زید حامد پر پیروڈی کالم.ایک فرضی سفرنامہ ،تحریر ثاقب ملک

الحمداللہ ہم اپنے شاہی تخت پر برا جمان تھے .کنیزیں ہماری خدمت کر رہی تھیں .ہم نے تھرڈ جنریشن وار سٹریٹیجی کے تحت کنیزوں کواپنی خدمت پر مامور کیا تھا .الحمد الله کترینا اور دیپیکا کو انکے لمبے قد کی وجہ سے پنکھا جھلنے پر متعین کیا گیا ہے .ایشوریا اور کرینہ کو انکے ہاتھوں کی حدت کی وجہ اپنی ٹانگیں دبانے پر لگایا ہوا ہے .سوناکشی ہمیں ‘چوری’ کھلا رہی تھی کیونکہ وہ اس کام میں ماہر ہے . یہ کنیزیں ہمیں لال قلعہ کی ادھوری فتح کے صلے میں مال غنیمت میں ملی تھیں .الحمد الله ،انشاء الله ہم اس وقت اپنی فتح مبین مکمل نہیں کر سکے تھے کہ ہم نے اپنی اہلیہ کے ساتھ واپس پاکستان آ کر منگل بازار بھی جانا تھا .الحمد الله میرے بچو آپ کی مدد سے ہم لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے .اچانک ایک سبز ہلالی کبوتر نے آ کر ہمیں ایک خط ،دینا چاہا.اس نے پاس آنے کی اجازت مانگی ،”عالی جاہ میں آپکے قریب آنا چاہتا ہوں “.ہم نے فرمایا اجازت ہے .اس کبوتر نے فورا ہمارے کندھے پر بیٹھ کر بیٹ کر دی اور تیزی سے اڑ گیا اس وقت اس کبوتر کی رنگت بھی بدل کر جیو ٹی وی جیسی ہو گئی تھی .ہمیں یقین ہو گیا کہ اس نا ہنجار کبوتر نے جو حامد میر کی طرح بیٹ کی ہے یہ ،صہیونیوں ،را ،جیو اور سفما کی سازش ہے .ہم نے خادم سے کہا کہ ہمیں خط پڑھ کر سنایا جائے .خادم نے کہا خط میں لکھا ہے .اقبال نے کہا ہے
“جس نے ماں کو ستایا اس نے رکشہ چلایا “
خادم نے خط کا اگلا حصہ بھی پڑھا کہ اقبال نے فرمایا
سواری پیچھے کرینہ ، کترینا
ڈرائیور آگے پسینہ پسینہ
ہم نے جان لیا کہ یہ صہیونیوں نے شاعر مشرق اقبال ، ہماری کنیزوں اور ہمارے رکشے یعنی براق پر وار کیا ہے .ہم نے براق کا نام محبت رسول کی وجہ سے رکھا ہے .جیسے پاک آرمی کے میزائل کا نام براق ہے .اس سیکولر ،خط پر ہمیں بہت غصہ آیا .مگر الحمد الله ہمارے مقاصد بہت بلند ہیں .اسی اثنا میں ہمیں وائبر پر قسطنطنیہ کے فرماں روا کا پیغام آیا کہ” آپ اپنے لشکر کے ساتھ جلدی سے قسطنطنیہ پہنچیں کہ یہاں پر صہیونی سنڈیوں نے فصلوں پر حملہ کیا ہوا ہے اور ہمیں تھرڈ جنریشن اور کولڈ وار کے سپیشلسٹ کی ضرورت ہے .”ہم نے امت مسلمہ کی بھلائی میں فورا قسطنطنیہ کا قصد کیا .ہم نے اپنا لشکر یو ایس بی میں ڈالا، اپنے براق کو ایڑ لگائی اور اس پر پر سوار ہو کر قسطنطنیہ کے ساحل پر پہنچ گئے .ہم نے بر وقت سنڈیوں کا تہ و تیغ کر دیا .ان یہودیوں ،صہیونی سنڈیوں نے میڈیا کے ذریعے ،قسطنطنیہ میں عذاب مچا رکھا تھا .z hamid.jpg
قسطنطنیہ کے بعد ہم نے بغداد کا قصد کیا .بغداد میں ہمیں تھرڈ جنریشن وار سٹریٹیجی پر بغداد کے خلیفہ اور شوریٰ کو لیکچر دینا تھا .ہم اپنے براق پر بغداد کے ساحل پر اترے .میرے نوجوانوں ،تم ہر گز سفما ،اور جیو کے پراپیگینڈے میں نہ آنا جو وہ کہیں گے کہ بغداد کا تو ساحل ہی نہیں ہے .ساحل ہو یا نہ ہو ہم ہمیشہ ساحل پر ہی اترتے ہیں .یہ الله رب العزت کا ہم پر خاص کرم ہے .ہم نے بغداد کے خلیفہ کو سمجھایا کہ تھرڈ جنریشن وار کا مطلب کیا ہے اور یہ کیسی لڑی جا سکتی ہے ؟ ہم نے انہیں تھرڈ جنریشن وار کی عملی ایکسرسائز کر کے دکھلائی .ہم نے کہا کہ خلیفہ صاحب آپ ہمارے لئے تین بندروں کا بندوبست کریں .انہوں نے بندر پورے پروٹوکول کے ساتھ ہمارے حوالے کر دیے . ہم نے ان تینوں بندروں کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا . ان تینوں بندروں نے خلیفہ اور ہمیں اقبال کے شعرسنائے .پہلے بندر نے کہا
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
دوسرے بندر نے کہا
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے ،شاہین کاجہاں اور
تیسرے بندر نے کہا
نہیں تیرا نشمین قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر
فضا الله اکبر ،نعرہ تکبیر کے شور سے گونج اٹھی .اب تھرڈ جنریشن وار کا سب سے مشکل مرحلہ آن پہنچا کہ پہلے ایک بندر نے ہمارے دائیں گال پر جھانپڑ مارنا تھا ،دوسرے نے بائیں گال پر اور تیسرے نے پشت پر چپت لگانی تھی .الحمد الله امت مسلمہ کی امداد کے لئے ہم نے یہ سب بغداد میں کر دکھایا .
اب ہم نے براق کو ایڑ لگائی اور غرناطہ کا قصد کیا .غرناطہ کے ساحل پر پہنچ کر ہم نے الحمرا میں جا کر نماز پڑھی .وہاں سے ہم اندلس کے ساحل پر جا اترے .اندلس میں طارق بن زیاد کی یاد میں ہم نے والز میگنم کی ڈنڈوں سے بنی کشتی جلائی .اندلس سے ہم دمشق کے ساحل پر اترے ،دمشق سے ہم دیبل کے ساحل پر گئے ،وہاں سے پھر ہم غرناطہ واپس آ گئے ،چاشت کی نماز ادا کی .غرناطہ میں صہیونیوں نے ہمارے براق میں پٹرول کے بجائے سرسوں کا ‘کوڑا ‘ تیل ڈال دیا .ہم وہاں براق یعنی رکشے کی خرابی کی وجہ سے کافی دیر تک رکے رہے .وہاں سے دیبل میں موجود محمد بن قاسم نے ہمیں وٹس ایپ پر میسج کیا کہ آپ کے لئے نیک تمنائیں ہیں .ہم نے جواب میں اپنے خادموں کو محمد بن قاسم کومیڈ ان چائنا باربی کنیزیں بھیجوانے کا حکم دیا .واپس دمشق آ کر کر ہم نے نناوے بار قسطنطنیہ ،قسطنطنیہ کا ورد کیا .وہیں پر ہمیں سعودی شرطوں نے مولانا طاہر اشرفی جیسے غلیظ ،نا پاک صہیونی ایجنٹ،حامد میر، را کے ایجنٹ،ماروی سرمد ،زنانہ را کی ایجنٹ،نصرت جاوید ،اسرائیل موساد کے ایجنٹ،امتیاز عالم ،ان تمام کے ایجنٹ ،ان ایجنٹوں کی سازش کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا .
لیکن گرفتاری کے کچھ ہی عرصے بعد سعودیوں کو ہماری اہمیت کا اندازہ ہو گیا .ہمیں سیون سٹار پروٹوکول ملنے لگا .وگر نہ اس سے پہلے تو ایک سعودی تفتیش کار نے ہم سے تفتیش کے دوران یہ گستاخانہ سوال بھی کر ڈالا کہ “تہاڈی ستھن نی جیب تو چرس دی پڑی ملی ہے گی ،سانوں کنے دی دیو گے ؟ ” .ہم نے اس گستاخ کا دماغ درست کر دیا کہ ہم نشہ نہیں کرتے اور نہ ہی بیچتے ہیں یہ سفما ،جیو ،را اور صہیونی سازش ہے .گرفتاری کے فورا بعد یہ فیصلہ بھی ہو گیا تھا کہ ہمیں سو کوڑے ،قسطنطنیہ کے ساحل پر جا کر لگائے جائیں گے ،سو کوڑے دمشق کے ساحل پر ،سو کوڑے بغداد کے ساحل پر ،سو ،دیبل،سو،غرناطہ ،سو اندلس ،سو سمرقند میں جا کر ،سو جی ایچ کیو ،راولپنڈی کے ساحل پر ،سو دوبارہ قسطنطنیہ کے دوسرے ساحل پر جا کر لگائے جائیں گے .مگر بعد میں جب سعودیوں کو ہماری اہمیت کا احساس ہوا،ہمیں سزا نہیں دی گئی اور ہمیں رہا کر دیا گیا .
اس کالم کا واحد مقصد طنز و مزاح ہے ،کسی بھی شخصیت کی توہین و تذلیل مقصود نہیں ہے.

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s