پیرس اور پشاور کے مظلوموں کے خون میں فرق کیوں ؟ ذیشان اعوان کی تحریر

دنیا میں اس وقت جتنی افسوسناک خبریں سامنے آرہی ہیں اس سے پہلے دنیا کبھی اتنی بدامن نہیں لگی، ایسا لگتا ہے ہر طرف صرف بم اور اسلحہ ہی رائج ہے انسانوں کا وجود تو مٹ ہی چکا ہے۔ پہلے یہ سب کمزور ممالک میں ہوتا تھا تو ان مسائل اور وجوہات پر اس طرح بحث بھی نہیں ہوتی تھی لیکن اب جب یہ باردو خوشبودار اور خوبصورت دنیا تک پہنچا ہے تو ہر طرف شور سا مچ گیا ہے۔۔ پہلے دہشتگردی کے واقعے پر اتنا کہہ کر سب چپ ہوجاتے تھے کہ ٹریننگ پاکستان سے لی تو یہاں ہم شرمندہ سے ہوجاتے اور پھر نئی خبر کے آنے کا انتظار شروع کر دیتے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ اس بحث کو اس سے آگے بڑھایا جائے کہ ان مسلح جھتوں کے پاس وسائل، اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟اپنے مفادات کی خاطر ان کی پشت پناہی کون کرتا ہے؟ ان کو متعارف کس نے کرایا؟ وغیرہ یہ سب سوال اس لیے پوچھنے پڑیں گے کہ اب گولی اور بم پشاور کے معصوم بچوں اور پیرس کے شہریوں کے درمیان فرق روا رکھنا چھوڑ چکی ہے۔


 اگر نائن الیوparisن کی طرح ایک بار پھر سب کچھ طاقت کے زعم میں ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟ کیا نائن الیوان سے پہلے بھی دنیا اتنی ہی غیر محفوظ تھی جتنی اب ہوگئی ہے؟ پہلے مغربی ممالک صرف سہولت کار ہوتے تھے، مفادات کاتحفظ ہوتا تھا مگر اب وہ باقی ممالک کے ساتھ نقصان میں بھی حصہ دار بننا شروع ہوگئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے میرے اور ان کے مسائل کو بالا طاق رکھ کر ہمارے مسائل سمجھا جائے اور پھر آگے بڑھنے کی بات کی جائے، کیونکہ اب ان دہشتگرد جھتوں کو طاقت کے روایتی استعمال سے شکست نہیں دی جاسکتی ورنہ فرانس داعش کے خلاف لڑائی میں ایک سال سے اتحادی ہے۔ برطانیہ کے دفاعی اخراجات میں 18 ارب روپے کے اضافے کا امکان ہے، فرانس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے اکٹھے ہوکر کارروائی کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ اوبامہ نے ملائیشیا میں کی جانے والی تقریر میں سابق صدر بش کا لک دینے کی کوشش کی ہے۔ تو ایسے میں ان ممالک کی ذمہ داری ہے اپنے ڈالروں کو دہشتگردوں تک پہنچانے میں کوئی نا کوئی کردار ادا کرنا بند کریں، چھوٹے ممالک کو اعتماد میں لیں اور ان کے ساتھ مل کر دنیا کو اپنے لیے بھی محفوظ بنائیں اور چھوٹے ممالک کے لوگوں کو بھی جینے دیں۔ مشرق وسطیٰ، افغانستان اور فلسطین جیسے مسائل کے حل کیلئے صرف امریکی تھنک ٹینکس پر ہی تکیہ کرنے کے بجائے ان علاقوں کے ماہرین کی بھی تھوڑی بہت سنی جائے۔۔ سب سے ڈو مور کا مطالبہ کرنے کے بجائے اپنے گربیانوں میں بھی جھانکا جائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s