زندگی اور اسباب کا تعلق سمجھاتی مختار مسعود کی تحریر .عماد بزدار کا” سفر نصیب “سے فکر افروز انتخاب

ہوائی جہاز نے دوسری طرف جھک کر تربیلا کا چکر لگایا تصویر کا نیا رخ سامنے آیا – پہاڑوں کی بلندیوں سے اُترا ہوا برف کا پانی اتنی دُور آ کر اس جھیل میں جمع ہو رہا ہے- یہاں سے وہ ایک اور طویل سفر پر روانہ ہو جائے گا جھیل ان دنوں پایاب ہے – کل یہ بھر جائے گی- پھر رابطہ نہروں کے باریک بُنے ہوے جال اور زیرِ زمین آبی ذخیروں کے پیچیدہ نظام کی بدولت اس جھیل کا پانی دُور دراز کے علاقوں کو سیراب کرے گا – وہاں نئی فصلیں اور نئی نسلیں پیدا ہونگی – فرد اور معاشرہ دونوں بدل جائیں گے خانہ بدوش کاندھے سے گھر اُتار کر زمین پر رکھ دے گا- سادگی کی جگہ پرکاری لے گی – مویشیوں کی جگہ مشینیں نظر آئیں گی – کیچڑ نچوڑ کر پینے والے گھات گھات کے مشروبات پیئں گے- اُلٹی کھال کی دیسی جوتی کی نسل در نسل کُھلی رہنے والی دکان بند ہو جائے گی- درِ فتنہ باز ہوگا، عداوتیں اور عدالتیں بڑھ جائیں گی خشک زمین ستر پوش ہو گی، انسان خوشحال ہو کر عریاں ہو گا – اسباب و انجام کا نظام آبپاشی کے نظام سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے – فرد ، معا شرہ اور ملک کٹھ پتلی کی طرح اسباب کے دھاگوں سے بندھے ہوئے ہیں – کچھ دھاگے اتنے باریک ہیں کہ نظر نہیں آتے، کچھ اتنے گنجلک ہیں کہ دُوسرا سِرا نہیں ملتا

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s