جاوید چوہدری کے کالم کی پیروڈی ،ایک فرضی کالم ،تحریر ثاقب ملک

ایک دن میں پورے آٹھ گھنٹے ،چار سو اسی منٹ اور تیس ہزار سیکنڈ سونے کے بعد صبح دس بجے اٹھا .اٹھنے کے بعد میں نے قہقہہ لگایا اور کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگا .ٹھنڈی فرحت بخش ہوا ،جیسے دیو سائی کے میدانوں سے آ رہی تھی .میں نے واپڈا کے کھمبے پر بیٹھا ایک کوا دیکھا .کوے نے میری طرف دیکھا ،قہقہہ لگایا اور اپنی ٹائیں ٹائیں کرتی زبان میں بولا “جاوید صبح لیٹ اٹھنے والے کبھی ترقی نہیں کر سکتے ” میں نے کوے کی یہ بات اپنی گرہ سے باندھ لی .وہ دن اور آج کا دن میں صبح چھ بجے اٹھ جاتا ہوں .ورزش کرتا ہوں نہاتا ہوں ،نماز پڑھتا ہوں .اس طرح میں میں پورا دن فریش رہتا ہوں .میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر گھر کے سامنے والے کھمبے پر ایک عدد کوے کا بندوبست کریں تاکہ لوگ اسکی نصیحت سن کر صبح جلدی اٹھ سکیں .اس طرح لوگ مطمئن رہیں گے اور ان میں رواداری اور برداشت بڑھے گی .

میں صبح اٹھنے کے بعد آئینہ بھی دیکھتا ہوں .میں آئینے میں عجیب عجیب شکلیں بنا کر ہنستا ہوں .ایک دن میں آئینہ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً میری ریڑھ کی ہڈی میں سردی کا احساس ہوا .ایسے لگا جیسے سیاچن گلیشیر کی برف میری پشت پر آن لگی ہو .میرے رگ و پے میں سرد لہر سی دوڑ گئی .میں نے اپنے آپ کو روس میں سائبیریا میں محسوس کیا .مجھے احساس ہوا کہ دوزخ ٹھنڈا بھی ہو سکتا ہے .اچانک پیچھے سے میرے ملازم کی آواز آئی ،اس نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ سر اب برف ہٹا لوں ؟ در اصل میں اپنی کمر کی ٹکور کے لئے صبح صبح یہ ٹھنڈی مالش کرواتا ہوں .میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر گھر میں ایک ایسے ملازم کا بندوبست کرے جو گھر کے ہر فرد کی پشت پر برف کے ٹکڑے سے ٹکور کرے .اس سے لوگوں میں برداشت بھی بڑھے گی .لوگ خوش بھی ہوں گے اور رواداری بھی بڑھے گی .یورپ کے اکثر ممالک میں لوگ صبح اسی طرح کرتے ہیں .اسی وجہ سے وہ ترقی کر گئے ہیں اور ہم پیچھے ہیں .ہم صبح اٹھ کر نہاریاں،سری پائے ،پراٹھے ، مکھن اور ملائیں کھاتے ہیں جب کہ وہ قومیں ،بریڈ کا ایک سلائس اور کافی سے کام چلاتی ہیں .ہم نے اگر ترقی کرنی ہے تو ناشتے کے انداز کو بدلنا ہو گا .میری حکومت سے گزارش ہے کہ پاکستان میں ناشتے پر پابندی لگا دے اس طرح لوگوں میں بھوک برداشت کرنے کی صلاحیت پیدا ہو گی ،رواداری بھی بڑھے گی .
میرے باتھ روم کی کہانی بھی دلچسپ ہے .اسکا سیمنٹ بالفورس کی ریت سے بنا ہے .ٹائلز اٹلی سے آئیں ہیں .صابن اور باڈی واش فرانس سے آئے ہیں .ٹب اسپین کے ہیں .ٹوٹیاں انگلینڈ کی ہیں ،پانی ہمالیہ کا ہے .یہ باتھ روم مجھے روادار بھی بناتا ہے اور میرے اندر برداشت بھی پیدا کرتا ہے .میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ ہر گھر میں ایسا باتھ روم بنا دے اس سے لوگ بری صحبت سے بچ جائیں گے ان میں رواداری بھی بڑھے گی اور برداشت بھی پیدا ہو گی .میں باتھ روم سے باہر نکلا میں نے قہقہہ لگایا اور خواجہ صاحب کے گھر پہنچ گیا .خواجہ صاحب ایک با کمال انسان ہیں .یہ دلوں کے بھید ٹھیک ،ڈھائی سیکنڈ میں جان لیتے ہیں .یہ اہل علم بھی ہیں اور اہل نظر بھی . میں نے خواجہ صاحب سے پوچھا کہ میں سکون حاصل کرنا چاہتا ہوں مجھے سکون کیسے ملے گا ؟ خواجہ صاحب اس وقت سگریٹ کے دھوئیں سے مرغولے بنا بنا کر دیکھ رہے تھے .انہوں نے میری طرف دیکھا قہقہہ لگایا اور کہا جاوید تم گٹر میں منہ ڈال کر عطر کی طرح کی خوشبو کی توقع کر رہے ہو ،تم منہ میں سٹرا ڈال کر سگریٹ پی رہے ہو،تم ہاتھی کے کانوں کو کبوتر کے پر سمجھ کر چوم رہے ہو ،تم اپنے منہ پر لوگوں کی تھوکیں مل کر شیو کر رہے ہو تمہیں ایسے سکوں نہیں ملے گا .میں نے قہقہہ لگایا اور پوچھا تو پھر میں کیا کروں ؟ خواجہ صاحب نے میری طرف دیکھا مسکرایے اور کہا تم اپنے ٹائٹ جوتے اتار پھنکو ،تم اپنی تنگ پینٹ بھی اتار پھینکو ،اب تم سخت گلے والی شرٹ اتار پھینکو ،اب تمہیں سکون مل جائے گا .میں نے خواجہ صاحب کی طرف دیکھا اور کہا لیکن اس طرح تو میں برہنہ ہو جاؤں گا ؟ نہیں خواجہ صاحب نے قہقہہ لگاتے ہوے کہا ،اس طرح تم نیچر سے قریب ہو جاؤ گے .اب تم باہر نکلو اوردنیا کا سامنا کرو .لیکن اس طرح تو بھونکتے کتے میرے پیچھے پڑ جائیں گے میں نے سوال داغا ،خواجہ صاحب نے سگریٹ کا کش لگایا ،پھر دوسرا کش لگایا ،پھر قہقہہ لگایا اور بولے جب تم بھونکتے کتوں کی بھونک برداشت کرنا سیکھ جاؤ گے تو تمہیں سکون مل جائے گا .میں اس دن سے اس نصیحت پر عمل پیرا ہوں .میری حکومت سے گزارش ہے کہ وہ لوگوں پر بھونکتے کتے چھڑوائے اس طرح لوگوں میں برداشت بھی پیدا ہو گی ،ان میں رواداری بھی بڑھے ،علم اور کلچر کا بھی فائدہ ہو گا .آخر ہم کب تک پکوڑوں پر شہد لگا کر کھاتے رہیں گے ؟ کب تک ہم ،پٹرول کی ربڑی بنا کر پیتے رہیں گے ؟ کب تک ہم اپنی مونچھوں سے دیواروں پر تصویریں بناتے رہیں گے ؟ ہمیں سکون حاصل کرنا ہو گا ورنہ فرعون کی لاش کی ممیوں کی طرح ہماری بھی ممیاں بن جائیں گئیں
.اس کالم کا مقصد صرف طنز ومزاح ہے .کسی کی تضحیک مقصود نہیں ہے .ہر ممکن کوشش کی گئی ہے کہ کوئی گھٹیا مذاق نہ کیا جائے .پھر بھی کسی نا دانستہ غلطی پر پیشگی معذرت قبول کریں

.

Advertisements

27 thoughts on “جاوید چوہدری کے کالم کی پیروڈی ،ایک فرضی کالم ،تحریر ثاقب ملک

  1. Pingback: جاوید چوہدری کا ایک فرضی کالم | Laaltain

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s