کیا انسان پہلے بندر تھا ؟کیا قرآن “ایولوشن ” کی تصدیق کرتا ہے ؟مذہبی ،سائنسی،میتھالوجی اور دیگر نکتہ ہائے نظر کا جائزہ لیتا ایک تجزیہ .تحریر ثاقب ملک

ہمارے علما کی غالب ترین اکثریت ڈارون کی تھیوری پر یقین نہیں رکھتی .اسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ انہیں اس پورے معاملے کی سمجھ ہی نہیں ہے .شاید ہی ہمارے کسی عالم یا دینی سکالر نے ڈارون کی شہرہ آفاق کتاب ” اَوریجینز آف سپیشیز” پڑھ رکھی ہو گی .ڈارون تو دور کی بات ہمارے عروج کے دور کے عظیم اسلامی سکالرز کا کام بھی ہمارے اکثر دینی مذہبی لوگوں کی نظر سے نہیں گزرا ہو گا .بس صرف انکے کارنامے بتا بتا کر یورپ کو اپنے ماضی کی جھلکیاں دکھا دکھا کر اپنی تئیں جلاتے رهتے ہیں .اس مضمون میں تمام نکتہ نظر پیش کریں گے .فیصلہ آپ خود کر لیں کم سے کم اس بارے  سوچیں تو ضرور .

مذہبی نکتہ نظر
تقریباً تمام ہی مذاہب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آدم مٹی سے بنا.الله نے اسکی جنت میں تخلیق کی .آدم سے حوا کی پیدایش یا تخلیق ہوئی .
بائبل میں ہے
…26Then God said, “Let Us make man in Our image, according to Our likeness; and let them rule over the fish of the sea and over the birds of the sky and over the cattle and over all the earth, and over every creeping thing that creeps on the earth..”…
ترجمہ :” خدا نے کہا کہ چلو انسان کو بناتے ہیں ،اپنے جیسا ،ہماری پسند جیسا ،اور اسے حکمرانی دیتے ہیں سمندروں پر ،اور آسمانوں پر اور،جانوروں پر اور زمین پر اور ہر اس رینگنے پر جو زمین پر رینگ رہی ہے .”
ایک اور جگہ ہے
Then the LORD God formed man of dust from the ground, and breathed into his nostrils the breath of life; and man became a living being.
ترجمہ :” پھر خدواند نے زمین کی دھول سے انسان کو بنایا اور اسکے نتھوں میں زندگی ڈال دی اور وہ زندہ ہو گیا ”
تورات میں ہے
Adam (“man of earth”), was the name of the first human-being whom G-d formed out of soil taken from all parts of the earth. Then, G-d created the first woman, Eve, to be Adam’s wife
ترجمہ ” زمین کے انسان آدم وہ پہلا انسان تھا جو خدا نے تخلیق کیا جو زمین کے ہر حصے سے لی گئی مٹی سے بنا .پھر خدا نے پہلی عورت بنائی جو کہ آدم کی بیوی بنی ”
قرآن کریم میں ہے
“15:26 We have created the human being from hardened clay of aged mud.”
ترجمہ ” ہم نے انسان کو سخت پرانی مٹی سے تخلیق کیا ”
ایک اور جگہ ہے
24:45 God created every moving creature from water. So some of them move on their bellies, and some walk on two legs, and some walk on four. God creates whatever He wills. God is capable of all things.
ترجمہ ” الله نے ہر چلنے والی چیز کو پانی سے بنایا ان میں سے کچھ اپنے پیٹ پر تو کچھ اپنی دو ٹانگوں پر اور کچھ اپنی چار ٹانگوں پر چلتے ہیں .الله جس چیز کا دل چاہتا ہے بنا دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ”
ایک اور معنی خیز آیت ہے کیا یہ آیت ارتقا کی جانب اشارہ کر رہی ہے ؟
71:14 “While He created you in stages?”
ترجمہ ” کیا الله نے تمہیں درجہ با درجہ نہیں بنایا ”
ایک اور جگہ الله کہتا ہے
71:17 “God made you grow from the earth as plants.”
ترجمہ ” الله نے تمہیں زمین سے پودوں کی طرح اگایا ”
ہندوؤں کا نکتہ نظر بھی دلچسپ ہے .انکے خیال میں برہما نے ایک تری مورتی تخلیق کی جس کی باقی دو حصے وشنو اور شیوا ہیں .جو کہ بقا اور تباہی کے ذمہ دار ہیں .اوولوشن پر ایک دلچسپ نظریہ ہندو مت میں ہے اسکے مطابق دیوتا وشنو کے دس اوتار ہیں جو کہ انسانی ارتقا کی وضاحت کرتے دس درجے ہیں .پہلا اوتار “متسیا ” ہے جو کہ مچھلی ہے ،اور پانی میں تخلیق کا سبب ہے ،دوسرا” کرما ” کچھوا یا رپٹائل ہے ،تیسرا ،” وراہا ” ہے یعنی زمینی جانور ،چوتھا ” نرسمہا ” ہے یعنی انسانی شیر ،پانچواں اوتار ،” وامانا ” ہے یعنی بونا انسان یہ سائنس کی زبان میں “ننڈرتھال ” ہو سکتا ہے ،چھٹا ” پرشراما” ہے یعنی کلہاڑی والا انسان جو کہ آئرن ایج کا انسان ہو سکتا ہے .باقی اوتار لارڈ رام، لارڈ کرشنا لارڈ بدھ ہیں .

قدیم میتھالوجی
سمیرین میتھالوجی کے مطابق ” اینکی ” یا ” انلی” خدا نے اپنی عبادت کے لئے انسان کو خون اور مٹی سے بنایا .
گریک میتھالوجی کے مطابق خدا ” پرمتھاس” نے مٹی سے انسان بنایا اور “ایتھنا” نے اس میں روح یعنی زندگی پھونکی .
چائنیز میتھالوجی کے مطابق “نوا” نے پیلی مٹی لے کر انکو انسانی فگر میں ڈھال کر ان میں جان ڈالی اور ان کو بچے سنھبالنے کی طاقت دی .
مصریوں کے مطابق خدا “خںم ” نے انسان کے بچوں کو مٹی سے تخلیق کر کے ماؤں کے حمل میں رکھ دیا .
ریڈ انڈین امریکن کے عقیدے کے مطابق ،زمین ہلانے والے نے مٹی سے انسان مرد اور عورت بنا کر سورج کے آگے سکھانے کے لئے رکھ دی .
انکا تہذیب کے خیال میں خالق” ویراکوچا ” نے دوسری بار انسان کو مٹی سے بنایا پہلی بار نہیں بنا سکا .
ممتاز اسلامی مفکرین کا نکتہ نظر
ابن خلدون نے اپنی معروف کتاب “مقدمہ” میں یہ نظریہ پیش کیا کہ تمام تخلیقات کی ابتدا معدنیات سے ہوئی .معدنیات پھر بیج سے پودوں کی شکل اختیار کر گئیں .یہ پودے بیل ،پھر شیل والے جانور اور بڑھتے بڑھتے سوچنے والے انسان بن گئے .یاد رہے ابن خلدون کا زمانہ حیات ١٣٣٢ سے ١٤٠٦ تھا یعنی وہ یہ بات ڈارون سے تقریباً پانچ سو سال قبل که رہے ہیں .
یہیں پر بس ابن خلدون سے بھی پہلے ابن الحیثم جن کا زمانہ حیات ٩٦٥ سے ١٠٣٩ تک رہا ہے وہ بھی معدنیات سے زندگی کی ابتدا کو تسلیم کرتے تھے .انہوں نے اپنی “کتاب المناظر” میں یہ تصور پیش کیا . شیخ ابن عربی اور مولانا روم کا تو معروف ہے کہ وہ ارتقا کے نظریے کے قائل تھے .الجا ہز اور البیرونی کا نام بھی اسی صف میں لایا جاتا ہے مگر اس بارے میں میں کسی قسم کی تصدیقی بات نہیں کر سکتا .پڑھنے والے خود پڑھ سکتے ہیں .darwin
ڈارون کی تھیوری
گو کہ اس تھیوری کو سیدھا سادہ بندر سے انسان بننا کہ دیا جاتا ہے مگر اسکا خلاصہ ان دو نکات میں پوشیدہ ہے .نمبر ایک کہ زمین پر ساری حیات ساری زندگی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے .نمبر دو کہ یہ ساری زندگی اور مخلوق قدرتی انتخاب کا نتیجہ ہے .ڈارون کا کہنا ہے کہ ساری مخلوق ایک سنگل سیل سے نکلی ہے .اب یہ جو نیچرل یا قدرتی انتخاب ہے یہ بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے یعنی موسم ،حالات ،آفات وغیرہ جو جانوروں میں بہت معمولی اور بہت غیر معمولی تبدیلیاں لا سکتے ہیں .جب تبدیلیاں بہت معمولی ہوں تو اسکو ” مائیکرو ایوولوشن” کہا جاتا ہے .جب تبدیلیاں بہت بڑی ہوں یعنی ڈائنا سور ،ایک پرندہ بن جائے تو اسکو “میکرو ایوولوشن” کہا جائے گا .
اس پر اسلامی نکتہ نظر سے بھی کئی سوال پیدا ہوتے ہیں اور نارمل لاجیکل سوالات بھی بہت ہیں .اصل بات یہ ہے کہ ہم یہ بات سمجھنا بھی چاہتے ہیں کہ نہیں ؟
چند سوالات جو ذہن میں آتے ہیں
> الله کو کیا ضرورت تھی کہ وہ اتنا طویل عرصہ انسان کو بنانے میں لگائے ؟ اگر اس وقت ” ٹائم” کا تصور نہیں بھی تھا تو بھی ہم اس بات کو کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟
>اگر انسان زمین پر تھا تو جنت میں آدم کون تھا ؟
> اگر آدم کی روح کو زمیں کے انسان کے جسم میں ڈالا گیا تو پھر تو انسانی تاریخ کم سے کم چالیس پچاس ہزار سال پیچھے ہونی چاہئے لیکن تاریخی حقائق فی الحال اسکی نفی کر رہے ہیں /
>اگر زمین کے “نینڈراتھال ” جیسے جانور نما انسان میں آدم کی روح کو ڈالا گیا تو مٹی سے تخلیق کیا گیا انسان کہاں گیا ؟
> الله کہتا ہے میں نے تمہیں پودے کی طرح زمین پر اگایا . کیا یہ ثبوت کافی ہے کہ ہم زمین پر سنگل سیل سے آگے بڑھے ؟ یا کہ ہم اس آیت کے کنٹیکسٹ کو نہیں سمجھ پا رہے ؟
> اگر انسان کو مرحلہ وار تخلیق کیا گیا تو پھر بھی اسکی تاریخ آدم سے کیوں شروع ہوتی ہے جب اس نے سوچنا شروع کیا تب سے کیوں نہیں ؟
آپ بھی سوال کریں اور جواب تلاش کریں

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s