حسن نثار کے کالم کی پیروڈی ، ایک فرضی کالم ،تحریر ثاقب ملک

اوئے بل شٹ ،چل اے ،چپ اے ،ٹکے ٹکے کے جمهوریے جگاڑ یئے کرپٹ سیاستدان ،غلیظ اور پلید نا پاک ملاوٹ زدہ دودھ کی جعلی مکروہ پیدوار ،مارشل لا کی نرسریوں میں پرورش پانے والے فارمی شیور لیڈر ،تم لوگ مجھے دھمکی دیتے ہو؟ مجھے انارکسٹ کہتے ہو؟ اوے تم لوگوں نے تو صدیوں سے اصلی خالص دودھ نہیں پیا ،تمہاری رگوں میں گندے اور غلیظ پانی کا نا پاک ملاوٹ زدہ دودھ ہے .تمہاری اوقات ہی کیا ہے ؟میں تمہاری اوقات بتاتا ہوں .ایک جمہوری وزیر اپنے جمہوری چماڑوں ،چمچے ،چیلے چانٹوں کے ساتھ ملائشیا گیا .وہاں ایک ٹرین سٹیشن پر وزیر محترم کو جمہوری “حاجت” ہو گئی اور باتھ روم جانا تھا .اب یہ جاہل گنوار ،ٹٹو انگلش سے نابلد تھے .مقامی زبان آتی نہ تھی .سامنے ہی ٹرین کے ٹکٹ کے لئے لائن لگی ہوئی تھی .وزیر نے سوچا کہ ہو نہ ہو یہی ٹائلٹ ہیں .کاونٹر پر لڑکیاں،مسافروں سے انکی منزل پوچھ کر ٹکٹ دے رہی تھیں.اس بندر نما وزیر نے سمجھا کہ یہ پیشاب کرنے کے پیسے لے رہی ہے اپنے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو ایسا ہی ہوتا ہے .وزیر نے ٹائلٹ جانے کا فیصلہ کیا اور اپنے جمہوری چتکبرے ،چمچوں سے جمہوری فیصلہ مانگا جو انہوں نے اپنی اپنی دمیں ہلا کر اثبات میں دیا کہ یہی ٹائلٹ ہے .سارے چمو چمار اپنی تھوتھنیاں لٹکا کر لائن میں لگ گئے .پاکستان میں یہ فرعون کسی لائن میں نہیں لگتے اور یہاں اپنا گند اپنے مکروہ جسم سے نکالنے کے لئے لائن میں لگ گئے . جب ان شودروں کی باری آئی تو کاونٹر پر کھڑی لڑکی نے پوچھا کہ کہاں جانا ہے ؟ اس گھامڑ وزیر کو کچھ سمجھ تو نہ آئی بس یہی جواب دیا کہ ٹائلٹ جانا ہے .اس پر اس لڑکی نے ہنس ہنس کر اپنا آپ ادھ موا کر لیا .زمین پر گر گئی . ساتھ کاونٹر پر کھڑی ٹکٹ چیکر لڑکیوں کو جب پتہ چلا تو وہ بھی ہنسنا شروع ہو گئیں .اس دوران یہ جمہوری جانور اپنی زبانیں باہر نکال کر شرمندہ شرمندہ سے کھڑے تھے .دوبارہ تصدیق کے لئے ان سے پوچھا تو اس للو نے وہی جواب دیا.اس لڑکی پر ہنسی کا پھر دورہ پڑ گیا .اس نے انکی جہالت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وزیر کی انگلی پکڑی اور اسے ٹایلیٹس کے سامنے لا کھڑا کیا اور بتایا کہ یہ باتھ روم ہیں .جاتے جاتے اس نے واپس آ کر پھر اس گنوار مردود کے پاس آ کر اشارہ کر بتایا کہ یہ جینٹس ٹائلٹ ہیں اور یہ لیڈیز ہیں کہ کہیں یہ احمق منہ اٹھا کر لیڈیز ٹائلٹ میں نہ گھس جائیں .لعنت ایسے حرام کے جنے جمہوری لیڈروں پر یہ اپنی دموں پر اچھل اچھل کر تنقید کرتے ہیں .اوئے لعنت ہو انکی مردود شکلوں پر .
انکی نا پاک ملاوٹ زدہ دودھ پر پلی بڑھی جمہوریت پر لعنت ،کہ یہ کسی بانجھ عورت کی طرح کچھ ڈیلیور نہیں کر سکی .اسکی مثال اس بوڑھی عورت کی طرح ہے،جو لوگوں کو دور سے نہیں پہچان سکتی تھی . جس کو ایک دیہات میں اسکے گھر والوں نے اسی کام کے لئے پال رکھا تھا کہ جونہی کوئی انکی زمینوں پر قدم رکھتا اور انکے گھر کی جانب قدم بڑھاتا تو وہ بڑھیا بکنا شروع ہو جاتی کہ اوہ تمہاری ماؤں کے کے دودھ پر شیطان کی لعنت ہو ،اوہ تمھارے اولاد کی سات نسلوں کے ‘اس ‘کی اس جگہ کیڑے پڑیں ،تمہاری بہنوں کے رشتے کسی چوڑے سے ہو جاییں ،تمہاری شکلوں پر پھٹکار برسے ،تم گلی گلی آوارہ کتے کی طرح پھرو ،تمہاری مائیں اندھی ہو کر بھیک مانگیں ،تم مرو تو اس پر کتے پیشاب کریں .یہ سب کچھ بکتی رہتی اور جب وہ لوگ یا مہمان گھر کے قریب پہنچتے اور یہ بڑھیا انکو پہچان جاتی تو معافیاں مانگتی کہ معذرت خواہ ہوں ،پہچان نہیں سکی ،گھر ،والے بھی معذرت کرتے کہ ہماری ماں بوڑھی ہیں پہچان نہیں سکتی . الیکشن جیتنے کے بعد ہمارے سیاستدان اس بڑھیا عورت کی طرح عوام کو گالیاں دیتے ہیں اور جب الیکشن قریب آ جاتے ہیں تو معذرت کرنا ،منتیں ترلے کرنا شروع کر دیتے ہیں .انکی کرتوت ہی ایسے مردودوں والے ہیں .

یہ نقلی نقلائی چغلی چگلائی ،دانش رکھنے والے کبڑے اور نام نہاد دانشور جنکی عقلوں پر بغیر چابی والا تالا پڑا ہوا ہے .یہ مجھے انتہا پسند اور جمہوریت دشمن کہتے ہیں انکی مثال ایک کہاوت سے سمجھاتا ہوں .کہاوت ہے کہ پہلے پہل الله نے ساری مخلوق کی عمر بیس سال رکھی تھی.تب بیل بولا کہ الله میاں میں نے پوری عمر ہی مزدوری کرنی ہے میں اپنی عمر کے دس سال انسان کو دیتا ہوں .لومڑ پاس کھڑا تھا وہ بولا الله میاں ،میں نے بیس سال جی کر کیا کرنا ہے میں بھی دس سال انسان کو دیتی ہوں .اسی طرح کتے نے کہا کہ میں نے تو صرف بھونکنا ہی ہے میں بیس سال تک کیا بھونکوں گا میں بھی دس سال انسان کو بخش دیتا ہوں .سانپ نے کہا کہ میں کہاں بیس سال تک ڈنگ مارتا رہوں گا میں بھی دس سال انسان کو دیتا ہوں .آخر میں الو نے کہا کہ میں نے تو صرف بیٹھ کر دائیں بائیں ہی دیکھنا ہی ہے میں بھی اپنے دس برس انسان کو دیتا ہوں .تو یہ پلید دودھ والے ،نو ٹنکی دانشور جن کی زبانیں ،بھونکتی رہتی ہیں یہ بیس سال کے بعد دس سال بیل کی طرح کام کرتے ہیں .پھر اگلے دس برس لومڑی کی طرح لوگوں ،سیاستدانوں کی جوتیاں اٹھاتے ہیں خوشامد کرتے ہیں ،اگلے بیس سال کتے کی طرح بھونکتے ہیں ہر آتے جاتے پر بھونکتے ہیں ،جس طرح اب مجھ پر بھونک رہے ہیں ،اگلے دس سال سانپ کی طرح ڈنگ مارتے ہیں اور آخری عمر الو کی طرح ادھر ادھر دیکھ کر دانشوری کرتے ہیں .یہ ایسے دانشور ہیں جن میں سے کوئی کتے کی عمر جی رہا ہے تو کوئی سانپ کی یا الو کی ،انکی شکلوں اور کرتوتوں میں کوئی تضاد نہیں ہے جیسے بوتھے ویسی بد شکل حرکتیں اور کارنامے انکی بھونک کو تو گلی کا آوارہ کتا نہیں توجہ دیتا میں تو پرواہ ہی نہیں کرتا .بل شٹ ،گو ٹو ہیل .
میرا تو دل چاہتا ہے کہ سب دنیا کو ایٹم بم سے اڑا دوں صرف میں ہوں ،میرے زہین قارئین ہوں ،میرے زہین مخلص دوست ہوں ،میرے مہربان اور دوست سیاستدان ہوں ،میری انگلی پکڑ کر سمجھنے بجھانے والے سینئر ہوں ،اور میرے بچے اور خاندان ہو باقی سب پر لعنت ہو اور لعنت ہو اس نقلی نا کام اور مردود جمہوریت پر اس سے بہتر چنگیز خان کی آمریت ہے.
.اس پیروڈی کا مقصد صرف طنز و مزاح ہے .کسی بھی رائیٹر یا شخصیت کی توہین و تذلیل مقصود نہیں ہے

.

Advertisements

2 thoughts on “حسن نثار کے کالم کی پیروڈی ، ایک فرضی کالم ،تحریر ثاقب ملک

  1. Pingback: حسن نثار کا ایک فرضی کالم | Laaltain

  2. Pingback: زید حامد کا ایک فرضی کالم | Laaltain

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s