اے عورتوں کی ختنہ کرنے والی کے بیٹے ،میری طرف آؤ .حضرت حمزہ بن عبد المطلب کی شہادت کا احوال پڑھیں .

یہ اقتباس ،یاسر جواد کی کتاب “اسلامی تاریخ کے اہم موڑ ” سے لیا گیا ہے.


حمزہ بن عبد المطلب دشمن سے لڑے ،انہوں نے الطاہ بن شرجیس بن ہاشم بن عبد مناف بن عبدلدار بن قصی کو اس روز ،جو قریش کے علمبرداروں میں سے تھا ،قتل کر دیا تھا .پھر ابو نیار سباح بن عبد الاذی انیبشانی ان کے پاس سے گزرا ،حضرت حمزہ نے اس سے کہا کہ اے عورتوں کی ختنہ کرنے والی کے بیٹے میری طرف آؤ .اس کی ماں انمار شریق بن عمرہ وہب الشقفی کی باندی تھی اور مکہ میں ختنہ کیا کرتی تھی .دونوں کا مقابلہ ہوا .حمزہ نے ایک ہی وار میں اسکا کام تمام کر دیا .
جبیر بن مطعم کا غلام وحشی کہتا ہے کہ اب تک حمزہ کی صورت میری نظروں میں ہے .ان کی حالت یہ تھی کہ وہ اپنی تلوار سے لوگوں کے پرزے پرزے کر رہے تھے خاکی رنگ کے اونٹ کی طرح جو چیز سامنے آتی اسے گرا دیتے تھے .میں نے اپنا بھالا نشانی زنی کے لئے ہاتھ میں لے کر ہلایا اور میں جب میں با لکل قریب اور مطمئن ہو گیا تو اسے ان پر پھینک دیا .وہ انکے پیڑو پر لگا اور دونوں ٹانگوں کے بیچ میں سے نکل گیا .وہ میری طرف بڑھے پھر زمین پر گر پڑے .میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا کہ دیکھوں انکا کیا ہوتا ہے جب وہ مر گئے ،میں نے جا کر ان کے جسم سے اپنا بھالا نکال لیا .میں لڑائی سے ہٹ کر فرودگاہ میں چلا گیا کیونکہ سواے انکے اور کوئی میرا مقصد نہ تھا.

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s