اچھی بیوی کی تلاش میں معاون سات اہم ترین نکات جو ہر کنوارے کو لازمی پڑھنے چاہئیں .

لڑکی حسین یا قبول صورت ؟
بیوی کے انتخاب میں شکل و صورت بہت بنیادی اہمیت کی حامل ہے .آپ کو چاہئے کہ نہ تو حور پری،کترینا،کرینہ ،دیپکا کے چکر میں پڑیں اور نہ ہی صرف سیرت کے چکر میں بد شکل لڑکی کر لیں .اگر لڑکی بہت ہی خوب صورت مل بھی جائے تو ،اول تو بہت کم ہی عورتیں حسین ہونے کے ساتھ ساتھ ،خوب سیرت بھی ہوتی ہیں .دوسرا اگر آپ صاحب استطاعت نہیں ہیں تو ایسی چاند جیسی بیوی کی آپ حفاظت ہمارے جیسے معاشرے میں نہیں کر پائیں گے .ناز نخرہ کو سنبھالنا اسکے علاوہ ہو گا .اگر لڑکی بہت بد شکل اور بد صورت ہے تو آپ خود بھی احساس کمتری کا شکار ہوں گے اور وہ لڑکی بھی عین ممکن ہے پہلے سے ہی احساس کمتری کا شکار ہو .یوں آپ کی زندگی عذاب بن جائے گی .کہیں آنا جانا مشکل ہو جائے گا .یہ کتابی ڈرامے پر نہ جائیں کہ شکل نہ ہوئی تو سیرت ہو گی حقیقت میں ایسا کم ہی ہوتا ہے .ایک نارمل قبول
صورت لڑکی جس کا اخلاق اور کردار اچھا ہو اسکا انتخاب کریں .
غریب یا امیر ؟
از حد مجبوری کے علاوہ ،اپنے سے بہت زیادہ بہتر مالی حیثیت کی لڑکی سے شادی نہ کریں اور نہ ہی اپنے سے بہت کمتر انتہائی غریب خاندان میں رشتہ کریں .اگر لڑکی والے بہت امیر ہوں گے تو زیادہ امکان ہے کہ آپ پوری عمر انہی کے دست نگر رہیں گے .آپ کا اعتماد اور مستقبل میں باپ کا رول ادا کرنے کی صلاحیت میں کمی واقع ہو گی .دوسرا امیر لڑکی کا انتہائی اور یکسر مختلف ماحول میں ایڈجسٹ کرنا سواۓ فلموں ڈراموں کے نا ممکن ہے .اسی طرح اگر لڑکی بہت غریب ہو گی تب بھی اسکے رویے اور طور طریقوں میں بہت فرق ہو گا .یہ فریب زدہ جملے بھول جائیں کہ غریب شریف ہوتے ہیں .آج کل غریب امیر کوئی بھی شریف یا کم لالچی نہیں ہے صرف مواقع ملنے کی بات ہے .
اعلی تعلیم یافتہ یا کم پڑھی لکھی ؟
تعلیم کی بہت زیادہ اہمیت ہے .کیونکہ اکثر کم پڑھی لکھی اور جاہل عورتوں میں پھوہڑ پن ،جھگڑالو پن ،اور جہالت بہت زیادہ ہوتی ہے .اب وہ زمانہ نہیں رہا جب والدین اور بڑی بوڑھیاں اپنی لڑکیوں کی گھر میں تربیت کرتی تھیں .سو سوچ سمجھ کر ایک پڑھی لکھی اور سب سے اہم بات زہین معاملہ فہم لڑکی سے شادی کریں .آپکی زندگی مزے میں بلکہ اگر آپ بھی معاملہ فہم ہیں تو دونوں کی مزے میں گزرے گی .کسی ذہنی کمپلکس کی وجہ سے اپنے سے کم پڑھی لکھی لڑکی سے شادی نہ کریں بلکہ کوشش کریں کہ آپ سے زیادہ ہی پڑھی لکھی ہو .یہ گھر ، خاندان ، اور معاشرے کے لئے انتہائی اہم بات ہے .
حسب و نسب والی یا بغیر حسب نسب کے ؟
خاندان کو اہمیت دینے کا تو اسلام میں بھی تذکرہ ہے .اگر لڑکی والوں کی ذات برادری کا معلوم ہے تو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے .مگر صرف حسب و نسب پر ہی فیصلہ نہیں کیا جاتا بلکہ جو کردار ارو رویہ سامنے نظر آے اسکو اس کی ذات برادری یا قبیلے کے عمومی کردار ،اخلاق اور رویے سے میچ کریں اگر بہت زیادہ فرق ہے تو معاملہ گڑ بڑ ہو سکتا ہے .لیکن آج کل شہروں میں کسی کی ذات کا درست پتا چلانا مشکل ہو چکا ہے .اس نکتے کو بہت احتیاط سے ہینڈل کرنا چاہئے .
جہیز لیں یا نہ لیں ؟
جہیز کو شادی کا لازمی جزو بنا دینا ایک ظلم ہے .ایسی لعنت سے چھٹکارا ضروری ہے .مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ میاں بیوی نے اسی معاشرے میں زندہ رہنا ہے .اگر تو اتنی ،مالی ذہنی اور اعصابی طاقت ہے کہ بغیر جہیز کے آرام سے زندگی گزر سکتی ہے تو ٹھیک ہے با لکل جہیز نہ لیں .لیکن بہتر ہو گا کہ آپ جہیز کے بجائے لڑکی کے والدین سے کوئی پلاٹ وغیرہ یا سونا دینے کو رد نہ کریں .اس سے لڑکی کو احساس ہو گا کہ وہ کوئی مفت میں نہیں آئی اسکی ایک مالی ویلیو بھی ہے .ہمارے معاشرے میں یہ ضروری ہے .اس طرح نہ آپکو اور نہ لڑکی کو کسی قسم کا جملہ نہیں سننا پڑے گا .لیکن باقی جہازی لوازمات سے لازمی گریز کریں .
والدین کی مرضی یا اپنی مرضی ؟
اگر تو رشتے داروں میں شادی کرنی ہے یا کر رہے ہیں تو اپنے والدین کی بات کو زیادہ اہمیت دیں .اگر امی کے رشتے داروں میں شادی ہو رہی ہے تو امی یا ابو کی رائے دونوں کو غور سے جائزہ لے کر پرکھیں کہ اپنے اپنے رشتے داروں کے متعلق دونوں جذباتی ہو سکتے ہیں .ایسے موقع پر ابو کی رائے زیادہ اہمیت کی حامل اور درست ہو گی .اگر ابو کے رشتے داروں میں شادی ہے تو امی کی رائے پر زیادہ غور کریں .دونوں کی اموشنل بلیک میلنگ میں نہ آئیں کہ یہ پوری زندگی کا روگ بن سکتا ہے .اگر تو رشتے داروں سے باہر شادی ہے تو خوب چھان چھٹک کر فیصلہ کریں .اپنے والدین کے بجائے اپنی نگاہ اور اندازے بھروسہ کریں .کسی بھی حالت بھی مجبوری کی شادی نہ کریں .خود اگر آمادہ ہیں تب ہی شادی کریں .
لو میج یا ارینج ؟
لو میرج سے ہر ممکن حد تک پرہیز کریں اگر عشق اور محبت کا بھوت اتنا ہی سوار ہے تو الله سے اچھی ازواجی زندگی کی دعا مانگ کر شادی کر لیں .ویسے محبت کی نوے فیصد شادیاں ناکام ہوتی ہیں کہ محبت ہوتی ہی نہیں ہے ایک وقتی جذبات کا غلبہ ہوتا ہے .ارینج میرج سب سے بیسٹ ہے .لیکن شادی نبھانا پھر بھی آپکی ہی ذمہ داری ہے بعد میں آپ یہ جملہ نہیں کہہ سکتے کہ آپ سب بھی تو اس شادی کے حمایتی تھے .اس لئے ناکامی آپکے گلے ہی لگے گی .کامیابی پر ہر کوئی حصہ دار بن جائے گا اور اسکو بننے دیں

.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s