جنگل میں بلدیاتی الیکشن کیسے ہوتے ہیں ؟ ایک فرضی کالم .تحریر ثاقب ملک

جنگل میں آج بہت گہما گہمی تھی .بلدیاتی الیکشن کا ماحول ہے اور انکی آمد آمد ہے . .جنگل میں جمہوریت کی بحالی کے بعد یہ پہلے بلدیاتی الیکشن تھے .تمام جانور اپنے اپنے دھڑوں اور برادری کی حمایت میں جنگل کے کونے کونے میں جلسے جلوس اور کارنر میٹنگز کر رہے تھے .جماعتی بنیادوں پر ہونے والے ان جنگلی بلدیاتی الیکشنز میں تین پارٹیاں جو جنگل کی بڑی پارٹیاں تصور کی جاتی ہیں وہ حکومت کے لئے جوڑ توڑ میں مصروف تھیں .حکمران “جنگلی درندہ لیگ” سب سے بڑی اور مرکزی الیکشن جیتی ہوئی پارٹی تھی .اسکا سربراہ ببر شیر گو کہ اکثر گھوڑے بیچ کر سویا ہی رہتا تھا .لیکن قسمت.کچھ عوامی حمایت ، جنگل کی اسٹیبلشمنٹ کے سفید ہاتھیوں ،جنگل کے تاجر لومڑیوں اور بیرونی جنگلات کے سربراہان کی سپورٹ کی بدولت ببر شیر کی حکومت چل رہی تھی . ببر شیر کا چھوٹابھائی چیتا جو دن کے چوبیس میں سے پچیس گھنٹے جاگتا رہتا ہے وہ اپنی جنگلی بیروکریسی کو بھی نہیں سونے دیتا اس نے جنگل میں منگل کا سماں پیدا کرنے کے لئے جنگل کے جانوروں اور خاص کر بندروں کی آمدو رفت کے لئے جنگل بس سروس شروع کروائی ہیں .مگر جنگل کے اکثر جانور غربت کا شکار ہیں .اس پر ان دونوں بھائیوں کی خاص توجہ نہیں ہے . دوسری سب سے بڑی پارٹی “جنگل قانون تحریک ” تھی اسکا سربراہ جنگل کا مشہور ترین اور تیز ترین باز تھا .باز ،جس تیز رفتاری سے اوپر آیا تھا اسی تیزی سے نیچے کی جانب جا رہا ہے .اسکی وجہ یہ ہے کہ پہلے پہل اسکے ساتھ نوجوان شاہین،کبوتر ،فاختہ وغیرہ تھے مگر بعد میں بڑے جانوروں کا مقابلہ کرنے کے لئے اس نے بوڑھے تجربہ کار اور بڑے بڑے ریوڑ والے جانوروں کو اپنی پارٹی میں ڈال لیا گو کہ وقتی طور پر جنگلی درندہ پارٹی کو خوف محسوس ہوا مگر کیونکہ وہ پہلے سے ہی اس قسم کے ہتھکنڈوں سے واقف تھے سو وہ جلد ہی سنبھل گئے .اس دوران نوجوان شاہین ،کبوتر مایوسی کا شکار ہوتے چلے گئے .پارٹی کے سربراہ باز کا رویہ بھی اسکی رفتار کی طرح تیزی سے اوپر نیچے ہوتے رہتا ہے .ساتھ ساتھ اسکےطوطے صحافی دوست جو جنگل کے میڈیا میں کافی پاپولر ہیں اور انکی جنگلی اسٹبلشمنٹ میں کافی پہنچ ہے انہوں نے اسکے کان بھر بھر کر خراب کر دئے .طوطوں کی ٹر ٹر کی وجہ سے اسکی توجہ متاثر ہوئی .

تیسری پارٹی “جنگل اینیمل پارٹی” ہے .اس پارٹی کا بانی سربراہ گھوڑا اپنی شاہانہ چال چلن،عمدہ ہنہنانے کی صلاحیت ،مضبوط سموں ،تیز رفتاری اور ذہانت کی وجہ سے بہت ہی مشہور ہوا .مگر اکثر ریس کے دوران یہ گھوڑا ،دوسرے گھوڑوں کو روند دیتا تھا .اس پر جنگل کے جانوروں نے احتجاج کیا مگر اس وقت گھوڑے پر اپنی عروج کی مستی سوار تھی .اسی غرور کی وجہ سے جنگل کی آرمی میں سے ایک کمزور سی بکری نے اسکا تختہ الٹ دیا اور اسے پھانسی پر چڑھا دیا .اسکے بعد جنگل اینیمل پارٹی کی سربراہی اسکی بیٹی گھوڑی کو مل گئی .گھوڑی میں کچھ صلاحیت تو اپنے باپ جیسی تھی مگر وہ زیادہ قابل نہیں تھی اس لئے اقتدار ملنے کے باوجود اپنے جانور جیالوں کے لئے کچھ نہ کر سکی .اسکا شوہر لگڑ بگڑ جو آدھا لومڑ بھی تھا اس نے اپنی بیوی کی وفات پر پارٹی پر قبضہ کیا پانچ سال مزے سے جنگل کو لوٹا اور اب امیزون کے جنگلات میں شفٹ ہو گیا ہے .اسکا بیٹا خچر جو نہ گھوڑا ہے اور نہ گدھا اس بیچارے پر پارٹی کو دوبارہ سے کھڑا کرنے کی ذمہ داری ان پہنچی ہے .لیکن جنگل اینیمل پارٹی کے جانور اب بوڑھے اور ناکارہ ہو چکے ہیں .اسکا اٹھ کھڑے ہونا دوسروں کی بدولت ہی ہو گا .

ان الیکشنز میں چند اہم مگر چھوٹی  جماعتیں بھی ہیں .جیسے کہ “متحدہ جنگلی پارٹی ” جس کا سربراہ ایک جنگلی سور ہے .وہ سور اپنی جان کے خطرے کی وجہ سے یورپ کے جنگلات میں رہتا ہے .وہاں سے اسکے خطاب اکثر ٹی وی چنیلز پر چلتے رہتے ہیں .متحدہ جنگلی پارٹی کے اکثر نمائندے چونکے بھونکنے والے کتے ہیں اس لئے یہ جب بھی اقتدار سے باہر ہوں یہ ایسی بھونک مچاتے ہیں کہ حکومت والی پارٹی کو انہیں اقتدار میں شریک ہی کرنا پڑ جاتا ہے .ان کتوں نے جنگل کے گنجان علاقے میں “ہڈی بھتہ ” کی بد معاشی مچائی ہوئی ہے .وہاں سے یہ کسی جانور کو بغیر ہڈی لئے نہیں گزرنے دیتے .”جنگلی جماعت پارٹی” ایک اور روایتی جنگلی رواج کی محافظ سمجھنے جانے والی پارٹی ہے .مگر اسکے اکثر کارکن شریف دنبے ہیں جو بار جنگل کی فوج کے سفید ہاتھوں سے اپنی کھال اس آس پر منڈوا لیتے ہیں کہ شاید انہیں بھی اقتدار میں حصہ مل جائے گا مگر اکثر ان سے بھگڈر مچانے کا کام لیا جاتا ہے اور اسکے بعد انکو سوکھا گھاس دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے .”جمعیت جنگل پارٹی گینڈا گروپ ” ایک اور اہم مگر چھوٹی پارٹی ہے .اسکا سربراہ انتہائی موٹا تازہ گینڈا ہے جو کالا کیچڑ پی پی کر خوب موٹا ہو چکا ہے .خاندانی اور عزت دار جانور اس کو غلیظ سمجھتے ہیں .
سیاسی پارٹیاں تو آپ نے جان لیں لیکن اب دیگر اداروں کا بھی جائزہ پڑھ لیں .اعلی نسل کے وفادار کتوں ،بھیڑیوں،گھوڑوں ،ہاتھیوں ، ،ریچھوں پر مشتمل جنگل آرمی ایک بہت اہم فریق ہے .اسکی مرضی کے بغیر کسی کا حکومت بھی پہنچ جانا بہت مشکل ہے .گو کہ اکثر جنگلی فوج شاندار ہے .اسکی ٹریننگ اور صلاحیت کمال کی ہے مگر بڑے بڑے جرنیل سفید ہاتھیوں کی کرپشن اور کمینگی کی وجہ سے یہ بد نام بھی ہے .یہ کمینے سفید ہاتھی جنگل کی کھیتوں پر قبضہ جما لیتے ہیں وہاں یہ اپنے گھر بنا کر جانوروں میں ہی مہنگے مہنگے بیچ دیتے ہیں .اسکے علاوہ بھی بہت گند مچاتے ہیں .جب بد مست ہوجائیں تو جنگل کی حکومت کا تختہ بھی الٹا دیتے ہیں .گو کہ اس میں بے وقوف اور جاہل جانوروں کا اپنا ہاتھ بھی ہوتا ہے جو جنگل آرمی کے ہاتھیوں کی سونڈ کو بار بار چھیڑتے ہیں .اب کچھ عرصے سے ان ہاتھیوں کی سونڈ کو نہیں چھیڑا جا رہا ہے اس لئے کچھ حد تک سکون ہے .
جنگل عدالت کا ادارہ سیاسی کیسوں پر ہی توجہ رکھتا ہے .اس لئے اب لوگوں کو اس سے زیادہ امیدیں نہیں ہیں .جنگلی میڈیا بھی ،اکثر بندروں ،جاہل،آوارہ اور بد کار کتوں ،ہڈ حرام کھوتوں اور مکار سانپوں پر مشتمل ہے جو صرف آگ لگانے پر زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں .الیکشن کمشین زیادہ تر بندروں پر مشتمل ہے پریزایڈنگ افسر نکمے بندروں پر مشتمل ہیں جو امیدواروں کی قمیض کتر دیتے ہیں مگر کسی کو پکڑتے نہیں ہیں ..جنگل کے الیکشن میں انسانوں کی طرح انمٹ سیاہی انگوٹھے پر نہیں بلکہ ووٹ کی مہر بندروں ،بن مانسوں ،گھوڑوں ،کھوتوں وغیرہ کی پشت پر لگی جاتی ہے .اس طرح دھاندلی کا کوئی امکان نہیں رہتا .جانوروں کی پشت پر تا حیات یہ نشان باقی رہتا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ بندر یا یہ کتا پہلے کس پارٹی کو ووٹ دیتا تھا .اس طرح لوٹے جانور دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں مگر پھر بھی جانور اپنی روز مرہ کی مجبوریوں کی وجہ سے ایسے بندروں کی پشتوں پر لگے لوٹے پن کے نشانات کے باوجود انکو برداشت کرتے اور منتخب کرتے ہیں .
خیر الیکشن والے دن وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے .جنگل کے نوجوان جانوروں کو  بڑی امیدیں تھیں کہ باز کی پارٹی جنگل کے مرکزی الیکشن تو نہیں جیتی مگر بلدیاتی الیکشن تو جیتے گی مگر باز صاحب  الیکشن کے دن اپنی ورزش کرنے آسمان کی بلندیوں پر چلے گئے .یوں جب وہ واپس اے تو انکے جاہل جانور اپنی جہالت ناتجربہ کاری کی وجہ سے پھر الیکشن ہارے بیٹھے تھے .جنگلی درندہ لیگ نے اپنے روایتی ہتھکنڈے آزمائے انہوں بندروں کو کیلے دئے ،گھوڑوں کو گھاس ڈالی ،گائے بھینسوں کو مزید چارے کی آفر دی اور وعدے کئے ،کھوتوں کو ڈھینکنے کے لئے لیپ ٹاپ دئے ،کیڑے مکوڑوں کو قیمے والے نان دئے ، شیر تو پہلے ہی انکے ساتھ ہیں ،سفید ہاتھیوں میں سے کچھ کو گنے کے کھیتوں کے کھیت دے دئے .یوں انہوں نے اچھے خاصے ووٹ لے کر بلدیاتی حکومت بھی بنا لی .
اب اسکے مخالف جانور اور انکی پارٹیاں اور اسٹیبلشمنٹ منتظر ہیں کہ کب ببر شیر دھاڑتا ہے کیونکہ وہ جب بھی جاگتا ہے دھاڑ کر فضول میں  ہاتھیوں کو جگا دیتا ہے


.یہ ایک علامتی،فرضی کالم ہے کسی بھی ملک کے سیاسی حالات سے اسکی مماثلت اتفاقی ہو گی

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s