پہلی عالمی جنگ اور ممکنہ تیسری عالمی جنگ میں کیا مشترک ہے ؟نیویارک ٹائمز کے کالم نگار روجر کوہین کے آرٹیکل “ورلڈ وار تھری” کی تلخیص .تحریر ذیشان اعوان

دنیا میں پہلی عالمی جنگ اور موجودہ صورتحال میں کیا مشترک ہے۔ امریکی کالم نگار روجر کوہین نے اپنے کا لم میں زبردست انداز میں بتا دیا۔
روجر کوہین نے نیو یارک ٹائمز میں ورلڈ وار تھری کے نام سے پہلی عالمی جنگ اور موجودہ حالات کو دلچسپ انداز میں ایک ماں اور بیٹے کے درمیان مکالمے کی شکل میں پیش کیا ہے۔ بچہ ماں سے سوال کرتا ہے پہلی عالمی جنگ کیسے شروع ہوئی تو ماں جواب دیتی ہے یہ غمگین کہانی ہے اور بتاتی ہے حکمرانی کر نے کیلئے کچھ لوگوں نے مہرے رکھے ہوئے جنہوں نے خود حکمرانی کا خواب دیکھنا شروع کر دیا۔ان میں سے ایک آسٹریا۔ ہنگری تھے جن کی پشت پرجرمنی تھااور دوسرا سربیا تھا جس کے ساتھ روس تھا۔ پھر جرمنی نے روس کیخلاف جنگ کی شروع کی جسے فرانس اور بلیجئم تک بڑھا دیا۔
بچہ معصومیت سے کہتا ہے اتنی بڑی بات تو نہیں تھی اور ماں کہتی ہے چھوٹی چھوٹی باتیں کبھی کبھار بہت بڑی وجہ بن جاتی ہیں اور بتاتی ہے کہ اس چھوٹی سی بات کی وجہ سے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ لوگ مرے اور آسٹریا۔ ہنگری، خلافت عثمانیہ ، جرمنی اور روس ٹوٹ گئے۔
بچہ پھر آج کے تناظر میں شام کے حوالے سے پوچھتا ہے تو ماں کہتی ہے یہ خلافت عثمانیہ سے برآمد ہونے والا ایک کمزور سا ملک ہے ، جہاں ایک آمر کی حکومت ہے جو اپنے لوگوں پر ظلم کرنے کا عادی ہے۔ اب کچھ لوگوں نے اس کیخلاف بغاوت کا اعلان کر دیا ہے اور آمر کی مخالفت میں امریکہ ، برطانیہ اور فرانس نے امداد شروع کر رکھی ہے۔ ترکی وہاں بسنے والے کردوں سے نفرت کی وجہ سے روس کا جہاز گراچکا ہے جس پر روس سخت غصے میں ہے۔ سعودی عرب ایران دشمنی کے باعث جنگ میں کودا ہوا ہے جس سے شدت سے لڑی جاری ہے جس میں اب تک ہزاروں لوگ مر چکے ہیں۔
بچہ حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ یہ سب صرف ایک شخص کو ہٹانے کیلئے کیا جا رہا ہے تو ماں بے بسی سے جواب دیتی ہے کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی چیزیں بہت بڑی بن جاتی ہیں اور وہ سارے ماحول کو خراب کر دیتی ہیں ۔ پھر بچہ ماں سے سوال کرتا ہے دنیا کی تیسری عالمی جنگ کیسی ہوگی تو ماں خود کو تسلی دیتے ہوئے بچے کو کہتی ہے کہ نہیں اب سب مختلف ہے، اب دنیا میں آزادی اور خوشیاں ہیں .
ذیشان اعوان ماسٹرز کر چکے ہیں اور ایم فل کرنے کے ساتھ ساتھ کیپٹل ٹی وی سے وابستہ ہیں .ماضی میں اے ٹی وی سے منسلک رہے .فیس بک اور ٹویٹر پر متحرک ہیں

blog images 2

Zeeshan Awan

https://www.facebook.com/muhammad.zeeshanawan.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s