بغداد کے بد نام ترین ڈاکو ابن سباط کا ایمان لانے کا سنسنی خیز قصہ کا دوسرا حصہ ابو الکلام آزاد کی کتاب “درس وفا ” سے اقتباس

‘ نہیں معلوم کون احمق ہے جس نے یہ ملعون تھان جمع کر رکھے ہیں ؟ غالباً کو ئی تاجر ہے لیکن یہ عجیب طرح کا تاجر ہے۔ جسے بغداد میں تجارت کرنے کے لیے کوئی اور چیز نہیں ملی۔اتنا بڑا مکان بنا کر گدھوں خچروں کی جھول بنانے کا سامان جمع کر دیا۔ اس نے اپنے ایک ہی ہاتھ سے ایک تھان کی ٹٹول ٹٹول کر پیمائش کی ” بھلا یہ ملعون بوجھ کس طرح اٹھایا جا سکتا ہے ؟” ایک تھان کے اٹھانے کے لیے گن کر دس گدھے ساتھ لانے چاہئیں۔daku
لیکن بہر حال کچھ نہ کچھ کر نا ضروری تھا۔ رات جا رہی تھی اس نے سو چا جلدی سے ایک دو تھان جو اٹھائے جا سکتے ہیں اٹھا لے۔مشکل یہ تھی کہ مال کم قیمت مگر بہت زیادہ وزنی تھا۔کم لیتا ہے تو بیکار ہے۔زیادہ لیتا ہے تو لے جا نہیں سکتا۔عجب طرح کی کشمکش میں گرفتار تھا۔بہر حال کسی نہ کسی طرح یہ مرحلہ طے ہو ا۔ لیکن اب دوسری مشکل پیش آئی۔ صوف کا کپڑا بے حد موٹا تھا۔ اسے مروڑ دے کر گرہ لگا نا آسان نہ تھا۔دونوں ہاتھوں سے بھی یہ کام مشکل تھا۔ چہ جائے کہ ایک ہاتھ سے ؟ بلا شبہ اس کے پاس ہاتھ کی طرح پاؤں ایک نہ تھا ، دو تھے۔ لیکن وہ بھاگنے میں مدد دے سکتے تھے۔ صوف کی گٹھڑی باندھنے کے لیے سود مند نہ تھے۔اس نے بہت سی تجویزیں سوچیں۔ طرح طرح کے تجربے کیے دانتوں سے کام لیا۔ کٹی ہو ئی کہنی سے سرا دبایا۔ لیکن کسی طرح بھی گٹھڑی میں گرہ نہ لگ سکی ، وقت کی مصیبتوں میں تاریکی کی شدت نے اور زیادہ اضافہ کر دیا تھا۔ اندرونی جذبات کے ہیجان اور بیرونی فعل کی بے سود محنت نے ابن سباط کو بہت جلد تھکا دیا۔وقت کی کمی ، عمل کا قدرتی خوف ، مال کی گرانی ، محنت کی شدت اور فائدہ کی قلت اس کے دماغ کے لیے تمام مخالف تاثرات جمع ہو گئے تھے۔
اچانک وہ چونک اٹھا۔اس کی تیز قوت سماعت نے کسی کے قدموں کی نرم آہٹ محسوس کی۔ ایک لمحہ تک خاموشی رہی۔ پھر ایسا محسوس ہو ا ، جیسے کوئی آدمی دروازہ کے پاس کھڑا ہے۔ابن سباط گھبرا کر اٹھ کھڑا ہو ا۔ مگر قبل اس کے کہ وہ کوئی حرکت کر سکے۔ دروازہ کھلا اور روشنی نمایاں ہو ئی۔ خوف اور دہشت سے اس کا خون منجمد ہو گیا۔جہاں کھڑا تھا وہیں قدم گڑھ گئے۔نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ایک شخص کھڑا ہے۔ اس کے ہا تھ میں ایک شمعدان ہے اور اسے اس طرح اونچا کر رکھا ہے کہ کمرے کے تمام حصے روشن ہو گئے ہیں۔اس شخص کی وضع و قطع سے اس کی شخصیت کا اندازہ کر نا مشکل تھا۔ ملگجے رنگ کی ایک عبا اس کے جسم پر تھی ، جسے کمر کے پاس ایک موٹی رسی لپیٹ کر جسم پر چست کر لیا تھا۔سر پر سیاہ قلنسوہ (اونچی دیوار کی ٹوپی ) تھی اور اس قدر کشادہ تھی کہ اس کے کنارے ابروؤں کے قریب تک پہنچ گئے تھے۔جسم نہایت نحیف تھا۔اتنا نحیف کہ صوف کی موٹی عبا پہننے پر بھی اندر کی ابھری ہڈیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں اور قد کی درازی نے جس میں کمر کے پاس خفیف سی خمیدگی پیدا ہو گئی تھی۔یہ نحافت اور زیادہ نمایا ں کر دی تھی۔ لیکن یہ عجیب بات تھی کہ جسم کی اس غیر معمولی نحافت کا کوئی اثر اس کے چہرے پر نظر نہیں آتا تھا۔اتنا کمزور جسم رکھنے پر بھی اس کا چہرہ کچھ عجیب طرح کی تاثیر و گیرائی رکھتا تھا ایسا معلوم ہو تا تھا جیسے ہڈیوں کے ایک ڈھانچے پر ایک شاندار اور دلآویز چہرہ جوڑ دیا گیا ہے۔رنگت زرد تھی۔ رخسار بے گوشت تھے۔جسمانی تنو مندی کا نام و نشان نہ تھا۔ لیکن پھر بھی چہرے کی مجموعی ہیئت میں کوئی ایسی شاندار چیز تھی کہ دیکھنے والا محسوس کرتا تھا۔ایک نہایت طاقتور چہرہ اس کے سامنے ہے۔خصوصاً اس کی نگاہیں ایسی روشن ایسی مطمئن ایسی ساکن تھیں کہ معلوم ہو تا تھا ، دنیا کی ساری راحت اsufiور سکون انہی دو حلقوں کے اندر سما گئی ہے۔
چند لمحوں تک یہ شخص شمع اونچی کیے ابن سباط کو دیکھتا رہا۔پھر اس طرح آگے بڑھا اسے جو کچھ سمجھنا تھا۔ سمجھ چکا ہے۔اس کے چہرے پر ہلکا سا زیر لب تبسم تھا ایسا دلآویز اور ایسا شیریں تبسم جس کی موجودگی انسانی روح کے سارے اضطراب اور خوف دور کر سکتی ہے۔اس نے شمع دان ایک طرف دکھ دیا اور ایک ایسی آواز میں جو شفقت و ہمدردی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ابن سباط سے کہا:
” میرے دوست ! تم پر خد ا کی سلامتی ہو۔جو کام تم کرنا چاہتے ہو ، یہ بغیر روشنی اور ایک رفیق کے انجام نہیں پا سکتا۔ دیکھو یہ شمع روشن ہے اور میں تمہاری رفاقت کے لیے موجود ہوں۔روشنی میں ہم دونوں اطمینان اور سہولت کے ساتھ یہ کام انجام دے لیں گے۔ ”
وہ ایک لمحہ کے لیے رکا۔ جیسے کچھ سوچنے لگا ہے۔پھر اس نے کہا ” مگر میں دیکھتا ہوں تم بہت تھک گئے ہو۔ تمہاری پیشانی پسینہ سے تر ہو رہی ہے۔ یہ گرم موسم بند کمرہ تاریکی اور تاریکی میں ایسی سخت محنت ، افسوس ، انسان کو اپنے رزق کے لیے کیسی کیسی زحمتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ دیکھو ! یہ چٹائی بچھی ہے۔ یہ چمڑے کا تکیہ ہے۔ میں اسے دیوار کے ساتھ لگا دیتا ہوں۔ ” اس نے تکیہ دیوار کے ساتھ لگا کر رکھ دیا ” بس ٹھیک ہے اب تم اطمینان کے لیے ٹیک لگا کر یہاں بیٹھ جاؤ اور اچھی طرح سستا لو۔ اتنی دیر میں تمہارا ادھورا کام پو را کیے دیتا ہوں۔ ” اس نے یہ کہا اور ابن سباط کے کاندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھ کر اسے بیٹھ جانے کا اشارہ کیا۔ پھر جب اس کی نظر دوبارہ اس کی عرق آلود پیشانی پر پڑی ، تو اس نے اپنی کمر سے رومال کھولا اور اس کی پیشانی کا پسینہ پونچھ ڈالا۔ جب وہ پسینہ پونچھ رہا تھا تو اس کی آنکھوں میں باپ کی سی شفقت اور ہاتھوں میں بھائی کی سی محبت کام کر رہی تھی۔
صورتحال کے یہ تمام تغیرات اس تیزی سے ظہور میں آئے کہ ابن سباط کا دماغ مختل ہو کر رہ گیا۔ وہ کچھ سمجھ نہ سکا کہ معاملہ کیا ہے ؟ ایک مدہوش اور بے ارادہ آدمی کی طرح اس نے اجنبی کے اشارہ کی تعمیل کی اور چٹائی پر بیٹھ گیا۔ اب اس نے دیکھا کہ واقعی اجنبی نے کام شروع کر دیا ہے۔ اس نے پہلے وہ گٹھڑی کھولی جو ابن سباط نے باندھنی چاہی تھی۔ مگر نہیں بندھ سکی تھی۔پھر دو تھان کھول کر بچھا دیے اور جس قدر بھی تھان مو جود تھی۔ ان سب کو دو حصوں میں منقسم کر دیا۔ ایک حصہ میں زیادہ تھے۔ایک میں کم۔ پھر دونوں کی الگ الگ دو گٹھڑیاں باندھ لیں۔ یہ تمام کام اس نے اس اطمینان اور سکون کے ساتھ کیا ، گو یا اس میں اس کے لیے کوئی انوکھی بات نہ تھی۔
پھر اچانک اسے کوئی خیال آیا۔ اس نے اپنا عبا اتار ڈالی اور اسے بھی گٹھڑی کے اندر رکھ دیا۔ اب وہ اٹھا اور ابن سباط کے قریب گیا۔
” میرے دوست ! تمہارے چہرے سے معلوم ہو تا ہے کہ تم صرف تھکے ہوئے نہیں ہو بلکہ بھوکے بھی ہو۔بہتر ہو گا کہ چلنے سے پہلے دودھ کا ایک پیالہ پی لو۔اگر تم چند لمحے انتظار کر سکو تو میں دودھ لے آؤں ” اس نے کہا۔ جبکہ اس کے پُر شکوہ چہر ہ پر بد ستور مسکراہٹ کی دلآویزی موجود تھی۔ممکن نہ تھا کہ اس کی مسکراہٹ سے انسانی قلب کے تمام اضطراب محو نہ ہو جائیں۔
قبل ازیں اس کے کہ ابن سباط جواب دے ، وہ تیزی کے ساتھ لوٹا اور باہر نکل گیا۔
اب ابن سباط تنہا تھا۔ لیکن تنہا ہو نے پر بھی اس کے قدموں میں حرکت نہ ہو ئی۔اجنبی کے طرز عمل میں کوئی بات ایسی نہ تھی ، جس سے اس کے اندر خوف پیدا ہو تا۔وہ صرف متحیر و مبہوت تھا۔
اجنبی کی ہستی اور اس کا طور طریقہ ایسا عجیب و غریب تھا کہ جب تک وہ موجود رہا۔ ابن سباط کو تحیر و تاثیر نے سوچنے سمجھنے کی مہلت ہی نہ دی۔
اجنبی کی شخصیت کی تاثیر سے اس کی دماغی شخصیت مغلوب ہو گئی تھی۔لیکن اب وہ تنہا ہو ا تو آہستہ آہستہ اس کا دماغ اپنی اصلی حالت پر واپس آنے لگا۔یہاں تک کہ تمام خصائل پوری طرح ابھر آئے اور وہ اسی روشنی میں معاملات کو دیکھنے لگا جس روشنی میں دیکھنے کا ہمیشہ سے عادی تھا۔
وہ اجنبی کا متبسم چہرہ اور دلنواز صدائیں یاد کرتا تو ، شک اور خوف کی جگہ اس کے اندر ایک ناقابل فہم جذبہ پیدا ہو جاتا ، جو آج تک اسے کبھی محسوس نہیں ہوا تھا۔لیکن پھر جب وہ سوچتا کہ اس تمام معاملہ کا مطلب کیا ہے ؟ اور یہ شخص کون ہے ؟ تو اس کی عقل حیران رہ جاتی اور کوئی بات سمجھ میں نہ آتی۔ اس نے اپنے دل میں کہا ” یہ تو قطعی ہے کہ یہ شخص اس مکان کا مالک نہیں ہے مکان کے مالک کبھی چوروں کا اس طرح استقبال نہیں کیا کرتے …… مگر یہ شخص ہے کون ؟
اچانک ایک نیا خیال اس کے اندر پیدا ہوا۔ وہ ہنسا ” استغفراللہ ” میں بھی کیا احمق ہوں۔ یہ بھی کوئی سوچنے کی اور حیران ہونے کی بات تھی ؟ معاملہ بالکل صاف ہے۔ تعجب ہے مجھے پہلے کیوں خیال نہیں ہو ا ؟ یقیناً یہ بھی کوئی میرا ہی ہم پیشہ آدمی ہے اور اسی طرح نواح میں رہتا ہے۔ اتفاقات نے آج ہم دونوں چوروں کو ایک ہی مکان میں جمع کر دیا۔ چونکہ یہ اسی نواح کا آدمی ہے اس لیے اس مکان کے تمام حالات سے واقف ہو گا۔اسے معلوم ہو گا کہ آج مکان رہنے والوں سے خالی ہے اور یہ اطمینان سے کام کرنے کا موقع ہے۔اس لیے وہ روشنی کا سامان ساتھ لے کر آیا۔لیکن جب دیکھا کہ میں پہلے سے پہنچا ہوا ہوں تو آمادہ ہو گیا کہ میرا ساتھ دے کر ایک حصہ کا حق دار بن جائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s