میں دسمبر میں سقوط ڈھاکہ کا دکھ مناؤں یا پشاور میں شہید ہونے والے بچوں کا ؟رخشان میر کا آرٹیکل

دسمبر جب بھی آتا ہے پاکستانیوں کے لئے دکھ کا سامان لاتا ہے . 147,570 رقبہ کلومیٹر کا صوبہ جو کہ رقبے کہ لحاظ سے تو باقی چاروں صوبوں سے چھوٹا تھا مگر اسکی آبادی باقی تمام صوبوں سے 40 ملین ز یادہ تھی کس کو معلوم تھا کہ پاکستان سے جدا ہونے کہ 44 سال بعد بھی اسی طرح تکلیف دیگا جیسے کہ 1971 میں دی. میں صحافت کا طالب علم ہوں اور تاریخ سے خوب لگاؤ رکھتا ہوں جسکی وجہ سے اپنی یونیورسٹی میں گاہے بگاہے کوئی نہ کوئی ایونٹ منعقد کرواتا رہتا ہوں . 2014 میں بھی ایسا ہی ہوا اسی مہینے سقوط ڈھاکہ کے موضوع پر گفتگو کرنے، اپنے اور دیگر طالب علموں کے علم میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ سقوط ڈھاکہ کے دکھ کو شیر کرنے کے لئے کچھ نامور صحافیوں کو دعوت دے رکھی تھی . یہ پروگرام ریکارڈنگ کے بعد ٹی.وی پر بھی نشر کیا جانا تھا . ایونٹ کی تیاری مکمل تھی اسٹیج تیار ہو رہا تھا اور کیمرے والے اپنی تیاریاں مکمل کر رہے تھے کہ اچانک مجھے ایک فون کال نے مطلع کیا پشاور پھر سے دہشت گردی کی نذر ہوا ہے . وہ کہتے ہیں  ناں کہ شراب کی کثرت ایک وقت آنے پر اپنا اثر کھو دیتی ہے . ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہوا ، دہشتگردی کا سن کر مجھے کوئی خاص فرق نہ پڑا گویا کہ پچھلے سال تک تو ہم ہر روز ہی ایسی خبریں سنتے رہتے تھے . کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے ، شکر ہے الله پاک کا جس نے راحیل شریف صاحب کی شکل میں ہمیں ایک سخت جان اور محنتی سپاہ سالار نصیب فرمایا اور اس دہشتگردی کہ ناسور سے ہماری جان چھوٹی . لاکھ بار پھر خدا کا شکر ہو.

peshawar attack
ایونٹ کی تیاریاں مکمل تھیں کہ صحافی صاحب تشریف لائے اور  ملتے ہی آگاہ کیا ، پشاور میں اسکول پر حملہ ہوا ہے ، خبریں مل رہی ہیں کہ بہت سے بچوں کی گردن پر گولی ماری گئی ہے. میں نے حواس باختہ ہو کر دریافت کیا ، کیا ؟ معید پیرزادہ صاحب یہ آپ کیا کھ رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں یہی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں . میرے پیروں تلے سے تو زمین ہی نکل گیی . آڈیٹوریم میں بیٹھے طلبہ و طالبات کو خاموش کرواتے ہوئے اس خبر سے مطلع کیا . کچھ کے تو رنگ اڑ گئے اور کچھ نے سنی ان سنی کردی.rukh pic
٥ منٹ بعد اپ ڈیٹ آئی کہ ١٠٠ سے زائد پھولوں کی مانند معصوم بچوں کو درندہ صفت انسانوں نے پوائنٹ بلینک پر گولی مار کر شہید کر دیا ہے . یقین کریں کہ انکے لئے لفظ ‘انسان ‘ استعمال کرنے سے مجھے اپنے آپ پر کوفت ہو رہی ہے .
ہال میں موجود ١٠٠٠ سے زائد نوجوانوں میں سے کچھ تو آنسوؤں کے ساتھ رونے لگے اور کچھ زندہ لاش کی طرح اسٹیج پر دیکھ رہے تھے . پروگرام کیا ریکارڈ کرنا تھا کہ جب معید پیرزادہ صاحب کہ ساتھ آے ہوئے ساتھی اینکر فواد چوہدری دھاڑیں مار کر رونے لگے . میں اس دسمبر کی شام کی بیچینی اور درد اپنے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا جبکہ وہ تکلیف ہے ہی ناقابل بیاں .
کچھ پروفیسر حضرات نے اسے انٹیلیجنس کی ناکامی کہا تو کچھ نے سول اداروں کی نا اہلی ، اور کرتے بھی کیا کچھ نہ کچھ نتیجہ اخذ کر کے اپنے علم کا رعب جو جھاڑنا تھا . مگر میں آج بھی نہیں سمجھ سکا کہ یہ فیلیرز ہمارے نصیب میں لکھے تھے یا ہمارے گناہوں کی سزا بن کر سامنے آتے ہیں؟ اب دسمبر میں ڈھاکہ ڈوبنےکا دکھ منائیں یا آرمی پبلک اسکول کے پھولوں کے جدا ہونے پر اشکبار ہوں ؟


Rukhshan

Writer is a student of mass communication with marketing major at University of Central Punjab. He writes about social issues and current affairs. He tweets @rukhshanmeerpk

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s