جب عمران خان کو زرداری کے کرتوتوں کا اندازہ ہوا .جانئے عمران خان کی کتاب “میں اور میرا پاکستان ” سے عماد بزدار کے اقتباس میں

مجھے آصف زرداری کے طریقہ واردات کا پتہ بہت دیر بعد چلا جب 1989ء میں بینظیر بھٹو کے گھر بلاول ہاؤس کراچی گیا تاکہ اپنے کینسر ہسپتال کیلئے فنڈ ریزنگ میں مدد لے سکوں۔ میں کوشش کر رہا تھا کہ غریب لوگوں کو جو سہولتیں حکومت فراہم نہیں کر سکی تھی وہ میں یہ ہسپتال بنا کر دوں۔ میرا خیال تھا کہ یہ منصوبہ شروع کرنے کیلئے مجھے کچھ مدد بینظیر حکومت سے مل جائے گی.imran zardari
بینظیر بھٹو مصروف تھیں تو ہماری آصف زرداری سے ملاقات ہو گئی۔ میری بینظیر بھٹو سے آکسفورڈ کے دنوں کی دوستی تھی لہذا میرا خیال تھا کہ میرے ساتھ اچھا سلوک ہوگا اور میری درخواست کو بڑے ہمدردانہ انداز میں سنا جائے گا۔ اس میٹنگ میں آصف زرداری بہت چارمنگ تھے اور انہوں نے میری بڑی تعریفیں بھی کیں، تاہم مدد کی پیشکش نہیں کی اور زیادہ تر وقت میرے دوست طارق شفیع کے ساتھ باتیں کرتے رہے جو میرے ساتھ گئے ہوئے تھے۔ طارق کا تعلق پاکستان کے سب سے زیادہ طاقتور ٹیکسٹائل گروپ سے ہے لہذا آصف زرداری نے اسے کہا کہ آپ اپنی چند فیکٹریاں سندھ میں قائم کرو کیونکہ انہوں اپنے صوبے میں لوگوں کو نوکریاں دے دی تھیں۔ اس نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر اسے اس بزنس کے بیس فیصد شیئرز دیئے جائیں تو وہ ان ملوں کے قیام کی راہ میں بیورو کریسی کو روڑے نہیں اٹکانے دینگے اور قومی بینکوں سے قرضہ لینے میں بھی مدد کرینگے۔
یہ مجھے کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ(اس کے بعد اندازہ ہو گیا کہ) بینظیر بھٹو اور ان کے خاوند سے مجھے ہسپتال کے پراجیکٹ کیلئے کوئی امداد نہیں ملنے والی تھی۔
اس تناظر میں اب آپ میری اس حیرانی کو سمجھنے کی کوشش کریں جب اس واقعے کے پانچ سال بعد میرا ایک پرانا دوست نوید ملک مجھ سے ملنے آیا جس سے میری برسوں سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت 1990ء میں کرپشن کے الزامات پر برطرف ہوئی تھی اور اب وہ دوسری بار 1993ء میں وزیر اعظم بن چکی تھیں۔ نوید ملک میرے لیے بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کا ایک پیغام لایا کہ وہ ہمارے کینسر ہسپتال آ کر افتتاح کا رنگین فیتا کاٹ کر ہمیں عزت افزائی سے نوازنا چاہتے تھے کیونکہ اس وقت تک یہ ہسپتال چھوٹے پیمانے پر چلنا شروع ہو گیا تھا اور ہم نے 29 دسمبر 1994ء کو اس کو باقاعدہ شروع کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔
ہم نے یہ فیصلہ کیا ہو ا تھا کہ اس ہسپتال کی افتتاحی تقریب کا فیتا دس سالہ کینسر کی مریضہ سمیرا یوسف سے کٹوانا تھا ۔ اگرچہ یہ کسی بھی ادارے کیلئے بہت بڑے اعزاز کی بات ہوتی کہ اس کا افتتاح ملک کا وزیر اعظم آ کر کرے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں نے بینظیر بھٹو اور ان کے خاوند کو ہسپتال کی افتتاحی تقریب میں آ کر فیتا کاٹنے کی دعوت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ مجھے اس شاہی جوڑے کو اس گستاخی کی قیمت کا بعد میں اندازہ ہوا۔ بینظیر بھٹو کرپشن اسکینڈلز کی وجہ سے غیر مقبول ہو چکی تھیں اور وہ ہمارے ہسپتال آ کر لوگوں میں اپنا کھویا ہوا امیج بحال کرنے کی خواہشمند تھیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s