“کلاسیکل کرائم فکشن ،اے ہومیج ” .ٹریبیون میں انور موراج کے اگاتھا کرسٹی پر لکھے کالم کا ترجمہ

میں ہمیشہ سے جاسوسی ادب کا دلدادہ رہا ہوں .گو کہ میں سر آرتھر کونن ڈائل ،ایرل بگرز ،ڈوروتھی سیرز ،چیسٹرٹن اور ڈیشل ہیمٹ کا بھی مداح رہا ہوں مگر میری ہمیشہ کی فیورٹ جو ہمیشہ فیورٹ رہیں گئیں ،وہ سب سے منفرد اگاتھا کرسٹی ہیں .انہوں نے 66 ناول اور چوالیس کہانیوں پر مشتمل کتابیں لکھیں جو کہ میں سب کی سب پڑھ چکا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ انکے تھیٹر ڈرامے بھی دیکھ چکا ہوں . مجموعی طور پرانکی کتابیں تقریباً دو ارب کی تعداد میں فروخت ہو چکی ہیں جو کہ بائبل اور ولیم شیکسپئر کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے .

مگر سب سے بڑھ کر انہوں نے جو کمال کیا وہ انکا با کمال اور معروف ترین کردار ہرکیول پوارو تھا ،ایک بیلجین جاسوس جو اپنی منفرد راکٹ مارکہ مونچھوں اور حد سے بڑھی انا کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے .یہ کردار پچپن سال تک ناولوں کی زینت بنتا رہا اور تینتیس ناولوں کا مرکزی کردار رہا . بھلا کس کو یاد نہیں ہو گا جب پوارو اپنے منفرد انداز میں ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر تمام کرداروں پر پہلے شک کرتا ہے اور آخر میں کسی ایک کو مجرم ثابت کر دیتا ہے .اپنے مخصوص لب و لہجے کی وجہ سے بھی اسکو بہت شہرت ملی .جب اس کردار کا خاتمہ ہوا تو امریکی روزنامے نیا یارک ٹائمز کے پہلے صفحے پر تعزیتی مضمون چھپا .
لٹریری تاریخ دان ہاورڈ ہیکرافٹ کا کہنا ہے کہ شاید ہی کوئی فکشنل جاسوسی کردار اس بیلجین جاسوس سے بہتر ہو گا . اپنی “ویکس زدہ” مونچھوں اور انڈے جیسے سر کے ساتھ اس کا جرم کی گتھیاں سلجھانا ،پھر اسکا پھولا ہوا اعتماد اور اسکا “گرے سیل” کا کام میں آنا ،اسکے انگلش زبان پر قاتلانے حملے اس کردار کی انفرادیت اور خصوصیات .تھیں .تاریخ دان کا کہنا ہے کہ یہ واحد جاسوسی کردار ہو گا جو لیدر کے چمکتے جاتے پہنا اور انگلش کاونٹی ہومز سے نفرت کرتا ہو گا .
کرسٹی نے چند اور بھی دلچسپ اور معروف کردار تخلیق کئے .ان میں سے ایک دادی نما مس مارپل تھیں .وہ جن کے ساتھ ہر کوئی چائے پینے کا خواہش مند تھا .مس مارپل مزے سے سویٹر بنتی رہتی تھیں اور اسی دوران ممکنہ مجرم کو پکڑنے کے لئے اپنے ثبوت اکٹھے کر لیتی تھیں .میر مارپل نے خوب صورت برٹش دیہات کی خوب منظرکشی کی .وہ لوگوں سے کرمپٹس ،سٹرابری جیمز،سکونز پر بات چیت کرتیں انکے گھریلوں مسائل سے اگاہ ہوتیں اور ممکنہ جرائم پر مبنی باتیں سنتیں .
پھر وہ انگلش پارکر پائن بھی تو تھا جس کو دیکھ کر نہ جانے کیوں اعتماد اور یقین کا احساس ہوتا تھا ،وہ ایک لمبا تڑنگا آدمی تھا مگر موٹا نہیں تھا .اسکا سر گنجا تھا ،آنکھوں پر عینکیں تھیں اور انکے پیچھے دو چمکتی آنکھیں .اسکے علاوہ برزفورڈ ،چارلسٹن اورسائٹرتھ ویٹ بھی اپنے اپنے انداز کے منفرد کردار تھے .
لیکن مجھے دو کرداروں نے بہت متاثر کیا .ان دونوں کو میں نے خوب انجوئے کیا .ایک تھا لارڈ پیٹر و مزی اور دوسرا تھا چارلی چین .ومزی تو ایک شوقیہ ڈیٹیکٹو تھا جو فرانس کی وائن پیتا تھا اور لا ابالی سا کردار تھا تاوقتیکہ کہ وہ اچانک ہی اپنی حیران کن صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے کیس حل کر دیتا تھا .چارلی چین ہونولولو میں پولیس میں ملازم تھا .وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی انگلش سے کام چلاتا تھا .اسکی مسکراہٹ بھی ہمیشہ اسکے چہرے پر رہتی تھی .امریکن اور انگلش ادب میں یہ شاید سب سے مثبت چائنیز کردار ہو گا .اب جاسوسی ادب ان تمام کرداروں کے بغیر ویسا نہیں رہا.http://tribune.com.pk/story/1000236/classical-crime-fiction-a-homage/

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s