سفاک میڈیا نے تہمینہ کا اخلاقی اور معاشرتی قتل کیا .عائشہ نور کی تحریر

کل صبح جب میں آفس پہنچی توکرائم رپورٹر کا فون آیا کہ ایک لڑکی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کرکے تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا گیا ہے۔۔۔۔ چینلز نے اس خبر کو مرچ مصالحہ لگا کر ہاتھوں ہاتھ لیا۔۔۔۔ بریکنگ نیوز کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔۔۔۔۔۔ اصل صورتحال کیا تھی۔۔۔ کسی نے بھی یہ جاننے کی کوشش نہ کی۔۔۔ کہا جاتا رہا کہ تہمینہ نامی لڑکی گھر سے بھاگ کر ffb caseآئی۔ اور مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد قتل کر دی گئی۔ پہلے پہل تومجھے بھی لگا کہ شائد یہ کسی ایسی محبت کی کہانی ہے جو ماں باپ کے انکار کے بعد بغاوت کا روپ دھار لیتی ہے۔۔ اور جس نے ایک اور گھر برباد کر دیا ہے۔۔ آدھا دن گزرا تو پتہ چلا کہ وہ تو ایک پڑھی لکھی اور انتہائی حساس دل رکھنے والی لڑکی تھی۔ خبروں میں اطلاعات تھیں کہ فیس بک کی دوستی نے یہ گل کھلایا ہے۔۔ جبکہ بعد میں پتہ چلا کہ یہ تو کہانی ہے حوا کی بیٹی پر ایک اور جبر کی۔۔۔۔ ہوس کی بھینٹ چڑھنے کی کہانی۔۔۔۔۔ تہمینہ کوثر کے ساتھ میڈیا نے بنا سوچے سمجھے۔۔۔۔ بنا جانے پرکھے جو کیا سو تو کیا۔۔۔۔۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کے گھر والوں اور رشتہ داروں نے اس کے جنازے کو کندھا بھی نہ دیا۔۔۔۔ باپ نے میت کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔۔۔۔۔ بھائی نے کندھا نہ دیا۔۔۔۔ اکلوتی بیٹی کو ماں نے رخصت بھی کیا تو کیسے!۔۔۔ کن حالات میں۔۔۔۔۔ رہی سہی کسر گاؤں والوں نے مل کر پوری کردی۔۔۔۔ گاؤں کے مقامی قبرستان میں تہمینہ کو دو گززمین دینے سے بھی انکار کر دیا گیا۔۔۔۔۔ اور اسے مجبورا گاؤں کے باہر جنگل میں دفنانا پڑا۔۔۔۔ کیا ہم انسان ہیں۔۔۔۔ یا ہم انسان کہلانے کے بھی قابل ہیں۔۔۔۔ یہ سوچنا بھی محال ہے۔۔۔ صرف میڈیا کے چیخنے چلانے پرباپ نے اپنی بیٹی۔۔۔ بھائیوں نے اپنی بہن سے منہ موڑ لیا۔۔۔۔۔ تہمینہ کے گھروالوں کا روئیہ بھی قابل مذمت ہے۔۔۔ جنہوں نے اپنی بیٹی کو دی گئی تربیت کی بجائے میڈیا اور لوگوں کی بے سروپا کی باتوں پر یقین کرلیا۔۔۔۔۔ الیکٹرانک میڈیا پر بند باندھنا تو آسان نہیں ہے۔۔۔۔ لیکن انہیں اخلاقیات سکھانا بہت ضروری ہے۔۔۔۔ سب سے پہلے کی دوڑ میں ایک پڑھی لکھی اورحساس لڑکی کے کردار کی دھجیاں بکھیردی گئیں۔۔۔۔ کل کے اس واقعے نے مجھے جذباتی طور پر بہت صمہ پہنچایا ہے۔۔۔۔ میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ قصور کس کا تھا۔۔۔۔ تہمینہ کا؟۔۔۔۔ اس کے والدین کا؟۔۔۔۔ ہمارے معاشرے کی بے حسی کا؟۔۔۔۔ یا پھرہمارے تعلیمی اداروں کا؟۔۔۔۔۔
میں آج یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ کیا کل کوئی اور تہمینہ بھی کسی کی ہوس کی بھینٹ چڑھے گی اور اس کوبھی بدکردار قرار دے کر اس کے ساتھ بھی ہم ایسا ہی غیرانسانی سلوک کریں گے۔۔۔۔۔
میں یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ اگرعمیر گناہگار ثابت ہوبھی گیا تو تہمینہ سے معافی کون کون اور کن الفاظ میں مانگے گا۔۔۔۔ تہمینہ اگرغلط بھی تھی توکیا اتنا غیرانسانی سلوک ہم نام نہاد انسانوں کو زیب دیتا ہے؟۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ہم سب کے گھروں میں بھی ایک تہمینہ ہے۔۔۔۔ تو کل اگر ہماری تہمینہ کے ساتھ یہ ہوتا ہے تو کیا ہم اس کے ساتھ بھی یہی سلوک کریں گے۔۔۔۔ جو ہم نے آج کیا۔۔۔۔ ؟؟ بنت آدم کے ساتھ انسان کے روپ میں درندوں کی یہ کوئی پہلی درندگی نہیں ہے۔۔۔۔۔ سوال تو بہت سارے ہیں۔۔۔ مگر افسوس ان کے جواب نہیں ہیں۔۔۔۔
قبریں ہی جانتی ہیں اس شہر میں
مرکر ہوئے دفن یا زندہ گڑے ہیں لوگ

Advertisements

2 thoughts on “سفاک میڈیا نے تہمینہ کا اخلاقی اور معاشرتی قتل کیا .عائشہ نور کی تحریر

  1. Allah muaf karay es media ney hamara jeena to azaab banaya he hamara marna be azaab bana diya hai hum kis se insaaf talab karain sab sey pehly breaking news chalany walon se ya behiss hakoomat se? raiting barhnay walon apni maan beti ka be socho un ky sath be aisa ho sakta.

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s