معروف کالم نگار ہارون الرشید کے کالم کی پیروڈی ، ایک فرضی کالم. تحریر ثاقب ملک

الله کی کتاب کہتی ہے جو جیا دلیل سے جیا اور جو ہلاک ہوا دلیل سے ہلاک ہوا .
راہ چلتے وہ ملا .اجلا سراپا ،پر نور چہرہ سوچا کہ بس کمی تو صرف فوجی وردی کی ہے .پوچھا کون ہیں ؟ کیوں آئے ہیں ؟ جواب ندارد . اپنی افتاد میں چل نکلا .اس فسوں خیز حکمران صلاح الدین ایوبی کی طرح جسے بستر مرگ پر عیسائی عورت کی مدد کا بھوت سوار تھا .الله کی پناہ ایسے ایسے اجلے لوگ .یہاں حکومت میں وزیر اطلاعات ایسے لوگ رکھ چھوڑے ہیں کہ انہیں کوئی اپنا منشی نہ رکھے .وہی وزیر جو قائد کا نام لینا بھی گوارا نہیں کرتا .کپتان سے کہا تو اس نے سن کر نہ دیا .کپتان اکھڑ مزاج کا ہے .گاہے چائے کا بھی نہیں پوچھتا .بسکٹ تو نا ممکن .اک بار میرا دل چاہا اور خود ہی چائے بنا لی .کپتان شادمان ہوا اسکے لانبے چہرے پر بچوں سی معصومیت در آئی .دل میں کوندا لپکا اے کاش کہ فوج میں چلا گیا ہوتا ؟
پھر وہی محفل .ایسے ایسے چہرے کہ نہ پوچھو .ایک سے بڑھ بڑھ کر ایک جہاندیدہ اور عارف سر جھکائے اسی لافانی اعتماد اور اجلے چہرے کے ساتھ بلا تکان بولے چلا جا رہا ہے .ایک دن تو پوچھا بیٹھا ..کچھ اپنا بھی خیال کر لیا کریں .ڈھیٹ ہوں انکی عنایات ہیں ورنہ یہ گنوار کہاں اور کہاں ایسا استاد .ایک دن میرا دوست مجھے گھسیٹ لے چلا بولا ایک بندا ہے بہت پڑھا لکھا گوجر خان میں رہتا ہے .میں نے ہاں کر کے نہ دی .بہت دیکھے پڑھے لکھے .مگر پھر ایک دن اجلی چاندنی پر اکے سامنے بیٹھا تو ابھی تلک بیٹھا ہوں کہ اب گوجر خان تو ہر دوسرے تیسرے دن آنا ہوتا ہے .وہی چھوٹا سا تاریک سا کمرہ ،وہی استاد ،تسبیح رولتا ،ایک دن بولے ..ہارون .بہت متلون ہو .میں نے سامنے رکھا میز پر ہاتھ جڑا کہ مجبور ہوں سالن کی کتیلی ساتھ بیٹھے شاگرد کے منہ پر جا گری ،مجال ہے پیشانی پر کوئی شکن آئی ہو .دروازے عارف کے ہر وقت کھلے .سر جھکائے جو الله کے بندوں کی خدمت میں لگا ہے .برق سی لپکی کہ کہ کون سا رینک ہو گا ؟پھر ذہن کو دلاسا دیا کہ ہر انسان کے نصیب میں وردی نہیں ہے .haroon 2
لوٹ کھایا .ملک لوٹ کھایا .نواز شریفوں نے زرداریوں نے ..کب تلک ؟ اب وہ نیک طینت عمران جس کے بال اسکے نوکر کی ایک دوائی سے دوبارہ اگ آئے .اسکو کب چانس ملے گا ؟ وہ نوکر جو دوائی سیف الله نیازی اور صداقت عباسی کو دے گیا .جنہوں نے پارٹی تباہ کر ڈالی .خان کو کہا مگر سادہ اطوار نہ سمجھا مردم شناس نہیں ہے کسی نے آوارہ کتا اعلی نسل کا بنا کر دے دیا تو خوشی خوشی مجھے بتلایا .ایسا سادہ کو قوم موقع نہیں دیتی ؟ایک دن عارف سےپوچھ بیٹھا .تسبیح کے دانوں سے سر اٹھایا تو بولے جب وقت اے گا کامیاب ہو جائے گا .دل شاد ہوا .طمانیت بھر گئی .سوچا ابھی اٹھ کر لڈی ڈال دوں مگر ہائے صحت کہ اب ایسا جیسا نہیں ہوتا .سرہانے سر رکھا تو دیکھا کہ ایک گھوڑے پر سر پٹ دوڑے ایک سفید لبادے میں کوئی بھاگا آتا ہے .قریب آن کا معلوم ہوا کہ اجلی وردی پہن رکھی ہے .چہرے پر بشاشت پھیلی ہے گھوڑے کو پھرایڑ لگائی اور یہ جا وہ جا .آنکھ کھلی تو بستر پر پایا .پسینے سے شرابور . اس ہنگام .بے ساختہ پرویز رشید یاد آیا ایسا ایسا بے علم بھی دیکھنا تھا .العجبharoon 3
وہی چیختا چلاتا پست قامت صحافی جو پروفیسر کے پاس آیا تو عارف کے قدموں میں گر گیا اور پھر جب کام نکل گیا تو گستاخی کر گیا .افسوس لوگ اپنے ہاتھوں سے قبر کھود لیتے ہیں .برخوردار بلال الرشید کی گت کر رہا تھا کہ مژدہ آیا کہ سپہ سالار بلا بھیجتے ہیں .دیر کا یارا نہ تھا سو چل پڑا .اکیلے کمرے میں صابر کیانی کو دیکھا .چہرے پر وہی افسانوی سکوں ،مسلسل سگریٹ سلگا رہا ہے .سپہ سالار دن میں دس ڈبیاں ختم کر چکتا ہے تو مجھ سے بھی کہ بیٹھا کہ لے آئیں .،بہتیرا روکا کہ اے صابر انسان خود کو نہ ہلکان کیجیے .جواب ندارد فقط خاموشی .اندر جھانکتی نگاہیں .خوب وردی مگر کمانڈو وردی میں فوجی خوب جچتا ہے .اس جھوٹے پچھلے سپہ سالار کی طرح نہیں جو ایک فون کال پر ڈھیر ہو گیا .
الله کی کتاب کہتی ہے جو جیا دلیل پر جیا جو ہلاک ہوا دلیل پر ہلاک ہو ا
.اس تحریر کا مقصد صرف طنز و مزاح ہے .کسی کی تضحیک مقصود نہیں اور حتی المکان کوشش کی گئی ہے کہ کالم نگار کی تذلیل نہ ہو اور شائستہ مذاق ہو .پھر بھی کسی نا دانستہ غلطی پر پیشگی معذرت ہے.

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s