ڈرامہ “وارث” کے چودھری حشمت کا باچا خان،آزاد اور گاندھی پر ایک فرضی کالم .تحریر ثاقب ملک

اوہ فیس بک کے پترو اوہ تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا ہے ؟ مجھے لگتا ہے تمہیں شہر کی ہوا لگ گئی ہے .کیا باتیں کرتے ہو ؟ اگر مگر تو مجھے زہر لگتا ہے .پتر یعقوب جس جملے میں اگر یا مگر آ جائے وہ کبھی کام ہو ہی نہیں ہو سکتا .یہ شہر کے لوگوں کے جملے ہیں ،اگر یہ مگر وہ ..یار یہ میں کیا سن رہا ہوں کہ مولانا آزاد اور باچا خان کو کچھ لوگ واڈا لیڈر کہہ رہے ہیں اور کچھ لوگ انہیں اچھا نہیں سمجھتے .پتر دلاور ایک بات کان کھول کر سن لے دنیا میں لیڈر وہی بڑا ہے جو کامیاب ہوا ہو .ناکام کو کوئی نہیں پوچھتا بس لوگ چمٹے رهتے ہیں جو خود شکست خوردہ ہیں .کامیابی پتر ،اخلاقی ہو یا سیاسی ،کامیابی ہوتی ہے . جس بندے پر کوئی دشمن بھی انگلی نہ اٹھا سکے میں تو صرف اسے کامیاب مانتا ہوں .کیوں ماسٹر ؟ تو بتا .اوہ یار دلاور تو تو بڑا جی دار بندا ہے ،یعقوب کو تو شہر کی ہوا لگ گئی ہے کوئی کام نہیں ہوتا کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی اسکو .اوہ یار تو مجھ کو بتا ،میں چوھدری حشمت ،کسی سے تھپڑ کھا کر اسے معاف کروں گا ؟ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا .اوے یہ عدم تشدد کی فلسفے والی باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں .ماسٹر تو بتا یہ کیسے لوگ ہوں گے جن کے منہ پر گندی مکھی بیٹھ جائے اور وہ اسکو نہیں ماریں گے ؟ جن کو کوئی ذلیل کر کے پٹائی کرے ،ان پر ظلم کرے اور وہ عدم تشدد کا پرچار کریں ؟ میری تو سمجھ میں یہ بات نہیں آتی .

ماسٹر تو تو بڑا اسلامی ہے تجھے تو پتا ہو گا کہ اسلام میں جان کے بدلے جان ،کان کے بدلے کان اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ ہے .جب ہمارا دین یہ کہتا ہے تو یہ لوگ کیسے فلسفوں پر دماغ لڑا رہے ہیں ؟پتر جس طرح کتے کی نسل کا پتا چل جاتا ہے انسان کی نسل بھی پتا چل جاتی ہے میں تو اپنے پرکھوں کے کمی کمین بھی نہیں بھولتا اوے انکو بھی کھانا پانی دیتے ہیں یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنی دھرتی چھوڑ کر کسی اور ملک جا کر دفن ہوتے ہیں ؟،جس کا خون نر خون ہو وہ پتر کسی کو اپنے آگے ہلنے نہیں دیتا .یہ آزاد ،کون ہے؟ ماسٹر تو تو پڑھا لکھا ہے تجھے تو معلوم ہو گا میرے دادا جی بھی الله ایمان دے اس بندےکی باتیں کرتے تھے کہ بہت ہی سونی کتاب لکھتا تھا .مگر ماسٹر اوے جب یہ ملک بن رہا تھا تو یہ بندا آزاد کس کا غلام تھا ؟ اوے اس نے اگر مگر کر کے پاکستان اور ہمارے بابے کا ساتھ نہیں دیا ایسے بندے کو میں کیوں معاف کروں ؟ پوری قوم ایک طرف اور یہ آزاد ایک طرف اوے شہری لوگوں کا کوئی دین ایمان نہیں ہوتا .یہ تو جدھر طاقت دیکھتے ہیں اسکے ساتھ لگ جاتے ہیں .پتر دلاور تو ،تو بڑا جی دار جوان ہے .تجھ کو تو پتا ہے کہ بندے کی ایک زبان ہوتی ہے اوے مجھ کو تو اپنا بابا نر لگتا تھا ایک بات کر دیتا تو دنیا ادھر سے ادھر ہو جاتی وہ نہ ہلتا تھا .اوے میں تو ایسے بندے کو مانتا ہوں مجھے یہ اگر مگر والے سمجھ نہیں آتے .
انور پتر تو سن رہا ہے نہ ؟ اوے ماسٹر یہ گاندھی کو تو میں بڑا اچھا بندا سمجھتا تھا .یار لوگ اب نیے زمانے میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں .مجھ کو تو اتنا پتا ہے ماسٹر کہ جو بندا اچھے کپڑے نہ پہن سکے ،نہا دھو نہ سکے ،جو اپنے خاندان کو نہ سنبھال سکے اسکو کیا بڑا آدمی مانوں ؟ یہ تو میرے دل کو بات لگتی ہے کہ گاندھی بندا اپنے مزاج کا تھا اوے اسکی بڑی اچھی اچھی باتیں بھی ہیں .کسی قوم کے بزرگ کو برا بھلا تو ویسے بھی نہیں کہنا چاہئے . بس اتنا بہت ہے کہ انسان کی ایک زبان ہوتی ہے ،بندے کی نسل اسکی زبان سے پتا چل جاتی ہے .میں تو پر اپنے نر بندوں کو جی دار مانتا ہوں .پتر یعقوب تجھے شہر کی ہوا ایسی لگی ہے کہ تو تو شہر سے ایک کتا پکڑ نہیں سکتا تجھے ان باتوں کی سمجھ کیا آئے گی یہ باتیں جوان دلاور اور انور پتر کے مغز میں بیٹھیں گئیں اوے دونوں جوان ہیں میرے .


چودھری حشمت پی ٹی وی کے مشہور ترین ڈرامہ سیریل “وارث” کا مرکزی کردار تھا .یہ کردار محبوب عالم نے ادا کیا تھا .یہ ڈرامہ امجد اسلام امجد کا تحریر کردہ تھا

.

Advertisements

2 thoughts on “ڈرامہ “وارث” کے چودھری حشمت کا باچا خان،آزاد اور گاندھی پر ایک فرضی کالم .تحریر ثاقب ملک

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s