محبت کی شادی کیسے ناکام ہوتی ہے ؟کامیابی کیسے ممکن ہے ؟ بانو قدسیہ کی کتاب”راہ رواں ” سے عماد بزدار کا انتخاب

ہمارے بابا جی نور والے کہا کرتے تھے کہ جس درجے کی توفیق نہ ہو اس کا اعلان نہیں کرنا چاہیئے۔یہ بات تو عمر کے آخری حصے میں سمجھ آئی لیکن اُس وقت خان صاحب کو خط لکھ کر ،خط پا کر ایسا سرور ملتا تھا کہ اس شغل سے چھٹکارا ممکن نہ تھا۔
محبت کا دماغ میں وہیں وقوف ہے جہاں عادت ،نشہ،اکساہٹ اور لذت کا مقام ہے۔سگریٹ،ہیروئن، چرس،بھنگ افیون ،یہ سارے شوق ھل من مزید کا نعرہ لگاتے ہیں۔ کچھ ایسی کیفیت محبت کی بھی ہے۔۔۔۔ یہ آخری بار مل لوں ۔۔۔۔ آخری بار دیکھ لوں۔۔۔بس یہی آخری لمس ہو گا۔غالبا جنس اور محبت دو علیحدہ دماغی حصوں میں بسرام کرتے ہیں۔ محبت تسلسل کی آرزومند ہے جبکہ سیکس اُبال کی شکل میں گھیرا ڈالتی ہے۔۔۔ محبت کا متلاشی کبھی کبھی جان سے گزر جانے کو بھی کھیل سمجھتا ہے۔مشکل تب پیش آتی ہے جب محبت میں اعتراف کی گانٹھ دونوں رسیوں میں مضبوط ہو جاتی ہے۔
اب اس محبت کو دائمی بنانے کی الجھن شادی کا کہا اور ان کہا وعدہ بن جاتی ہے۔۔۔ روزِ ازل سے مرد اور عورت جب کبھی محبت کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں،انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ سفر جو انہیں ایک دوسرے سے Commit کر رہا ہے ،لمبا بھی ہے اور پر خطر بھی۔اس میں وعدے کا پاس بسا اوقات گلے کا پھندہ بن جاتا ہے۔جس طرح کبھی کبھی منشیات بڑی قیمت وصول کرتی ہیں،ایسے ہی محبت اور شادی پر منتج ہونے والی محبت ایک بہت بڑا چیلنج بن کر زندگی میں داخل ہوتی ہے۔۔۔۔Bano-Qudsia.jpg
جس درجے کی توفیق نہ ہو اُس کا اعلان کر چکنے کے بعد آدمی کو یہ سمجھ نہیں آتا کہ روز مرہ زندگی میں نشہ آور سرور کہاں گم ہو گیا؟ وہ ربطِ باہمی کس مقام پر کیوں اور کیسے Clash میں بدل گیا۔۔۔انسان چونکہ فطرتا آزاد ہے ۔اس شادی کے بندھن میں جو سب سے بڑا چیلنج اُسے پیش آتا ہے وہ یہی Free Will کی آزادی ہے۔
شادی کے بعد اپنا ارادہ ،ذات اور فیصلے کسی کی خاطر ارپن کر کے مسرت محسوس کرنا ہر ایک آدمی کے بس کی بات نہیں ۔اللہ بھی کسی شخص کو اُس وقت تک ہدایت نہیں دیتا جب تک انسان اپنی خوشی یا فیصلے سے اللہ سے ہدایت طلب نہ کرے ۔شادی میں بھی مکمل سرور اسی وقت ملتا ہے جب اپنے فیصلے سے اپنی قوتِ ارادی کو ساتھی کی خواہش پر قربان کرنے کا شوق،ولولہ اور جوش نہ ہو۔
جس قدر بڑی کمٹمنٹ ہو اگر اعلان بھی اتنا ہی بلند بانگ ہو جائے گا تو اسی تناسب سے اپنی فری ول بھی چھوڑنا ہو گی۔پھر رشتہ محمود و ایاز کا بن جائے گا،عاشق و معشوق کا نہ رہے گا۔پھر نمرود کی آگ میں کود بھی جایئں تو آگ جلا نہ سکے گی،لیکن عام طور پر محبت اور نشے کی اولین حالت میں انسان نہ ذمہ داری کو سمجھتا ہے،نہ دور اندیشی ہی سے اس کا تعلق ہوتا ہے۔
اس لیئے محبت کی شادیاں عموما Disillusionment پر ختم ہوتی ہیں اور ساتھی توقعات لگانے کے بعد اپنا اپنا خیمہ اکھاڑ کر یا تو طلاق کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں یا پھرExtra- Marital تعلقات میں پناہ لیتے ہیں۔یہ تعلقات خلع یا طلاق کسی طور بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتے کہ غلطی تو انسان کی اپنی شخصٰت ،اس کے اپنے مرکز میں ہوتی ہے۔وہ کسی صورت بھی اپنا ارادہ،فیصلہ، تجویز چھوڑنے کے لیئے تیار نہیں ہوتا۔۔۔۔
دوئی ہوتے ہوئے یکجائی پر اصرار کیوں؟؟یہ کتاب اس امید پر چھاپ رہی ہوں کہ آج کل کے تیز رفتار،جلد اکتا جانے والے،ہمہ وقت تبدیلی کے آرزو مند ،سوچ سمجھ کر اس دریا میں قدم ڈالیں۔ہو سکتا ہے کہیں کہیں پانی گہرا ہو اور آپ کو تیرنا بھی نہ آتا ہو۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s