عامر خاکوانی کے کالم “مستقبل خوب صورت بنانا” کا تفصیلی تجزیہ ،کیا دولت کا ارتکاز ہی سب سے بڑا مسلہ نہیں ہے ؟ تجزیہ ثاقب ملک

پس منظر
عامر خاکوانی کا یہ کالم مارک زکربرگ کے اپنی بیٹی کی پیدائش پر ا پنی ٩٩% دولت کو عطیہ کرنے کے تناظر میں ہے .اس میں دیگر چیرٹی تنظیموں کا بھی ذکر ہے .
خلاصہ
کالم نگار اپنے کراچی میں قیام کے دور کا ذکر کرتے ہیں جہاں پر ایک صاحب کی شاندار میزبانی اور وسعت قلبی کو پختون حجرہ یا سرائیکی بیٹھک سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ انسان اپنا مہمان خانہ ہر وقت ہر کسی کے لئے کھلا رکھتا .وہاں پر ہم بھی لوگوں کی باتیں سننے اور مفید معلومات لینے چلے جاتے .آگے چل کر خاکوانی صاحب لکھتے ہیں کہ گو کہ ان حضرت کے پاس اچھا گھر ،گاڑی اور مناسب رقم تھی لیکن ایک دن انکے دوست ان سے کہنے لگے کہ تم لوگوں کے کام کرانے پر اتنا ٹائم ویسٹ کرتے ہو اس بہتر ہے اپنے کاروبار پر توجہ دو تاکہ اس سے بھی اچھی گاڑی ،گھر اور دولت ہو تو اچھا نہیں ہے ؟ جواب میں وہ آدمی کہتا ہے کہ میرا مقصد حیات لوگوں کے لئے کچھ کرنا ہے .میں دوسروں کی دنیا بھی خوب صورت بنانا چاہتا ہوں .میرا شمار ان لوگوں میں نہیں ہونا چاہے جو صرف اپنے لئے زندگی گزاریں .کالم نگار ان صاحب کی اس بات سے بہت متاثر ہوتے ہیں .
عامر خاکوانی لکھتے ہیں کہ ہمیں ایسی سوچ کی ترویج کرنی چاہئے تاکہ ہمارے اندر بھی اس قسم کی زندگی گزارنے کا جذبہ پیدا ہو .وہ پاکستان میں فلاحی کام کرنے والی چند مشہور شخصیات اور تنظیموں کا ذکر کرتے ہیں .وہ انکے کام کرنے کی صلاحیت ،لگن اور عزم کو دیکھ کر بہت متاثر اور حیران ہوتے ہیں .کالم نگار ایدھی ،ڈاکٹر امجد ثاقب ،آئ سپیشلسٹ تنظیم فیما ،غزالی ٹرسٹ سکول اور دیگر کا ذکر خیر کرتے ہیں .اس حوالے سے کالم نگار پاکستان کو خوش قسمت ملک گردانتے ہیں جہاں اتنے ایثار کیش لوگ موجود اور سر گرم عمل ہیں .اب کالم نگار مغربی اور امیریکن سرمایہ کاروں اور امیر کبیر لوگوں بل گیٹس،وارن بفے وغیرہ کی فراخ دلی اور سخاوت کا ذکر کرتے ہیں جو اربوں روپے عوام کے لئے وقف کر چکے ہیں .اب وہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے حال ہی میں اپنی بیٹی کی پیدائش پر اپنے فیس بک کے نناوے فیصد حصص نیلام کرنے اور خیراتی کاموں کے لئے وقف کرنے کا اعلان کیا ہے .یہ رقم پینتالیس ارب ڈالر بنتی ہے .کالم نگار کے خیال میں یہ انتہائی احسن قدم ہے اور اسکی ستائش ہونی چاہئے .خاکوانی صاحب لکھتے ہیں کہ انکی خواہش ہے کہ ایسا جذبہ پاکستانی سرمایا کاروں میں بھی پھیلے تاکہ مستحق عوام کی زیادہ سے زیادہ مدد ہو سکے .

تجزیہ
کالم نگار کی نیت ،اخلاص ،اور درد مندی پر کوئی شک نہیں ہے .کالم ایک خوب صورت مقصد کے لئے لکھا گیا ہے .،اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے .مگر چند ضروری اور اہم باتیں جن کا ذکر ایک سنجیدہ ،پڑھے لکھے اور متوازن کالم نگار کی جانب سے اس کالم میں ہونا چاہئے تھا وہ مسنگ ہے .پہلے حصے میں وہ باریک سی غلطی کر گئے ہیں جو کہ یقیناً ایک غیر دانستہ ہی لگتی ہے مگر انٹلیجنسا کو ایسی چھوٹی چھوٹی مگر اہم باتوں پر بھی توجہ دینا ہو گی کیونکہ ہماری محروم قومیتیں ایسی باتیں فورا محسوس کرتی ہیں .کالم نگار نے صرف پختون حجرے اور سرائیکی بیٹھک کا ذکر کیا ہے جو کہ ظاہر ہے انکا دیکھا بھالا ماحول اور پس منظر کے حساب سے تو ٹھیک ہے مگر یہاں پر وہ برابری کا اور توازن کامظاہرہ کرتے ہوئے با آسانی ،پاکستانی دیہات کا ذکر کر سکتے تھے یہاں پنجابی ،سندھی ،بلوچی ،کشمیری انداز کی بیٹھک،ڈیرے ،چوپال وغیرہ کا ذکر بھیشامل ہوتا تو بہت مناسب ہوتا تاکہ کسی کو اپنا آپ کالم نگار سے علیحدہ نظر نہ آئے .
آگے چل کر وہ جن صاحب کی مثال دیتے ہیں کہ زندگی میں زیادہ پیسا کمانا اہم نہیں ہے بلکہ لوگوں کی خدمت اور انکی زندگی خوب صورت بنانا زیادہ اہم ہیں .یہاں پر بھی انکے مقصد پر کسی قسم کا اعتراض نہیں بنتا صرف انداز فکر کی جانب اشارہ مطلوب ہے .یہ بات ہمارے کلچر میں کچھ ایسی پیوست ہو چکی ہے جو کہ ہندوؤں ،کے ساتھ ملاپ کی وجہ سے زیادہ بڑھی کہ ہندو سادھو ،جوگی وغیرہ ،دولت اور دنیا کی لذتوں سے دور ہی رهتے ہیں اور ہمارے مسلمان صوفیا میں بھی اسکی ملاوٹ در آئی کہ دولت کو ایک گالی بنا کر رکھ دیا گیا ہے .یہاں پر یہ بات سوچنے پر مجبور ہوں کہ اگر ایک شخص میں اہلیت ہے کہ وہ زیادہ پیسے کما سکے تو اسکو اپنے آپ کو کیوں روک دینا چاہئے؟ کیا یہ زیادہ بہتر نہیں ہے کہ وہ اگر کمانے کا اہل ہے تو اور زیادہ کمائے اور لوگوں کی مزید مدد کر سکے ؟ یہ بات تو لازم ہے کہ زیادہ تر مسائل کا حل سہولیات کی فراہمی سے ہے .اخلاقی اور جذباتی مدد کی بھی اپنی ضرورت ہے مگر ہمارے ملک کی اکثریت کو مالی امداد ،تعلیم،صحت وغیرہ کی سہولیات کی کمی ہے .بجائے کہ وہ شخص یہ کہتے کہ بس میرے لئے اتنا مال کافی ہے مجھے تو زیادہ نہیں چاہئے اب میں لوگوں کے کام آؤں گا تو میرے خیال میں یہ ایک کمتر سوچ کی نشانی ہے .آپ کیوں نہ لوگوں کے لئے زیادہ کمائیں؟ آپ کیوںنہ زیادہ پیسے لوگوں کی مدد کے لئے استمعال کریں ؟ میرا خیال ہے کہ ذاتی قناعت اور اجتماعی قناعت کے اصول مختلف ہیں ہم ایک اچھی چیز کو غلط مقصد کے لئے یا کمتر مقصد کے لئے استمعال کر رہے ہیں .آگے ہی چل کر جب کالم نگار وارن بفے ،مارک زکربرگ اور بل گیٹس کی مثال دیتے ہیں اور انکی فراخ دلی کی تحسین کرتے ہیں تو یہی سوال میرے ذہن میں پھر کھڑا ہو جاتا ہے کہ اگر یہ لوگ چند لاکھ ڈالر کما کر ریٹائر ہو جاتے تو اتنی بڑی سخاوت کر سکتے تھے ؟ ہر گز نہیں .کیا وہ لاکھوں لوگوں کو روز گار فراہم کر سکتے تھے اگر وہ اپنی ذاتی خوش حالی پر مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ؟کیا ہم کم دولت مند ہو کر عوام کے لئے زیادہ فائدہ مند ہو سکتے ہیں یا زیادہ دولت کما کر ؟ ٹھیک ہے کچھ مثالیں ایسی بھی ہوں گی کہ لوگوں نے بغیر کسی مال و دولت کے معاشرے بدل دئے مگر اکثرت ایسی نہیں ہوتی اور نہ ہو سکتی ہے .
عامر خاکوانی لکھتے ہیں کہ پاکستان میں بھی کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو رفاحی کام کر رہی ہے .حیران کن طور وہ عمران خان کی شوکت خانم ہسپتال کا ذکر کرنا بھول گئے .گمان ہے کہ انہوں نے ایسا اس وجہ سے کیا ہو گا کہ عمران کیونکہ ایک سیاسی لیڈر ہیں تو اس لئے ذکر نہ کرنا ہی نیوٹرل ہونے کے لئے زیادہ مناسب ہے .مگر میرا خیال ہے کہ ایک فلاحی منصوبے کو جو کہ اتنا اہم ہے صرف اس خدشے یا خوف کی وجہ سے نہ نمایاں کرنا کہ کہیں سیاسی حمایت کا طعنہ نہ سننا پڑ جائے ایک مایوس کن رویہ ہے .ممکن ہے اسکی کوئی اور وجہ بھی ہو مگر شوکت خانم کی غیر موجودگی موجودگی حیران کن ہے .buffet
ایک اور اہم ایشو جو قابل غور ہے کہ یہ بات تعریف کے قابل تو ہے کہ وارن بفے ،بل گیٹس اور مارک ذکر برگ اپنی اربوں کھربوں کی دولت کو عوام پر خرچ کر رہے ہیں مگر یہ بھی سوال بنتا ہے کہ آخر انہوں نے اتنی زیادہ دولت کیوں اکٹھی کی؟ انہیں اتنی زیادہ دولت کیوں اکٹھا کرنے دی گئی؟ کیا ہم انکے فلاحی کاموں سے متاثر ہو کر ایسے سوالات نہ اٹھائیں ؟ آخر کیوں سات ارب لوگوں سے زیادہ ان لوگوں نے دولت کما لی اور انہیں کمانے دی گئی؟ کیا کالم نگار کا حق نہیں بنتا تھا کہ وہ اس جانب بھی کوئی سوال اٹھاتے ؟ فیس بک پر ٹیکس بچانے اور چھپانے کے الزمات ہیں .اگر آپ کو علم نہیں ہے تو بتا دوں کہ پچھلے سال انگلینڈ میں فیس بک نے جسکی مالیت پینتالیس ارب ڈالر ہے اس نے صرف چار ہزار پاؤنڈ ٹیکس دیا ہے .کیا یہ بات اچنبھے کی نہیں ہے ؟کیا اس پر کوئی سوال نہیں بنتا؟ مجھے ان تینوں امیر کبیر حضرت کی نیت پر شک نہیں مگر میں یہ سوال کرنے پر مجبور ہوں کہ اتنی زیادہ دولت کا صرف تین ہاتھوں میں مرتکز ہو جانا ہی تو ہمارے سینکڑوں مسائل کی وجہ نہیں ہے ؟ وہ مسائل جو ہمیں اگر وقت پر رقم اور سہولیات مل جاتیں تو ہمیں ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا یا انکی شدت کم ہوتی ؟ کیا وارن بفے کا پوری عمر کما کر آخری عمر میں اپنی دولت لٹا دینا اسکی پوری عمر اپنی دولت کو جمع کرنے کو جسٹیفائی کرتا ہے ؟ یہی سوال باقی ارب پتیوں پر بھی ہے چاہئے انکا تعلق امریکا سے ہے یا پاکستان سے .
مزید یہ کہنا چاہوں گا کہ ایک طرف تو بل گیٹس دنیا میں اربوں روپے کی چیرٹی کر رہا ہے ،وارن بفے کر رہا ہے مارک ذکر برگ کر رہا ہے دوسری جانب دنیا کے لوگوں کے مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں ایسا کیوں ہے ؟ پاکستان میں رفاحی کام کرنے والے بڑھ رہے ہیں مگر ہماری آدھی آبادی خط غربت سے نیچے ہیں ایسا کیوں ہے ؟ میرا خیال ہے اصل مسلے کی نشاندہی کالم نگار نے خود ہی آخر میں کر دی ہے کہ ہم مچھلی پکڑنا نہیں سکھا رہے .ہمارے انداز فکر میں کجی ہے .ہم لنگر لگا دیں گے ،ہم ہسپتال بنا دیں گے ،ہم چھوٹے موٹے بلا سود قرضے دے دیں گے لیکن ہم لوگوں کے کھانے کا مستقل بندوبست نہیں کرتے ،ہم لوگوں کو صاف پینے کا پانی نہیں دیتے تاکہ ہاسپٹل کم سے کم بنانے پڑیں .ہماری فلاحی سوچ میں کمی ہے .ہم وقتی ستائش اور واہ واہ کے متلاشی ہوتے ہیں .یہ کسی کی نیت پر شک کرنا نہیں ہے یہ معاشرے کی فیبرک اور انداز فکر کے مطالعہ کے بعد یہ کہا جا رہا ہے .میرے خیال میں کالم نگار کو کہنا چاہئے تھا کہ ہم صاف پینے کے پانی کے فلاحی منصوبے کیوں نہیں شروع کرتے ؟ ہم دولت کو چند ہاتھوں سے مرتکز نہ کرنے اور اسکو پھیلانے کے منصوبے کیوں نہیں شروع کرتے ؟ہم لوگوں کو مفت تعلیم اور شعور پیدا کرنے کے منصوبے کیوں نہیں شروع کرتے ؟ ہم مسلے کی جڑ کو کیوں نہیں پکڑتے ؟ .عامر خاکوانی جیسے متوازن کالم نگارکو چاہئے تھا کہ وہ اپنے نیکی پھیلانے والے کوٹے کا کالم لکھنے کےبجائے اس موضوع کے تمام تر اینگلز پر نگاہ ڈالتے .
کوٹ ایبلز
“روز کسی بھوکے کو کھانا کھلانے سے بہتر اس بھوکے کو بھوک کے چنگل سے نکالنا ہے ”
“چائے کا پیالہ اور تسلی کے دو بول تو ہمیشہ ملتے ”
“میں چاہتا ہوں کہ میرا شمار دوسری قسم کے لوگوں میں کیا جائے ،میری وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں کمی آئے ،انکی زندگی آسان اور مستقبل خوب صورت بنے ”
سوال
* کیا دنیا کی نوے فیصد دولت کا ارتکاز صرف چند ہاتھوں میں ہونا ہی دنیا کی غربت اور مسائل کی ایک بڑی وجہ ہے ؟ * کیا لوگوں سے پیسے جمع کر کے اسکا کچھ حصہ انہی کو لوٹا دینا نیکی یا احسان کہلانا چاہئے ؟ * اتنے فلاحی کاموں اور خیرات کے باوجود پاکستان اور دنیا میں غربت ،بیروزگاری اور مسائل کم ہونے کےبجائے بڑھ کیوں رہے ہیں ؟ * کیا ہمارا انداز فکر بدلنا چاہئے کہ ہمیں کس طرح فلاحی کام کرنے ہیں ؟
ریٹنگ
کالم اچھا ،مقصد اچھا ہے مگر چند اہم سوالات اور خامیوں کی وجہ سے اسکو دس میں سے چھ نمبر ہی دے سکوں گا .http://dunya.com.pk/index.php/author/amir-khakwani/2015-12-03/13515/49026547#.VmA-3eL5aKI

Advertisements

4 thoughts on “عامر خاکوانی کے کالم “مستقبل خوب صورت بنانا” کا تفصیلی تجزیہ ،کیا دولت کا ارتکاز ہی سب سے بڑا مسلہ نہیں ہے ؟ تجزیہ ثاقب ملک

  1. ایک اچھا تجزیہ ہے اور یہ سچ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی ایسے قابل لوگ ہیں جو کہ دولت کمانے کو برا سمجھتے ہوئے اسے ترک کیے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ یہ صرف اور صرف اپروچ کے فرق کی وجہ سے ہے۔۔ معاشرے کی ترقی میں جتنا اہم رویے ہیں اتنے ہی اہم روپے بھی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s