڈیا کے لیے گرم مصالحہ ہے۔۔ جہاں ایک طرف میڈیا کو اپنا چہرہ بہتر بنانے کیلئے تھوڑی بہتری کی جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے وہیں عمران خان اور تحریک انصاف کو بھی ذاتیت سے بالاتر ہو کر آگے بڑھنے اور اپنے اور جماعت کو سدھارنا ضروری ہے
عوام کرتے کیا ہیں۔۔۔
سیاستدانوں کی ذاتی زندگی میں جھانکنا ہمارے قومی مشغلوں میں سے ایک ہے۔ ملک کے ہر صوبے، ضلع کے ایک ایک کونے میں سیاستدانوں کی شادیوں، رنگین مزاجیوں کی کہانیاں زبان زدعام ہیں۔اسی طرح کی کہانیوں پر مبنی ایک کتاب پارلیمنٹ سے بازار حسن تک مارکیٹ میں موجود ہے، اس کتاب نے بڑا تہلکہ مچا یا ، اب بھی کتابوں کے حوالے سے باتیں کرتے ہوئے اس کے تذکرے سننے میں آتے ہیں، نوجوان سرگوشیاں کرتے، اس کتاب کو دکانوں میں چوری چھپے اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔۔سیاست پر بحث کرتے ہوئے کسی کی خفیہ شادیاں، کسی کے افیئرز اور کسی کے بچے غالب رہتے ہیں۔۔
عوام کو کیا کرنا چاہیے۔۔۔
ایک باشعور معاشرے میں عوام کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ اور مخالف سیاستدانوں کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھیں۔۔ ان کی غلط پالیسوں کی مخالفت اور اچھی پالیسوں کی حمایت کریں۔۔ ایسے معاہدے چھپانے پر انہیں تنقید کا نشانہ بنائیں جس سے عوام کی زندگیوں سے متعلق کوئی شعبہ نظرانداز ہو رہا ہو۔۔ اداروں کی کارکردگی کی سالانہ رپورٹس ، پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کے انکشافات اور اسمبلی کی کارروائی پر کسی بھی طرح کی لچک کا مظاہرہ نہ کریں۔
میڈیا نے کیا کیا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔ بدصورت پاوں مگر خوبصورت چہرے کا مالک ، ریاست کا چوتھا ستون ہونے کا علمبردار،صحافت کے ذہین ترین، قابل دماغوں کے باوجود انتہائی جہالت کاشکاراور سب سے پہلے کے احساس کمتری میں مبتلا میڈیا نے عوام کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھایا اورایک نان ایشو کو سب سے اہم بنا کر ہر گھر کے ڈرائنگ روموں میں لے آیا۔۔ جب سے عمران خان اور ریحام خان کی علیحدگی ہوئی تب سے اب تک کوئی ایسا صحافی نہیں جس نے اس موضوع پر اپنا پرمغز تجزیہ نہ دیا ہو یا کوئی اندر کی خبر بریک نہ کی ہو۔۔ ہر اخبار کے صفحات اور نیوز چینلز کی سکرینیں نت نئے انکشافات کرنے میں مصروف ہیں۔
میڈیا نے کیوں کیا؟
عوام کے زخموں کی تجارت کرنے والے اس شعبے کو ذاتیت کے علاوہ کچھ دکھائی اور سنائی نہیں دیتا ورنہ عمران خان اور ریحام خان کی الگ ہونے کی خبر سے پہلے مریم صفدر کے شادی شدہ ہونے کے باوجود اس کے ماں باپ کے گھر رہنے پرپروگرام ضرور ہو چکے ہوتے۔۔ بلال زرداری کے بھٹو بننے پر کیا ان کی ولدیت کی تبدیلی پر کسی نیوز چینل نے خصوصی رپورٹس چلائیں؟؟حمزہ اور ان کےوالد گرامی کی شادیاں، ان خواتین کا انصاف کیلئے بھٹکنا کی کہانیوں سے کب کب نو کے خبرناموں کا آغاز ہوا؟
تحریک انصاف کی غلطی۔۔۔
اس معاملے میں جتنا قصور میڈیا کا ہے اتنا بلکہ اس سے کچھ زیادہ تحریک انصاف اور عمران خان کا بھی ہے۔۔ جب عمران خان کی اہلیہ جلسوں سے خطاب کریں گی، جب ان کی شادی کی ایک ایک تصویر میڈیا پر ہوگی، جب سب سے بڑی شادی کہا جائے گا اور ہر وقت گانے چلیں گے تب کیا اسی جماعت نے کہا کہ یہ ذاتی معاملات میں مداخلت ہے؟ عمران خان سے جب ریحام کے حوالے سے سوال پوچھے گئے تو انہوں نے شرم دلانے کے بجائے سوالوں کا جواب کیوں دیا۔ عمران خان کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اگر انہیں ستر لاکھ ووٹرز نے عزت دی تو اس میں ایک بڑی وجہ ان کا سپر یم سٹار کا تاثر بھی ہے۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s