صوفیا نے اسلام کو مقبول اور مولوی نے اسلام کو مطعون کیا .سید سبط حسن کی کتاب “پاکستان میں تہذیب کا ارتقا ” سے عماد بزدار اقتباس

مذہب کو ریاست سے دور رکھنے میں علاؤالدین خلجی (1296ء-1316ء) بلبن پر بھی سبقت لے گیا۔ وہ مذہبی عالموں اور قاضیوں کے بارے میں کہا کرتا تھا کہ ان میں رموزِ مملکت کی بالکل سمجھ نہیں۔ سلطنت کیلئے قواعد و ضوابط بنانا بادشاہ کا کام ہے۔ شرع اور اہلِ شرع کو اس سے کوئ تعلق نہیں ہونا چاہئے۔ اس عہد کے مولویوں کی ذہنیت کا اندازہ علاؤالدین خلجی اور قاضی مغیث الدین بیانوی کی گفتگو سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک بار بادشاہ نے قاضی صاحب سے پوچھا کہ ہندوؤں کے ساتھ ہمارا سلوک کیسا ہونا چاہئے۔ قاضی صاحب نے جواب دیا کہ اگر سرکاری ملازم کسی ہندو سے چاندی طلب کرے تو اس کا فرض ہو کہ پوری عاجزی اور تعظیم کے ساتھ سونا پیش کرے اور اگر سرکاری ملازم اس کے منہ میں تھوکے تو وہ بغیر کراہت اپنا منہ کھول دے۔ بادشاہ کو چاہئے کہ ہندوؤں کے مال اسباب پر قبضہ کر لے اور ان کو غلام بنا لے۔
اگر سلاطینِ دہلی مولویوں کے کہنے پر چلتے تو انکی سلطنت 333 برس کیا 333 دن بھی سلامت نہ رہتی کیونکہ جابر سے جابر بادشاہ بھی اپنی رعایا کے منہ میں تھوک کر زیادہ دن حکومت نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ ہندوؤں کی صلاحیتوں سے کام لئے بغیر ملک کا نظم و نسق چل بھی نہیں سکتا تھا۔ کاشتکاروں سے لگان کون وصول کرتا۔ فصلوں کا تخمینہ کون لگاتا۔مال گزاری کا حساب کتاب کون رکھتا؟ غرض کہ بیسیوں کام ایسے تھے کہ جن کیلئے مقامی باشندوں کا تعاون ناگزیر تھا۔
نفرت اور انسان دشمنی کے ان بتوں کا موازنہ صوفیاء کے حسنِ اخلاق و محبت سے کرو تو پتہ چلتا ہے کہ صوفیاء نے اسلام کو مقبول بنانے اور مولویوں نے اسلام کو مطعون کرنے میں کیسی کیسی گراں بہار خدمات سر انجام دی ہیں۔

(پاکستان میں تہذیب کا ارتقاء)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s